’اسے اردو میں کہیں‘۔۔۔ بالی ووڈاب مزید ایسا نہیں کہے گا

اعجاز ذکاء سیدijaz zaka

ایک دوست کو بہت زیادہ دکھ پہنچا جب اس کے کسی ساتھی نے اس سے کے سامنے کیفی اعظمی کے چند جملے دہرائے ۔ وہ ان کے سحر میں کھو کر رہ گیا۔ اس تحریر کا عنوان تھا، ’’ہندوستان کی مسلمان عورت: نچلی سطح سے بھی نیچے۔‘‘ دہلی کے ایک صحافی، سید عبید الرحمٰن نے لکھا، ’’پوری قوم میں، خواتین یا تو ایک روزمرہ استعمال کی چیز کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور یا پھر ایک جنسی ضرورت کے طور پر۔ معروف اردو شاعر، کیفی اعظمی مرحوم نے بجا طور پر ہندوستانی معاشرے میں عورت کے مقام کو ’’مال برداری کے جانوریا بستر کے کھلونے‘‘ سے تشبیہ دی تھی۔
اس دلیل سے اختلاف کرنا ممکن نہیں ہے کہ اگر ہندوستانی مسلمان کئی طرح سے اقوام کے گروہ میں سب سے نچلی سطح پر ہیں تو ان کی خواتیناس نچلی سطح کے پیندے پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ میرا دوست کیفی کے جملے سن کر کیوں حیران اور مایوس ہوا تھا۔ یہ تاثر بہت تلخ ہے خواہ اسے میٹھے لفظوں میں لپیٹنے کی کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کر لی جائیں۔
ترقی پسند مصنفین کی تحریک، جس سے کیفی وابستہ تھے، ایسی ہی سخت زبان استعمال کرنے کی اور سوئے ہوئے سماجی ضمیر کو جگانے کی عادی تھی۔
کیفی بہت شاندار شاعر تھے اور ہمیشہ خواتین کی عظمت کو سلام کیا کرتے، ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھایا کرتے اور نایاب حساسیت کے ساتھ ان کی بے چینی سے متعلق آواز اٹھایا کرتے تھے۔اسی موضوع پر ان کی نظم ’’عورت‘‘ کہتی ہے:
اٹھ میری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قلب ماحول میں لرزاں شرار جنگ ہیں آج
حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج
آبگینوں میں تپے ولولہ سنگ ہیں آج
حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج
جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے
اٹھ میری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
یہ کیفی کے طاقتور عہدساز گیت کا صرف ایک بند ہے جو بلاشبہ اس قابل ہے کہ اسے نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی پڑھیں۔ حتیٰ کہ اپنے فلمی گیتوں میں بھی کیفی اعلیٰ ادبی معیارات پر سمجھوتہ کئے بغیر اپنے ان نظریات کے وفادارہی رہے جن کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ شاعر اور فنکارہ شبانہ اعظمی کے والد، کیفی نے اپنی عمر بھر کی سماج سے رشتہ مضبوط رکھنے کی کمزور کر دینے والی معذوری سمیت عظیم انفرادی خوشیوں کو جھٹلایا۔
درحقیقت، مجروح سلطان پوری سے ساحر لدھیانوی تک اور نثار اختر سے اختر الایمان تک تمام ترقی پسند تحریکوں کے مشاہیر، جنہوں نے سینما کے لئے لکھا، انہوں نے معاشرے کے مسائل سے اپنی مضبوط وابستگی اور ایک سرخ سماجی انقلاب کے خواب کے زیر اثر لکھا۔
حتیٰ کہ شکیل بدایونی، عظیم رومانی شاعر حسرت جے پوری اور شیلندراجو کہ شدید وابستگی کے معنوں میں اس تحریک کا حصہ نہ تھے، وہ بھی بہترین اور جوش دلانے والی شاعری کے ساتھ سامنے آئے ، جس نے نوجوان عاشقوں اور انقلابیوں دونوں کو تحریک دلائی۔
فلم انڈسٹری نے منٹو سے ساحر تک ، مجروح سے کرشن چندر تک اور عصمت چغتائی سے علی سردار جعفری تک، اردو ادب کے عظیم ناموں میں سے کچھ نہ کچھ کو ضرورکسی نہ کسی سٹیج پر اپنی جانب کھینچا۔ انگنت ایسے شعراء بھی ہیں جنہیں انڈسٹری نے اپنی جانب نہیں کھینچالیکن اس کے باوجود وہ اپنے اپنے شعبوں میں مکمل فنکار تھے۔
ان اشتراکی شعراء اور مصنفین کا اثر بہت زیادہ تھا۔ ۔ آزادی سے قبل اور بعد کے زمانوں کی روح پربھی اس اشتراکی کلام کا گہرا رہا رہا۔۔۔یہی وجہ تھ کہ فلم ساز ان مصنفین اور شعراء کی سوچ کی پیروی پر مجبور رہے۔
بالی ووڈ کہ جسے کسی دور میں اردو کا شدید حامی تصور کیا جاتا تھا، آج اس کی حدود میں اردوزبان و ادب کو کیا مقام حاصل ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ زبان وہاں بہت برے حالات میں زندہ ہے۔ اگر یہ زبان یہاں قریب المرگ نہیں ہے توبھی بالکل اسی حالت میں ہے جس حالت میں یہ باقی ماندہ ملک میں زندگی کے تمام شعبوں میں نظر آرہی ہے۔
عمدہ اردو شاعری ، طاقتور مقالمے اورسکرپٹ جو تقریباً ایک صدی تک نام نہاد ہندی سینما کا امتیازی نشان رہے تھے، کو ایک عجیب و غریب اور ادبی پس منظر سے عاری ہندی، انگریزی اور اکثر پنجابی زبانوں کے آمیزے سے بدل دیا گیا ہے۔بلاشبہ آج کل آپ بالی ووڈ میں جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن شاعری نہیں ہو سکتی۔
ناقابل تقلید اور ہمہ جہتی شاعر گلزار ، جنہوں نے بطور شاعر 11فلمی میلوں میں ایوارڈز وصول کئے، ان کی دانش کو بھی نئے ماحول کے تناظر میں خود کو بدلنا اور نیا لہجہ اختیار کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو بھی عمومی مواد کی جانب مڑنا پڑا۔ لیکن ہر شخص خود کو یوں نہیں بدل سکتا جیسے گلزار نے خود کو بدلا۔ 79برس کی عمر میں بھی وہ اپنے فن کو نئے سے نئے رنگ دینے میں محو ہیں۔
جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے، ساحر اور کیفی لازماً آج بھی اس سلوک پر اپنی قبروں میں پہلو بدلتے ہوں گے کہ جو بالی ووڈ ان سے روا رکھے ہوئے ہے۔ یہ سلوک بھی بلاشبہ اسی سلوک کا آئینہ دار ہے کہ جو آج ہندوستانی معاشرہ مجموعی طور پر خواتین کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *