عارف والا کی طالبات سائیکل پر سکول جانے لگیں !

german cycleآپ ہمت اور ارادہ کریں ، اللہ آپ کے لیے رستے نکالے گا۔ یہ بات اس وقت ایک زندہ حقیقت بن گئی جب جرمن حکومت کی مدد سے اس علاقے کے ایک سکول کی طالبات کو اپنی سواری مل گئی۔ اب عارف والا تحصیل کی لڑکیاں ہر روز سائیکل پر اسکول آتی جاتی ہیں۔ سائیکل نے نہ صرف ان کو اعتماد دیا ہے بلکہ گاؤں کی گلیوں، کھیتوں اور سٹرکوں پر سائیکل چلا کر اسکول پہنچنے والی ان بچیوں میں آگے بڑھنے کی امید بھی پیدا کر دی ہے۔سائیکل ملنے والی ایک بچی رابعہ کے والد جمال دین کہتے ہیں، میری بیٹی سائیکل ملنے سے پہلے رکشے میں اسکول جاتی تھی، اب میری بچت ہو رہی ہے اور میری بیٹی خوشی سے سائیکل پر اسکول جاتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گاؤں میں کچھ افراد اعتراض تو نہیں کرتے کہ لڑکی اکیلے سائیکل چلا کر اسکول جاتی ہے تو جمال دین نے کہا کہ اب تو لڑکیاں موٹر سائیکل چلاتی ہیں، اگر میری بیٹی سائیکل چلائے تو اس میں کیا عیب ہے۔اسکول کی پرنسپل نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ اس اسکول میں آس پاس کے دیہات کی بچیاں آتی ہیں، بہت سی لڑکیاں گرمی میں لمبی مسافت پیدل طے کر کے اسکول پہنچتی ہیں۔ سائیکل ملنے کے بعد اب بہت سی لڑکیاں چھٹیاں کم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے ڈر تھا کہ والدین اپنی بچیوں کو سائیکل نہیں چلانے دیں گے لیکن جب اسکول کی نہایت غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو سائیکلیں دی گئیں تو والدین بہت خوش ہوئے۔
عارف والا میں اَرج ڈیویلپمنٹ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نمائندے خالد فاروق نے بتایا کہ تحصیل عارف والا میں کل 210 سائیکلیں بچیوں کو تقسیم کی گئی ہیں۔ سائیکل دینے سے پہلے والدین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور ان کی مرضی ہو تو ہی لڑکیوں کو سائیکلیں دی جاتی ہیں۔
اس حوالے سے مقامی مسجد کے امام قاری محمد افضل سے بھی ان کا موقف جانا۔ ان کا کہنا تھا، ایک لڑکی نہایت گرمی میں روز پیدل چل کر اسکول پہنچتی ہے۔ اگر وہ سائیکل چلا کر اسکول پہنچے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ قاری صاحب نے علاقے میں ایک عمدہ مثال ایسے قائم کی ہے کہ ان کی اپنی بیٹی بھی اب سائیکل پر ہی اسکول جاتی ہے۔ایک بچی کے والد کا کہنا ہے کہ۔مجھے احساس ہو گیا ہے کہ غربت سے نکلنے کے لیے مجھے اپنی بیٹی کو پڑھانا ہو گا تاکہ اس کا مستقبل روشن ہو، وہ ہم سے بہتر زندگی گزار سکے۔ وہ کہتے ہیں، میری بیٹی کو دی جانے والی سائیکل صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں ہے، یہ اسے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی سیٹرھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *