سچ کا سفر

adnan khalid

ہر انسان اس دنیا میں خوابوں اور خواہشوں کا زادِ راہ لے کر آتا ہے اور پھر اِن کی تعبیر و تکمیل کی جدوجہد میں عمرِ عزیز تلف کر بیٹھتا ہے۔قناعت و استغنا کے فقدان نے خواہشات کو ایک ایسا شتر بے مہار بنا دیا ہے جس پر اختیار حاصل کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور زیادہ سے زیادہ کامیابیاں سمیٹنے کے جنون میں مبتلا ہو کر انسان جائز و ناجائز میں تفریق کرنے سے بھی عاری ہو جاتا ہے اس کے باوجود کامیابی کی دیوی ہر کسی پر مہربان نہیں ہو جاتی بہت کم ایسے خوش مقدر لوگ ہوتے ہیں جو ہمت،استقامت،قسمت اور ریاضت کی چوکور کو قائم رکھنے میں کامیاب ہو کر قسمت کا دھنی کہلانے میں حق بجانب ہوتے ہیں ورنہ کوئی نہ کوئی اکائی وقت کی مانند ہاتھوں سے سرک ہی جاتی ہے اور سوائے کفِ افسوس ملنے کے کوئی اور چارہ نہیں رہتا ۔ہر ذی شعور انسان کامیابی کے تعاقب میں نکلتا ضرور ہے لیکن شارٹ کٹ کے دلفریب چکمے میں آکر اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنے سے محروم رہتا ہے۔کامیاب ترین افراد کی فہرست کو جانچا جائے تو جو ایک قدرِ مشترک دنیا کے تمام کامیاب لوگوں میں یکساں میسر آئے گی اس کا نام محنت ہے ،محنت کسی بھی شعبے میں کی جائے رائیگاں نہیں جاتی ۔اس بات کا ثبوت گزشتہ دنوں ایک کتاب کے مطالعے کے بعد ملاجو مجھے انتہائی عزیز دوست بلال غوری صاحب نے بطور تحفہ پیش کی یقیناکتابوں کی اہمیت سے واقف افراد میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ انٹرنیٹ اور جدید ترین ذرائع ابلاغ کی فراوانی کے باوجود حصول علم کے لیے جو لطف کتب بینی میں ہیوہ انٹرنیٹ،فیس بک یا کسی بھی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو پاتا۔یہ کتاب بظاہر ایک اہم پاکستانی بزنس مین کی خود نوشت ہے جسے اُس نے ’’سچ کا سفر‘‘قرار دیا ہے۔لیکن میرے نزدیک یہ صرف ایک خود نوشت نہیں بلکہ ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جس نے نا صرف بہت سے حقائق کو آشکار کیا ہے بلکہ بہت سے اہم کرداروں کے حقیقی چہرے بھی بے نقاب کیے ہیں۔کاروباری شعبے سے منسلک بہت سے افراد نے قابلِ رشک مقام و مرتبہ پایا لیکن کم لوگوں کو ہی ایسا عروج میسر آیا جیسا قدرت نے صدر الدین ہاشوانی کے مقدر میں لکھ دیا تھا۔اس وقت وہ پاکستانی ہوٹلنگ کی صنعت کے علاوہ تیل ،گیس ،رئیل اسٹیٹ اور ٹریولنگ کے شعبوں کا ایک بے بدل نام بن چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سماجی اور فلاحی شعبوں میں بھی پیش پیش ہیں۔لیکن آج کابزنس ٹائیکون صدرالدین ہاشوانی اس مقام اور مرتبے پر کیسے اور کن کن مراحل سے گزلیے ر کر پہنچایہ خاصا دلچسپ اور سبق آموز سفر ہے جس کے ذریعے انھوں نے پاکستانی نوجوانوں کو جہدِمسلسل اور حالات سے نبرد آزما ہو کر ارادے کی پختگی کے ذریعے منزلِ مقصود تک رسائی کے لیے راستہ دکھانے کی سعی کے ساتھ ترغیب بھی دی ہے۔صدرالدین ہاشوانی جو اپنے سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے کیسے تعلیمی میدان اور کرکٹ کے جنون سے دستبردار ہو کر حادثاتی طور پر اجناس کے کاروبار سے منسلک ہوئے اور پھر کیسے مسلسل محنتِ شاقہ کی بدولت کامیابیوں پر کامیابیاں سمیٹتے چلے گئے یہ کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والوں کے لیے ایک مثالیہ کی حیثیت رکھنے والی داستان ہے اگرچہ ان کے والد مُکھی ہاشو بھی متوسط درجے کے تاجروں میں شمار کیے جاتے تھے لیکن کہا جا سکتا ہے کہ صدر الدین ہاشوانی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اپنے بہنوئی کی طرف سے بدنیتی کا مظاہرہ کرنے کے بعد تنِ تنہازیرو سے شروع کیا سٹیل کی پتریاں بیچنے سے لیکر لوہے کی بڑی تجارت تک پہنچنے اور پھر کاٹن کنگ کہلانے تک انھیں کن کاروباری مشکلات اور حکومتی سرکردہ شخصیات کے رویوں کا سامنا کرنا پڑا یہ خاصا دلچسپ بھی اور حیران کن بھی،اگرچہ اس نوع کی آپ بیتی پڑھتے ہوئے قاری خود کو لا تعلق اور اکتاہٹ کا شکار محسوس کرنے لگ جاتا ہے لیکن ’’سچ کا سفر‘‘ میں مختلف النوع واقعات کی فراوانی اور قومی سطح کے سیاست دانوں اور سرکردہ شخصیات کی کارستانیاں قاری کی توجہ کو منتشر نہیں ہونے دیتیں
انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی جانے والی اس خود نوشت کو مختلف ادوار کی مناسبت سے ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔تعلیمی مسائل سے لے کر اقتدار کی غلام گردشوں تک مختلف تجربات کی عکاسی کے ذریعے تاریخ کے اوراق کو پلٹتے ہوئے صدرالدین ہاشوانی نے ذاتی پسند و ناپسند سے بالا ہو کر ایک مؤرخ کی ذمہ داریاں بھی نبھانے کی کوشش کی ہے۔جمہوری حکومتوں اور حکمرانوں کی نا اہلیوں اور طمع سے لے کر فوجی آمروں کی چیرہ دستیوں تک اس ملک کو کن کن خوفناک تجربات سے گزارا گیا اس کا احساس اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بار بار دامن گیر ہوتا ہے۔ان سب سے بڑھ کر ہاشوانی صاحب نے کچھ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے بارے میں اپنے ذاتی مشاہدے بیان کرتے ہوئے کاروباری مصلحتوں اور مستقبل کے خدشات تک کو آڑے نہیں آنے دیاذوالفقار علی بھٹو،ضیاء الحق ،غلام اسحاق خان،محمد خان جونیجو ،میاں نواز شریف ،بینظیر بھٹو،پرویز مشرف اور خاص طور پر پیپلز پارٹی کے موجودہ شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے متعلق تحریر کیے گئے تاثرات ان شخصیات کی انفرادی سوچ کو پرکھنے کے لیے خاصے معاون ثابت ہوتے ہیں ۔حکومت کی استدعا پر اسلام آباد میں ہوٹل کی تعمیر سے لے کر گوادر جیسے دور دراز علاقے میں تعمیراتی سرگرمیوں کے ذریعے کثیر سرمایہ کاری سے ان کی اس مٹی سے گہری جڑت واضح ہوتی ہے ۔ہاشوانی شاید پاکستان کی وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے مخالفانہ ہتھکنڈوں اور سرگرمیوں کے باوجود بھی اپنے اثاثہ جات پاکستان سے باہر منتقل کرنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی ،اور ایسے وقت بیرونِ ملک سے پاکستان واپسی کا سفر اختیار کیا جب ان کی عدم موجودگی میں ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا گیاتھا۔اگرچہ وہ مختلف ادوار میں مقتدر حلقوں کے عتاب کا شکار ہوتے آئے ہیں لیکن ہر بار ان کا غیر متزلزل عزم وحوصلہ اور وطن سے بے پناہ محبت نے ان کو سرخرو ہونے میں اہم کردار ادا کیا ۔سب سے حیرت انگیز مرحلہ وہ ہے جب صدر الدین ہاشوانی نے اپنی کثیر سرمایہ کاری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمسایہ ملک کے جنگی جنون کے بدلے میں پاکستانی حکومت کو ایک اہم کاروباری شخصیت ہونے کے ناطے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں ایٹمی تجربات کرنے کی بھرپورحمایت کرنے کا عندیہ دیا،اگرچہ ہاشوانی صاحب کو اس بات کا بھی ادراک تھا کہ اس کے جواب میں پاکستانی معیشت اور خود ان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے ،لیکن انھوں نے ملکی سالمیت اور رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے اس نازک موقعہ پر ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی مفاد کو ترجیح دی اسی طرح 9/11کے واقعات کے تناظر میں پرویز مشرف کے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے اور پاکستانی قوم کو پرائی آگ میں جھونکنے کے ناقابلِ تلافی عمل کر ہدفِ تنقید بنا کر انھوں نے ایک کاروباری سے زیادہ با شعور پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔صدر الدین ہاشوانی جو اس وقت دنیا کے کے کامیاب ترین افراد میں شمار کیے جاتے ہیں ذاتی زندگی میں خاصے خدا ترس اور انسانیت دوست واقع ہوئے ہیں ،ہاشو فاؤنڈیشن کے نام سے قائم کردہ ان کی فلاحی سرگرمیوں کی انجمن اس وقت نا صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی خدمتِ انسانیت میں مصروف ہے اس سلسلہ میں ان کی صاحبزادی سارہ ہاشوانی ان کے شانہ بشانہ موجود ہیں۔حال ہی میں مقتدر حلقوں کی شدید مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود اس کتاب کا سندھی زبان میں بھی ترجمہ شدہ ایڈیشن شائع ہو چکا ہے یقیناًیہ کتاب کئی نسلوں کی رہنمائی کا فریضہ سرا نجام دے گی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *