کامیاب بچوں کے والدین کی خصوصیات

کریٹیو کامنز فوٹو

تمام اچھے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے مشکلات سے محفوظ رہیں، اسکول میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور بڑے ہوکر زبردست کام کریں۔ اب کسی کامیاب بچے کی پرورش کا کوئی مخصوص طریقہ تو موجود نہیں مگر سائنسی تحقیق میں چند کارآمد عناصر کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جو کامیابی کی پیشگوئی کرسکتے ہیں۔ اور یہ حیرت انگیز امر نہیں کہ یہ سب والدین کی جانب سے سامنے آتے ہیں۔ تو جانیں کہ کامیاب بچوں کے والدین کیا باتیں مشترک ہوتی ہیں۔

وہ اپنے بچوں سے گھر کے کام کراتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر بچے اپنے برتن خود رکھنے اور دھونے کے عادی نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کام ان کے لیے کوئی اور کرے گا، جو شخصیت پر اچھا اثر نہیں ڈالتا۔ اس کے برعکس گھر کے کام کرنے سے وہ نہ صرف ان کے بارے میں سیکھیں گے بلکہ سب کا اشتراک مجموعی طور پر زیادہ بہتری لائے گا۔ محققین کا ماننا ہے کہ اپنے کام کرتے ہوئے بڑے ہونے والے بچے جب ملازمت کرتے ہیں تو اپنے ساتھی ورکرز کے ساتھ جلد گھل مل جاتے ہیں، زیادہ ہمدرد طبیعت رکھتے ہیں اور اپنے کام خودمختاری سے کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

وہ بچوں کو سماجی صلاحیتوں کی تعلیم دیتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

پینسلوانیا یونیورسٹی اور ڈیوک یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں امریکا بھر کے 700 سے زائد بچوں کی زندگیوں پر ان کے ابتدائی تعلیمی برس سے لے کر 25 سال کی عمر تک نظر رکھی گئی اور یہ بات سامنے آئی ابتدائی کلاسز میں سماجی صلاحیتیں اور ان کی بالغ ہوکر کامیابی کے درمیان تعلق موجود ہے۔ اس بیس سالہ تحقیق کے مطابق سماجی طور پر اہل بچے اپنے ساتھیوں سے تعاون نمایاں ہوئے بغیر کرتے ہیں، دیگر کے لیے مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ان کے جذبات سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے مسائل خود حل کرتے ہیں۔ ایسے بچوں میں کالج ڈگری کے بعد 25 سال کی عمر تک ملازمت کے حصول کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ محدود سماجی صلاحیتیں رکھنے والے ترقی کی دوڑ میں اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ محققین کے مطابق بچوں کے اندر سماجی اور جذباتی صلاحیتیں پیدا کرنا والدین کا کام ہوتا ہے اور یہ ان کے صحت مند مستقبل کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ان کی توقعات زیادہ ہوتی ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

کیلیفورنیا یونیورسٹی نے ایک سروے کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر دریافت کیا کہ بچوں سے توقعات رکھنے والے والدین ان کی کامیابی پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو والدین تعلیمی میدان میں بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں وہ جتنی بھی آمدنی ہو وہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ایسے والدین کے 96 فیصد بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔

والدین کا باہمی تعلق اچھا ہوتا ہےکریٹیو کامنز فوٹو

وہ بچے جن کے ماں باپ کے درمیان جھگڑے ہوتے ہیں وہ عملی زندگی میں اکثر کافی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ الینواس یونیورسٹی کی ایک تھقیق کے مطابق اگر والدین کے درمیان تنازع ہو یا علیحدگی ہوجائے تو اس سے بچے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم تعلق اچھا تو بچے بھی مثبت انداز سے زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔

وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر ماﺅں نے کالج ڈگری لے رکھی ہو تو وہ اپنے بچوں کو بھی تعلیمی لحاظ سے کم از کم اپنے برابر تو دیکھنا چاہتی ہیں۔ 14 ہزار بچوں کے گروپ کا 1998 سے 2007 تک جائزہ لینے کے بعد تحقیق میں بتایا گیا کہ کم پڑھی لکھی ماﺅں کے بچوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا امکان کافی کم ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق والدین کی تعلیمی لیول سے بچوں کی تعلیم اور پیشے میں کامیابی کے بارے میں کافی حد تک پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

وہ اپنے بچوں کو جلد ریاضی سیکھاتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں اسکول جانے سے قبل ریاضی کی صلاحیت کی تشکیل کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ نمبروں، ان کی ترتیب اور ریاضی کے کچھ بنیادی تصورات سے واقف ہوتے ہیں جو اسکول کی ابتدائی تعلیم کے معموں سے کم نہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جلد ریاضی میں مہارت حاصل کرنے سے مستقبل میں کامیابیوں کی پیشگوئی میں مدد ملتی ہے۔

بچوں کے ساتھ اچھا تعلق قائم کرتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

مینیسوٹا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق غربت میں پیدا ہونے والے بچوں کو اگر ابتدائی تین برس کے دوران والدین کی اچھی نگہداشت حاصل ہو تو وہ نہ صرف بہتر تعلیمی نتائج حاصل کرتے ہیں بلکہ عمر کی تیسری دہائی میں اچھے رشتے قائم کرنے اور اعلیٰ تدریسی سنگ میل بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی اچھی نگہداشت کرنے والے والدین انہیں ایک محفوظ بنیاد فراہم کرتے ہیں اور بڑے ہوکر وہ دنیا کو تسخیر کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

وہ تناﺅ کا زیادہ شکار نہیں ہوتےکریٹیو کامنز فوٹو

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مائیں تین سے 11 سال کی عمر کے ساتھ جتنے گھنٹے گزارتی ہیں اس سے کافی حد تک پیشگوئی کی جاسکتی ہے کہ ان بچوں کا رویہ کیسے ہوگا، یا کامیاب ہوگئے یا نہیں۔ تحقیق کے بقول تناﺅ کی شکار مائیں جو اپنے کام کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے وقت تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں وہ بچوں کو منفی انداز سے متاثر کرتی ہیں۔ بچے اپنے والدین کا تناﺅ اپنے اندر بھی محسوس کرتے ہیں اور اگر وہ خوش ہوں تو بچے بھی خوش ہوتے ہیں، تناﺅ ہو تو ان پر بھی تناﺅ ہوتا ہے جو انہیں بعد کی زندگی میں متاثر کرتا ہے۔

ملازمت پیشہ مائیںکریٹیو کامنز فوٹو

ہاورڈ بزنس اسکول کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ان بچوں کو متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کی مائیں گھر سے باہر کام کرتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ملازمت پیشہ خواتین کے بچے اسکول میں زیادہ وقت گزارتے ہیں اور انہیں ملازمت میں اچھے عہدے ملنے امکان ہوتا ہے جبکہ ان کی آمدنی گھریلو ماﺅں کے بچوں کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔ محققین کے مطابق رول ماڈل بچوں کے کردار ، ان کی سرگرمیوں اور جس پر یقین رکھتے ہو، جیسے عوامی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

بہتر سماجی و مالی حیثیت کے حامل ہوتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

اسٹینفورڈ یونیورسٹی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ متوسط گھرانے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے درمیان موجود خلاءبچوں کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ زیادہ آمدنی والے والدین کے بچے تعلیمی اداروں میں اوسطاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آمرانہ سوچ کے حامل نہیں ہوتےکریٹیو کامنز فوٹو

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے بقول جو والدین اپنے بچوں کو کچھ نرمی اور کچھ سختی کے ساتھ کنٹرول میں رکھتے اور ان کی شخصیت کو پروان چڑھاتے ہیں، یعنی اپنی شخصیت کو ننھے فرشتوں کے خوفناک بنانے کی بجائے پراحترام بناتے ہیں، ان کے بچے زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔

طویل المعیاد مقاصد پر برقرار رکھنا سیکھاتے ہیںکریٹیو کامنز فوٹو

پینسلوانیا یونیورسٹی کے محققین کے مطابق بچوں کے اندر طویل المعیاد مقاصد کے لیے دلچسپی کو برقرار رکھنے اور کوششیں کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں والدین کا خاص کردار ہوتا ہے، ایسے بچے اس مستقبل کے بارے میں سوچتے اور پرعزم ہوتے ہیں جو وہ خود بنانا چاہتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *