یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟

adnan khalid.

اخلاقی قدریں بے وقعت ہونے لگ جائیں توبے راہروی اور ہیجانی کیفیات کا فروغ بالاخر گینگ ریپس پر ہی منتج ہوا کرتاہے کیا ہوا ؟کون سا پہاڑ گر گیا جوکمسن بچیاں یا بچے د رندوں کی ناپاک جسمانی خواہشات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں یہ تو اب ہر روز کا معمول ہے۔کہیں راہ جاتی بچی یا بچے کو دبوچ لیا گیا تو کسی کے لیے اس کی کمزوری اور غریبی ہی اس کی دشمن ثابت ہوئی ۔ذرائع ابلاغ میں ان واقعات کی تشہیر کر کر کے مظلوموں کی رہی سہی عزت کو بھی مٹی میں ملا دیا جاتا ہے یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ،آئے روز بچے اور بچیاں ہوس ناک نگاہوں کا شکار بن رہی ہوتی ہیں اخبارات اور ذرائع ابلاغ چیخ چیخ کر معاشرے کے اس نا سور کو اجاگر کر رہے ہیں لیکن سوسائٹی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کسی کو ماڈل بننے کے شوق نے گمراہ کر دیا تو کسی کو اس کی معاشی مجبوریوں نے بھیڑیوں کے چنگل میں پہنچا دیا ، کسی کو پر تعیش زندگی کے خواب بے راہ کر گئے تو کسی کو سوسائٹی میں بلند مقام کی خواہش نے رسوا کروا دیا ،کسی کا حسن اس کی جان کا عذاب بن گیا اور کسی کو نا کردہ گناہوں کے لیے سزاوار ٹھہرا دیا گیاکچھ منظر نامے پر آگئے اور بہت سے خاموشی کی چادر اوڑھ کر قسمت کا لکھا جان کرخاموش ہوگئے نہ تو حکومت کو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی حکومتی اداروں کو ۔خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین اور ادارے بنتے ہیں بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن یہ نا سور ہے کہ اس کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہیں حکومت،معاشرہ،ادارے سبھی بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں نہ مذہب آڑے آتا ہے نہ اخلاقیات ۔2014کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں عصمت دری کے 2560کیسز رجسٹر ہوئے جبکہ 2015میں یہ تعداد 2555تھی یعنی بڑی حد تک قابو پالیا گیا لیکن کون نہیں جانتا کہ اسی فیصد کیسزسماجی نظام ،با اثر ملزمان یا نام نہاد عزت کی وجہ سے منظرِعام پرہی نہیں آپاتے ،ہر تین گھنٹوں میں ایک لڑکی یا عورت فطری معصومیت سے محروم کر دی جاتی ہے لیکن راوی پھر بھی چین ہی چین لکھتا ہے۔
دینی اور سماجی حلقوں نے بھی اس سنگین مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیارکررکھی ہے جنسی جرائم کے خلاف نکاح کو بطور ہتھیار رواج دینے کی بجائے فروعی اختلافات میں الجھنا اہم خیال کیا گیا، حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدفِ تنقید بنانے والوں نے اپنے کردار کا تعین کرنا کبھی ضروری ہی نہیں سمجھا ۔ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑمیں بے مہار میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے نا پختہ ذہنوں اور جذبات کو برانگیختگی کے جہنم میں جھونک ڈالا ہو تو جائز ،نا جائز کی تفریق کہاں رہ جاتی ہے رسوم و رواج کی بیڑیوں نے نکاح جیسے آسان ترین عمل کو دشوار ترین بنا دیا ہو، حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہوں تو یہ تعداد روز بروز بڑھتی ہی جائے گی جب طاقت اور پیسہ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائیں تو کس کس کو روکا جا سکتا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی صورتحال تو ہونی ہی ہے آج تک کتنے مجرموں کو سزا مل سکی کتنے بگڑے ہووؤں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکا،اگر معاشرہ یا حکومت سنجیدہ ہوتی تو ان جرائم میں ملوث افراد کے کیسز خصوصی عدالتوں میں چلا کر ان کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ یا حکومت واقعی سدباب کا سوچتی اور ان عوامل کا ہی قلع قمع کرنا چاہتی تو نوجوانوں کو نکاح میں آسانی کے لیے قرضِ حسنہ کی سکیم کا اجراء کرتی غریب اور مستحق بچیوں کی شادیوں کا انتظام کرواتی مخیر حضرات اور سماجی ادارے اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرتے ،علماء اور اساتذہ آئیڈیلزم کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مناسب تربیت کے ذریعے نکاح کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے بلکہ اگر ضروری سمجھا جاتا تو قانون سازی کر کے شادی کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ عمر کا تعین کر دیا جاتا اور پھر بھی اگر کوئی اس مکروہ جرم کا مرتکب پایا جاتا تو اسے دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا تاکہ آئندہ کسی کی بیٹی اخباروں کی سرخیوں کی زینت نہ بنتی ،سکولوں اور کالجوں میں اخلاقی اور ذہنی تربیت کے لیے خصوصی کورسز متعارف کر وائے جاتے ذرائع نشریات کو سختی سے مانیٹر کیا جاتا ،ظالم خواہ کتنا ہی با اثر اورطاقت ور کیوں نہ ہوتااگرخود ریاست ایسے کیسوں میں فریق بن جاتی تو مظلومین کو فوری اور سستا انصاف میسر آسکتا اور پست ذہنیت کے حامل لوگوں کو پتہ ہوتا کہ انجام بالآخر عبرت ناک ہونا ہے لیکن اگر ان خوابوں کو تشنہ ءِ تعبیر ہی رہنا ہے ،اگر ایسا کرنا ناممکن ہے ،حکو مت ایسے واقعات کی روک تھام میں ناکام ہو چکی ہے،بے راہروی پر قابو پانا خواب محسوس ہو تا ہے،اخلاقی پستی کو روکنا محال ہو گیا ہے ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو وی آئی پی ڈیوٹیز سے فرصت نہیں ہے تو پھر حکمرانوں کو اپنے آئیڈیل ملک ترکی کی پیروی کرتے ہوئے جسم فروشی کو یہاں بھی جائز قرار دے دینا چاہیے ۔ترکی میں پینل کوڈکے لا نمبر 5237کے آرٹیکل 227کے تحت جسم فروشی کی اجازت دی گئی ہے بلکہ سیکس ورکرز کے لیے اصول وضوابط بھی وضع کیے گئے ہیں ۔سیکس ورکرز کو محکمہ صحت سے اجازت نامہ لے کر باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں 2008میں پہلی مرتبہ ترکی میں سیکس ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکس ورکرز یونین قائم کی گئی ۔اس وقت ترکی میں ایک لاکھ کے قریب سیکس ورکرز خدمات انجام دے رہی ہیں جن کی عمریں 15سے 40سال کے درمیان ہیں باقاعدہ طور پر قحبہ خانوں سے منسلک سیکس ورکرز کی تعداد 3000کے لگ بھگ ہے جبکہ 15000پولیس سے رجسٹریشن حاصل کر کے دھندہ چمکاتی ہیں ،اسی طرح 30000سیکس ورکرز نے لائسنس کے حصول کے لیے درخواست دے رکھی ہے اگرچہ اس وقت بھی ترکی میں اسلام پسند حکمرانوں کی حکومت ہے لیکن اس دھندے سے ترکی سالانہ چار ارب ڈالر تک کما رہا ہے اگر ہمارے حکمران اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از یہاں بھی جسم فروشی کو قانونی جواز دے کر ہوس پرستوں کو شرفا کی عزتوں سے کھیلنے سے باز رکھ سکتے ہیں اس کاروبار کو قانونی حیثیت دے کر کم از کم والدین کے اپنی اولاد کے حوالے سے تفکرات کو تو کم کیا جا سکتا ۔بھیڑیوں کو اپنی بربریت سے باز نہیں رکھا جا سکتا تو انھیں جنگلوں یا پنجروں میں ہی محدود کر دیا جائے تاکہ بچوں کو سکولوں کالجوں یا بازاروں میں بھیجتے ہوئے والدین انجانے خدشات سے تو محفوظ رہ سکیں۔کیوں کہ یہ اسلامی جمہوریہ ءِ پاکستان ہے جہاں سب کی عزت ،جان،مال کا تقدس برابر سمجھا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *