ولدیت کے بغیر سرمایہ

shami

پانامہ لیکس کے قصے نے عجب ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ دُنیا کے کئی ایسے ممالک جو اِس کی زد میں آئے ہیں اپنے اپنے طور پر اِس معاملے سے نبٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں ایک بڑی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی ہے، جس میں جناب جان کیری بنفس ِ نفیس شریک ہوئے ہیں۔ اس میں آف شور کمپنیوں کے پیدا کردہ فساد کا جائزہ لیا گیا ہے اور برطانوی وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ وہ مجہول النسب سرمایے کو اپنی معیشت میں داخلے سے روکنے کی کوشش کے بارے میں غور کریں گے۔ برطانیہ کے زیر انتظام کئی جزیرے ایسے ہیں جہاں سرمایہ لانے اور لے جانے والوں پر کوئی قد غن نہیں، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ پیسہ لے جائیے، کمپنی بنائیے، اور پھر اس کمپنی کے گھوڑے پر سوار ہو کر برطانیہ میں دندنائیے۔ ایک برطانوی جزیرے کے چیف ایگزیکٹو نے شور مچایا ہے کہ امریکہ نے بھی اپنے ہاں ایسی سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کے بجائے اِدھر اُدھر تانک جھانک کر کے اِدھر اُدھر کی ہانک رہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آف شور کمپنیوں کو بعض ترقی یافتہ ممالک میں جو سہولیات فراہم کی گئی ہیں، ان کا مقصد اپنی معیشت کو فروغ دینا، اور دُنیا بھر کے مشکوک سرمائے کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔جیسے سوئٹزر لینڈ کے بنکوں نے اپنے ہاں ''محفوظ جنت‘‘ تخلیق کر رکھی تھی کہ وہاں جمع ہونے والی رقوم کی کسی کو سن گن نہیں ہو پاتی تھی، اور دُنیا بھر کے حرام خور اپنی کمائی کو وہاں پارک کر کے چین کی بانسری بجا سکتے تھے۔ یہ کالا دھن سوئٹزر لینڈ کے لیے سفید بن جاتا اور اس کی معیشت کو تقویت بخشتا تھا، اس کی دیکھا دیکھی دوسرے ممالک نے اپنے ''طہارت خانے‘‘ قائم کر لیے۔ جوہری طور پر سوئٹزر لینڈ کے بنکوں اور ان محفوظ جزیروں میں کوئی فرق نہیں کہ دونوں جگہ سرمایہ کسی روک ٹوک کے بغیر قدم رنجہ فرما سکتا ہے۔ آف شور کمپنیوں کے حاملین البتہ ان کے ذریعے جائیدادیں خرید سکتے، اپنے لاکھوں کو کروڑوں اور کروڑوں کو اربوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
پاکستانیوں نے ایک زمانے میں اپنے بنکوں ہی میں '' آف شور اکائونٹ‘‘ کھول لیے تھے۔ اولین نواز شریف حکومت نے اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کر دی تھی کہ وہ غیر ملکی کرنسی کے اکائونٹ مقامی بنکوں میں کھول سکتے ہیں، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی کہ کون سا ڈالر اور کون سا پونڈ کہاں سے آیا، اور کہاں چلا گیا۔ گویا سوئٹزر لینڈ کے بنک اور آف شور کمپنیاں پاکستان میں آ براجیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، اپنے بنکوں میں اپنا حرام یا حلال جمع کرا دیجئے، اسے مکمل تحفظ حاصل ہو گا۔ کسی پاکستانی کے غیر ملکی اکائونٹ میں جمع ہونے والی کسی رقم کا اُس سے حساب نہیں لیا جا سکتا تھا... وجہ اس کی زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی جرأت مندانہ کوشش بتائی گئی تھی،اور اسے یکسر جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا تھا، لیکن اس کے دیگر اثرات اور اسباب بھی اپنی جگہ تھے... رند کے رند رہے اور جنت پر بھی ہاتھ صاف کر لیا۔
ان فارن کرنسی اکائونٹس نے پاکستانیوں کو دُنیا بھر میں پائوں پسارنے کی سہولت فراہم کی۔ ان کے علاوہ بھی پاکستانی معیشت میں سرمائے کے دخول کے لیے سہولتیں فراہم کی جاتی رہیں۔ایک زمانے میں ایف ای بی سی(فارن ایکسچینج بیررز سرٹیفکیٹ) کے ذریعے آزادانہ سرمایہ کاری کی جا سکتی تھی، لیکن ان کے حصول پر چند فیصد خرچ آتا تھا، فارن کرنسی اکائونٹس کھولنے کی اجازت نے سودا مفت کر دیا۔ گویا ، پاکستانی حکمران اور معیشت دان ''انفارمل اکانومی‘‘ کے خاتمے کے بجائے اس کے تحفظ اور فروغ کا باعث بنتے رہے۔ ٹیکس نیٹ کو مضبوط اور موثر بنانے کے بجائے اس سے نکلنے اور اسے کمزور بنانے کے مواقع فراہم کئے جاتے رہے، اس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں ''متوازی معیشت‘‘ اصلی سے بڑھ چکی ہے۔ اس کے متعلقین دندناتے پھرتے ہیں اور ٹیکس حکام ان کے سامنے کورنش بجا لانے میں لگے رہتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا مُلک بن چکا ہے جہاں با وسیلہ افراد باافراط موجود ہیں، لیکن وہ ٹیکس نیٹ میں آنے اور ریاست کو اس کا حصہ ادا کرنے پر تیار نہیں۔اہل ِ سیاست کی دھڑے بندی ہو، یا سول ملٹری کھینچا تانی، چاندی ان لوگوں کی ہے، جن کے شوروغوغا کے سامنے ریاستی رٹ ٹھہر نہیں پاتی۔
اب جو پانامہ لیکس نے دُنیا بھر کے آف شور کمپنی ہولڈرز کے ناموں کو بے نقاب کیا ہے تو جگہ جگہ انگلیاں دانتوں میں دبی ہوئی ہیں۔ بھارت کے ہزاروں افراد اور کمپنیاں بھی اِسی طرح ننگ دھڑنگ ہیں جس طرح کے کئی پاک سرزمین کے باسی۔ وزیراعظم نواز شریف کے (عاقل بالغ) بچوں کی آف شور کمپنیاں منظر عام پر آئیں تو ساری توجہ ان کی طرف مرکوز ہو گئی۔ پانچ سو سے زائد دوسرے افراد نظر انداز ہو گئے۔ اولاً تو فتویٰ جاری کیا گیا کہ آف شور کمپنی بنانا ہی حرام ہے، جس نے اس کا ارتکاب کیا، وہ حرام خور ہے، لہٰذا اس کے پیٹ سے سب کچھ نکالا جائے۔ لیکن اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عمران خان صاحب کے فلیٹ کی خریداری کے لئے بھی آف شور کمپنی بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ خان صاحب اسے مان چکے اور اپنے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔تسلیم کیا جا رہا ہے کہ آف شور کمپنیاں حلال کمائی سے بھی بنائی جا سکتی ہیں، اِس لیے صرف ان کا نام سُن کر ہی پھانسی کا پھندا تیار نہیں کیا جانا چاہیے۔ تحقیق و تفتیش پہلے ہونی چاہیے، حلال، حرام کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔
پاکستانی سیاست پانامہ زدہ ہے۔ اپوزیشن نے اس کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے لئے (انہیں) چٹھی لکھ دی ۔ یوں انہیں ''پولیس مقابلے‘‘ میں نہ گرایا جا سکا۔ اپوزیشن نے نئی قانون سازی اور ضوابط کار کے حوالے سے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ حکومت کا اصرار تھا کہ پرانے قانون اور اس کے بنائے ہوئے(یا پھیلائے ہوئے) ضوابط کار کے تحت ہی انکوائری ہو گی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ایک نیا اور موثر قانون بنایا جائے، تاکہ کمیشن کے فیصلوں کی حیثیت سفارش کی نہ رہے۔ جن افراد یا کمپنیوں کے خلاف انکوائری مطلوب ہے، ان کے نام بھی بھجوائے جائیں، تاکہ کارروائی ہدف پر رہے، پانی میں مدھانی کا مصداق نہ بننے پائے۔
وزیراعظم سوموار کو قومی اسمبلی میں جائیں گے، تو یہ دراصل حکومت اور اپوزیشن دونوں کا امتحان ہو گا۔ دونوں کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان میں بحران سے نبٹنے کی صلاحیت ہے۔ ایک دوسرے کے لتے لے کر، ایک دوسرے کو زچ کر کے، اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش پال کر کسی کا بھی بھلا نہیں ہو سکتا۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ معاملات کی تحقیقات ہو، سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق قانون بنے اور دائرہ کار اور ضوابط کار پر بھی اتفاق ہو تاکہ جس جس کے پاس ولدیت کے بغیر سرمایہ ہے، اس کی نشاندہی ہو سکی۔ ہمارے جمہوری نظام میں یہ سکت اور صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ کالے کو کالا کہہ سکے، اور اس کی گرفت بھی کر سکے۔یہ بات بھلانی نہیں چاہیے کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کی اپنی تاریخ ہے۔دونوں ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا رہتے ہیں، دونوں کی حرکات و سکنات کی مختلف تعبیرات کی جا سکتی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ دونوں اپنے اپنے گریبان میں مُنہ ڈالیںبلکہ ڈالے رکھیں۔ تماشا بنیں‘ نہ بنائیں۔ کسی گاڑی کو بیک وقت دو ڈرائیور چلا سکتے ہیں نہ کنڈیکٹر کو سٹیرنگ پر بیٹھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *