مشرقِ وسطیٰ میں ایک ریاست کا قیام

Irfan Hussainعرفان حسین

جس طرح ایک ٹرین اپنے آخری سٹاپ کی طرف بڑھ رہی ہو، جہاں اس نے ہر صورت میں پہنچنا ہو، مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ہونے والے مذاکرات اُسی طرح اپنے انجام تک پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام آج بھی اتنے ہی فاصلے پر ہے جتنا گزشتہ سال ، جب امریکی ثالثی میں یہ مذاکرات شروع ہوئے۔ اگر کوئی فرق پڑا ہے تو یہ کہ امن کی فضا مزید مکدر ہوچکی ہے جبکہ اسرائیل مغربی کنارے پر مزید بستیاں تعمیر کرنے کے جنون کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے۔
’’زمینی حقائق‘‘ کومسلسل توڑ مروڑ کر اس نہج پر ڈھالتے ہوئے اسرائیل نے عملی طور پر اس بات کو یقینی بنالیا کہ آزادفلسطینی ریاست کے ابھرنے کے امکانات معدوم سے معدوم تر ہوتے جائیں۔ مغربی کنارے، جہاں پہلے ہی لاتعداد اسرائیلی بستیاں چیچک کے نشانات کی طرح اس علاقے کو داغدار کیے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان سڑکوں، جنہیں صرف اسرائیلی شہری ہی استعمال کرسکتے ہیں، کا جال بچھاہوا ہے،پر فلسطینی ریاست کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ۔ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے اس خطے کے معروضی حالات کے آئینے میں ان تھک کوششیں کرتے ہوئے بہت جرات کا مظاہرہ کیا اور طرفین کو کسی ڈیل پر راضی کرلیا۔ اس ضمن میں کچھ جگہوں کے تبادلے کی بھی بات کی گئی جہاں اسرائیل کے اندر فلسطینی باشندوں کو رہنے کی اجازت دی جانی تھی لیکن اگر بی بی نتن یاھو کی حکومت مقبوضہ علاقے پر مزید بستیاں تعمیر کرنے پر مُصر ہو توپھر اس سے یہ گمان کیسے کیا جاسکتا ہے کہ وہ اتنی لچک دکھائے کہ فلسطینی باشندوں کو اپنی سرزمین پر قدم رکھنے دے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے اسرائیل نے بیت المقدس اور مغربی کنارے پر قبضہ کیا ہو ا ہے(اس نے ایسا 1967 میں کیا تھا) ، اس نے کبھی بھی مقبوضہ علاقوں سے واپسی کا نہیں سوچا ۔ کئی سالوں سے اس نے اپنی سیکورٹی کے بہانے سے مقبوضہ علاقوں پر اپنا تسلط جمائے کر یہ تاثر دیا ہے کہ نوخیز اور کمزور فلسطینی ریاست اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے ، حالانکہ عسکری اعتبار سے دنیائے عرب میں اس کا کوئی حریف نہیں۔ اسرائیل نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر بھی اسی وجہ سے قبضہ جمارکھا ہے۔
اگرچہ موجودہ مذاکرات امریکہ کی ثالثی میں ہوئے لیکن امریکہ خود بھی ان کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے میں دیانت داری کا مظاہرہ نہیں کررہا۔ اس کی داخلی سیاست تل ابیب پر بہت کم دباؤ ڈالنے کی اجازت دیتی ہے ۔ چنانچہ اسرائیل کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو مزید دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے اپنے لیے مزید جگہ گھیرے۔ AIPAC(امریکی اسرائیلی لابنگ پاور ھاؤس) کے ذریعے کام کرتے ہوئے نتن یاھو نے اس بات کو یقینی بنالیا کہ امریکی قانون سازوں کی اکثریت ان کی بے لچک پالیسی کی حمایت کریں۔ اس کھیل میں جان کیری کی پوزیشن بہت کمزور تھی ، خاص طور پر جب مسٹر اوباما کی توجہ کسی اور طرف مرکوز ہو اور وہ اس معاملے کو دور سے ہی دیکھنے کو ترجیح دیں۔ امریکی میڈیا پر اسرائیل کا اثر کس قدر گہرا ہے، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں ’’نیویارک ٹائمز ‘ کے ایک آرٹیکل میں ایک جملہ تھا...’’ فلسطینی کس برتے پر مغربی کنارے کے حوالے سے اسرائیل کے سامنے مزاحمت کی بات کرتے ہیں!‘‘ تمام آزاد دنیا کم از کم زبانی طور پر فلسطینی موقف کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیلی جبرکے سامنے ان کی مزاحمت کی تعریف کی جاتی ہے لیکن ’’نیویارک ٹائمز ‘‘ جوایک محترم اور لبرل اخبار ہے، اس لہجے میں فلسطینی باشدوں سے مخاطب ہو تو پھر دیگردائیں بازو کا میڈیا، جیسا کہ فاکس نیوز، فلسطین کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہوگا۔ AIPAC کی طرف سے برس ہا برس سے کی جانے والی لابنگ سے بہت سے امریکی باشندے اسرائیلی موقف کے قائل ہوچکے ہیں۔ اب کوئی بھی طاقتوراسرائیلی لابی کو ناراض کرنا پسند نہیں کرتا۔ دیا گیا تاثر یہ ہے کہ ’’آمر ریاستوں ‘‘ کے درمیان واحد جمہوری ریاست، اسرائیل، کو ہر قیمت پر تحفظ دیا جانا چاہیے۔ جب انتہائی اصول پرست سیاست دان جمی کارٹر 1976 میں وائٹ ھاؤس میں موجود تھے، تو اُنہیں بھی اسرائیل نواز لابی کو خوش رکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا تھا...’’ ہماری اسرائیل کے لیے حمایت صرف دفاعی ضرورت ہی نہیں ،اخلاقی تقاضا بھی ہے۔‘‘بہرحال بعد میں مسٹر کارٹرنے ا سرائیل کا اصل چہرہ بھانپ لیا اور اس کے غاصبانہ قبضے پر کھل کر تنقید کی... اور ایسا کرتے ہوئے وہ اسرائیل نواز لابی میں انتہائی غیر مقبول ہوگئے۔
یہ بات واضح ہے کہ جب اسرائیل کسی پرامن فارمولے پر پہنچنے ، جس کے لیے زمین سے دستبردار ہونا پڑے، پر راضی ہی نہیں اور امریکہ بھی اپنے اس حلیف پر دباؤ ڈالنے کا رودار نہ ہو تو پھر اس خطے میں ’’دو ریاستوں کے قیام ‘‘ کے حل کی طرف بڑھنا کس طرح ممکن ہو گا۔ فلسطینی باشندوں کو عرب دنیا کی طرف سے ملنے والی حمایت میں گرم جوشی کا فقدان ہے ۔ مصر کی فوجی حکومت ان سے مخاصمت رکھتی ہے اور اس نے غزہ کو امداد پہنچانے والے راستے کو بند کردیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلم ریاستوں کے درالحکومتوں میں اس مسلے کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں لیکن دنیا بھرکے انتہا پسند مسلمان گروہ اس خطے میں ہونے والے واقعات کو ایک مخصوص زاویے سے دیکھتے ہیں۔ انتہاپسند تنظیمیں اس خطے میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا پرچار کرتے ہوئے لند ن سے لے کر لاہور تک مسلم نوجوانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرتی ہیں۔ امریکی جنرل کانگرس کو بتاچکے ہیں کہ صرف اس ایک مسلے کی وجہ سے ہی مسلم دنیا میں امریکہ کے امیج کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔
نجی ملاقاتوں میں بہت سے امریکی اور یورپی دوست مجھے بتاتے ہیں کہ فلسطینٰیوں کے ساتھ روارکھے جانے والے اسرائیلی جبر کو دیکھ کر سکتے میں آجاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر سیاست دان اسرائیلی موقف کو رد کرنے کا خطرہ مول لینے کا حوصلہ نہیں کرپاتے ۔ آج کل فلسطینی باشندوں کی طر ف سے شروع کی جانے والی BDS(Boycotts, Divestment, Sanctions) تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ اس تحریک کے پلیٹ فارم سے اسرائیل کی تیار کردہ مصنوعات، خاص طو ر پر اگر وہ مغربی کنارے پر واقع کسی فیکٹری میں تیار کی گئی ہوں، کا بائیکاٹ کرنے اور اسرائیلی کمپنیوں کے شیئرز نہ خریدنے کا دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فن کاروں اور دانشوروں کابھی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کاشوں کو قابلِ تعریف کہا جاسکتا ہے لیکن یہ اسرائیل پر واجب دباؤ ڈالنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔ اس وقت اسرائیل کو امن چاہیے لیکن وہ اپنی شرائط اور زمین کو اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے امن چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کے پاس امریکہ کی کھلی اور غیر مشروط حمایت موجود ہے۔ دوسری طرف عرب دنیا میں پھیلی ہوئی افراتفری بھی فلسطینی مسلے کو فائدہ نہیں پہنچارہی ہے۔ اس کے علاوہ ، ایک اور سوچ جڑ پکڑرہی ہے... بہت سے فلسطینی باشندے ’’ایک ریاست ‘‘ کی بات کرناشروع ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے شہری بن کر رہنا چاہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ممکن ہوجائے لیکن وہ مساوی شہریت حاصل نہیں کرسکیں گے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *