ہیں سب چور لٹیرے!

ذوالقرنین ہندل

zulqarnain hundal

پانامہ پانامہ پانامہ! سن سن کر اب عوام بھی تنگ آچکی ہے۔روز روز کوئی نہ کوئی بڑی اور اہم خبر اور پھر پانامہ کا دھماکہ۔کیا یہ دھماکہ پاکستان میں ٹھس ہو جاتا ہے؟قارئین ویسے تو آپ سب جانتے ہیں لیکن میں پھر بھی بتاتا جاؤں کے پانامہ لیکس میں جن آف شور کمپنیوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کیا ہیں کس لئے ہیں اور کیوں ہیں؟سب سے بڑا مقصد تو ٹیکس بچانا ہوتا ہے۔ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے امراء بزنس مین و سیاست دان اپنی بڑی رقوم ایسے ممالک میں انویسٹ کرتے ہیں۔جہاں ٹیکس کی شرح بہت کم ہو اور ان کی دولت یا کمپنی کو بھی صیغہ راز میں رکھا جائے۔پانامہ نے جن آف شور کمپنیوں کا زکر کیا ہے ان میں زیادہ تر بزنس مین شامل ہیں جن کے اپنے ممالک میں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے یا بہتر مواقع نہیں۔انہوں نے ایسے ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائی ہیں جہاں ٹیکس سے بچت ہو جائے اور ان کے اس کام کو بھی صیغہ راز میں رکھا جائے۔یعنی ٹیکس سے بچنے کے لئے کافی سارے بزنس مین آف شور کمپنیاں بناتے ہیں۔اور جو سیاست دان آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں وہ سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ ملکی دولت کو کسی دوسرے ملک میں صیغہ راز میں رکھنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے ایسے سیاستدان کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور اسکی تحقیقات ہوتی ہیں ۔لیکن ہمارے ہاں تو بڑے بڑ ے ڈھیٹ سیاستدان ہیں اور احمق عوام۔جن ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائی جاتی ہیں انہیں کسی نہ کسی طرح فائدہ ضرور ملتا ہے۔ایسے ممالک ایشین لوگوں کو زیادہ پریفرینس دیتے ہیں کیونکہ ایشیائی لوگ سوال جواب بہت کم کرتے ہیں اور زیادہ تحقیقاتی بھی نہیں ہوتے۔پانامہ اور آف شور کمپنیوں کی معلومات لکھنے سے قاصر ہوں۔اب میں اپنے عنوان کی طرف آتا ہوں’’ہیں سب چور لٹیرے‘‘۔پانامہ نے کوئی بہت بڑا دھماکہ نہیں کیا بس بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو بتایا ہے۔بہت سے لوگ ایسی معلومات پہلے بھی رکھتے تھے۔بہت سے صحافیوں تجزیہ کاروں اور لکھاریوں نے بار بار بتایا ہے کہ یہ سب چور لٹیرے ہیں۔ انکی دولت اور بزنس بیرون ممالک ہیں میرا خیال ہے کہ پاکستان کے با شعور لوگ یہ سب پہلے سے ہی جانتے تھے۔میں بھی بار بار چوروں لٹیروں کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔میرے دوست احباب اصرار کرتے تھے پانامہ کے بارے لکھوں مگر میں جانتا تھا کہ فوری لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں یہ سب وقتی ہے۔اس کی زد میں سب سیاستدان آنے والے ہیں۔کوئی ایک دو اس کی لپیٹ کا حصہ نہیں بلکہ سارے کا سارا آوہ ہی اس کی زد میں آئے گا۔سب چور اور لٹیرے ہیں یہ قوم کا پیسا کھاتے تھے کھاتے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔یہ وقتی مظاہرے اور تنقیدیں صرف اپنے مفادات کی خاطر ہیں۔عوام کو تو صرف اور صرف بے وقوف بنایا جاتا ہے۔سب اپنے آپ کو صادق سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو صادق و امین ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے جھوٹ اور بہانے بنانے میں مصروف ہیں۔کوئی کہتا ہے میری آف شور جائز ہے کوئی کہتا نہیں صرف میری جائز ہے۔سب دھوکے باز اور اقتدار کے لالچی ہیں۔انہیں اسلامی حکمرانی کے بارے کچھ علم نہیں۔یہ ایک دوسرے کا احتساب نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ سب ہی احتساب کے شکار میں پھنس جائیں گے اور بے نقاب تو پہلے ہی سے ہیں ذلیل بھی ہو جائیں گے۔کیا دور ہے ایک مسلم ملک میں عدلیہ آزاد نہیں عدلیہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔عدلیہ حکومتی بوجھ تلے دب گئی ہے۔اگر انصاف کرنے کا عہد کیا ہے تواس کی پاسداری بھی کرو۔ورنہ مستعفی ہو جاؤ انصاف نہیں کرسکتے تو آپکا موجود ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔کیونکہ پھر آپ بھی چور لٹیروں کے یار نظر آتے ہیں۔میں بار بار لکھ چکا ہوں کے جس کا نام کرپشن یا دوسری بدعنوانیوں میں موجود ہو اسے تا حیات الیکشنز کے لئے نا اہل ٹھہرایا جائے۔میں پورے پاکستان سے ملک کی عوام ملک کے ایوان ملک کی انتظامیہ ملک کی عدلیہ نیز ہر فرد سے اور ملک کی افواج سے گزارش کرتا ہوں کے کوئی ایسا قانون ایسا نظام تشکیل دیں جس سے سارے کرپٹ دہشتگرد اور نا اہل سیاستدانوں کو ہمیشہ کے لئے سیاست سے دور پھینکا جائے اور انکے ساتھ ساتھ کرپٹ آفیسرز کا بھی کڑا احتساب کیا جائے تا کہ غلط کام کرتے وقت احتساب کا ڈر ضرور ہو۔پڑھے لکھے سادہ اور نیک ایمان دار لوگوں کو سامنے لایا جائے۔روپے اسلحے کا زور ختم کیا جائے۔قوانین پر عملدرآمد کروایا جائے۔سرکاری اداروں کو آزاد اور فعال بنایا جائے۔انصاف کے فیصلوں پر عملدرآمد کروایا جائے۔میری عوام سے گزارش ہے کہ اگر وطن کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان سب چور لٹیروں کو تا حیات نااہل کروانے اور ان کے کڑے احتساب کے لئے صدا بلند کریں تاکہ ملک پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں سب چور لٹیرے ہیں۔اگر پانامہ کی ایک اور قسط جاری ہو جائے تو ان میں سے مزید آپکے سامنے ننگے ہو جائیں گے۔میرا آخر میں سوال ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانے کی نوبت کیوں آئی؟اس کی بہت بڑی وجہ بھی ہمارے وطن کے چور لٹیرے ہی ہیں۔سب سے زیادہ آف شور کمپنیاں بزنس مین طبقہ کی ہیں۔ہمارے وطن میں سیاستدانوں اور انکے حامیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔سیاستدان اور انکے یار حکومتی ملازمین بزنس طبقہ کو ستاتے رہتے ہیں اور بھتہ مانگتے ہیں بھتہ نہ ملنے پر بے جا ٹیکسوں یا کسی اور خوف سے ڈراتے ہیں ۔ایسی کئی مشکلات کی وجہ سے بزنس مین خود کو یہاں محفوظ نہیں سمجھتا اور بیرون ممالک آف شور کمپنیاں بناتا ہے۔تحقیق تو سب کی ہونی چاہیے اور ہر لحاظ سے ہونی چاہیے اور بیرون ممالک رقوم ٹرانسفر کرنے کی وجوہات بھی معلوم کی جانی چاہیے۔ملکی رقم کو پاکستان واپس لانے کے لئے بھی سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔لیکن ایسا ہونے کون دے گا ایسا کرنے کون دے گا ؟کیوں کہ سب لٹیرے یار ہیں۔ذرا سوچئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *