جل پری

razia syed

سعودعثمانی دھیمے لہجے کے نفیس شاعر ہیں ۔ ’’ جل پری ‘‘ ان کی شاعری کی تیسری کتاب ہے جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے ۔ اس سے قبل انکی پہلی تصنیف( قوس ) 1997 کو ’’ وزیراعظم ادبی ایوارڈ ‘‘ مل چکا ہے ۔ جبکہ ’’ بارش ‘‘ نامی دوسری کتاب 2007 میں شائقین سے مقبولیت کی سند پا چکی ہے ۔ شاعری کی اس دوسری کتاب کو ’’ احمد ندیم قاسمی ایوارڈ ‘‘ سے بھی نوازا گیا ہے ۔
سعود عثمانی نے اپنی اس زیر نظر کتاب میں دو دنیاؤں میں رہنے کا ذکر کیا ہے ، ایک زمانہ خو د شناسی کا ہے اور دوسرا دور گمنامی کا ۔ شاید وہ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ جل پری جو ایک سمندری مخلوق ہوتی ہے وہ بھی دو دنیاوں کی ہی باسی ہوتی ہے اسکا ذکر صرف قصے کہانیوں اور مختلف زمانوں میں ہی ملتا ہے لیکن ہم اپنے ذہن کے کسی بھی پردے پر اسے حقیقت کا روپ دے کر ایک دوسری دنیا میں بھی لے آتے ہیں ۔ جل پری کے عنوان سے ان کی ایک طویل نظم بھی اس مجموعہ کلام میں شامل ہے ۔
سعود کی شاعری میں ایک جانب ربوبیت اور اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار بھی ہے تو دوسری جانب وہ نبی آخر الزماں کو بھی مشکل کشا قرار دیتے ہیں ۔ ان کے ہاں محبوب کی مدح سرائی بھی ہے لیکن دنیا کی بے ثباتی کا ذکر بھی ملتا ہے ۔ وہ دنیا کے بنائے ہوئے خداؤں سے بے زار نظر آتے ہیں ۔
اے شافع محشر مری دھرتی پہ نظر کر
مٹی پہ قیامت سی بپا ہونے لگی ہے
سجدوں کو بھلا کیسے بچائیں ، کہ یہاں تو
ہر قسم کی مخلوق خدا ہونے لگی ہے

jal pariسعود ایک شاعر کو بے سکون روح سے تعبیر کرتے ہیں کہ جس کے قلم کی نوک پر لفظ آنے کے لئے مچل سے جاتے ہیں ، اس کتاب میں آزاد بحر کی نظم بھی ہے اور منظوم نظمیں اور غزلیں بھی، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کی طباعت ، صفحات ، پرنٹنگ بہت خوب صورت ہے کہ دیکھنے والا پہلے کتاب کے سحر میں کھو سا جاتا ہے ، کتاب میں نشانی ( بک مارک ) بہت نفیس ہے اور دل چاہتا ہے کہ کتاب فورا ہی پڑھ لی جائے ۔ ’’ جل پری ‘‘ کے اعلی ایڈیشن کی قیمت 800 جبکہ غیر مجلد کی قیمت تین سو روپے ہے جبکہ اسے ’’ کتب نما پبلشر‘‘ دینا مینشن لاہور کے زیر اہتمام شائع کیا گیا ہے ۔
آخر میں آپ سب کے ذوق کے لئے اس کتاب کے چند اشعار اور بند آپ کی نذر

اور اب جو تم بھی نہیں ہو تو میرے چاروں طرف
نہ کوئی عکس ، نہ خوشبو ، نہ آئنے ، نہ بہار
اور اب جو تم بھی نہیں ہو تو یخ ہواؤں میں
میں برگ زرد کی صورت پناہ ڈھونڈتا ہوں

سنہری دھوپ ، ہری گھاس اور تری خوشبو
کہ جیسے تو ہے مرے پاس اور تری خوشبو

نت نئی شکل میں ڈھلنے والے
لوگ تھے روپ بدلنے والے
سانس لینے کوابھرتی ہے زمیں
کچھ جزیرے ہیں نکلنے والے
لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت
جس طرح نیند میں چلنے والے
دھجیاں ہونے لگا جسم سعود
سارے ملبو س ہیں گلنے والے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *