عقلمندوں کی دانائی

Anjum Niazانجم نیاز

آج یومِ مزدور ہے۔ یاد آتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹویہ دن بہت جوش و جذبے سے منایا کرتے تھے۔ یقیناًبھٹو صاحب نے مزدوروں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کے حق میں آواز بلند کی ۔ پی پی پی کے عوامی منشور کی تخلیق کے پیچھے مزدور پیشہ افراد کے حقوق کی وکالت کرنے والے سوشلسٹ رہنما ڈاکٹر مبشر حسن کا ذہنِ رسا کارفرما تھا۔چنانچہ اس موقع پر مناسب ہوگا کہ میں اپنے قارئین سے ڈاکٹر صاحب کی وہ باتیں شیئرکروں جو اُنھوں نے کچھ عرصہ پہلے میرے گوش گزار کی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کے وہ معروضات آج بھی اتنے ہی بر محل ہیں جتنے اُس وقت جب ملک پی پی پی کا راج تھا اور آصف زرداری ایوانِ صدر میں تھے۔
دانشور اور مفکرین کسی بھی قوم کا روثہ ہوتے ہیں۔ عظیم اقوام اپنے ذی فہم افراد کو بہت اہمیت دیتی ہیں کیونکہ ان افراد کی بصیرت اقوام کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں منزل کا پتہ دیتی ہے۔ دراصل اس وقت دنیا میں جن اقوام کی حکمرانی ہے، اُنھوں نے اپنے دانشوروں رہنمائی حاصل کی اور ان کے افکار کو عملی سانچے میں ڈھالا۔ دراصل اس دنیا میں گفتار کے غازیوں اور اندھے مقلدین کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ نوبل انعام یافتہ مصنف گیبرل گریشیا مارقز (Gabriel Garc237a M225rquez)، جو چند ہفتے پہلے فوت ہوئے، دانائی کی علامت ہیں۔ کولمبیا میں جنم لینے والے اس عظیم مصنف اور صحافی نے اس دنیا کی خوبصورتی اور ظلم کے بارے میں لکھا ۔ اُن کی تحریر ہمیں بتاتی ہے کہ اس دنیا، جہاں تلخ حقائق اور دلکش خوابوں کے درمیان لکیر غیر واضح ہوتی جارہی ہے، میں محبت نجات کا سامان بھی بنتی ہے اور غلامی کا بھی۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی فضا ایسی سوچ رکھنے والی افراد کے لیے ساز گار نہ ہواور ہم اپنے دیس کی ہواؤں میں ایسے مصنف کو کبھی بھی سانس لیتا نہ دیکھ سکیں ، لیکن یہ دھرتی بالکل بھی بانجھ نہیں۔ یہاں صائب رائے اور پختہ شعور رکھنے والوں کی کمی نہیں ، تاہم میڈیا ایسے افراد کو درخورِ اعتنا نہیں گردانتا... درحقیقت ان کی تلاش بھی نہیں کی جاتی ۔ اس دوران میڈیا پر نیم پختہ خیالات اور محدود سوچ رکھنے والے ’’ماہرین ‘‘ کا جمِ غفیر موج در موج ’’ادھے ڈوبے، ادھرنکلے‘‘ کے مصداق عوام کو ابہام میں مبتلا کرکے اپنی ’’ریٹنگ ‘‘ بڑھانے میں مصرف رہتاہے۔
انہی ’نیم چڑھے‘‘ دانشوروں کی ہیجان خیزی نے پاکستانی میڈیا کو اس حال تک پہنچا دیا ہے ۔ اب بھی وقت ہے، اگر اس سنسنی خیزی سے جان چھڑا کر پاکستان کی مٹی سے پھوٹنے والی دانائی کو تلاش کیا جائے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوں یا نہ ہوں، ہم کم از کم ذہنی کرب سے نجات حاصل کرلیں گے۔
واپس ڈاکٹر مبشر حسن کی بات کرلیتے ہیں کیونکہ اس دن کی مناسبت سے ان کی بات سنی جانی چاہیے۔ اُن کی میرے میل باکس میں محفوظ ایک ای میل کے مطابق میڈیا پاکستان میں تبدیلی نہیں لاسکتا۔ اس کی بجائے ، وہ کہتے ہیں...’’ میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس بات پر غور کریں کہ انقلابی تبدیلیاں الفاظ سے نہیں، طاقت سے لائی جاتی ہیں۔ ‘‘ پی پی پی کے بانوے سالہ معمر بانی رہنماؤں میں سے ایک نے کہا...’’طاقت سے مراد اخلاقی طاقت نہیں بلکہ عوامی طاقت، ہتھیاروں کی طاقت، عوام کے جتھوں کی طاقت، ایسی طاقت جو نہنگوں کے نشیمن تہہ و بالا کردے۔‘‘دراصل مبشر حسن گھماپھرا کر بات کرنے کی بجائے دوٹوک الفاظ میں اپنے موقف کا اظہار کرلیتے ہیں اور ان کے نظریات ، گو کہ اختلاف کی گنجائش موجود، ان کی بے ریا فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ دانا انسان ہیں، لیکن جب وہ ریاست کی طاقت یا عوامی طاقت استعمال کرتے ہوئے یک لخت انقلابی تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں تو سوچ ذہن میں پیدا ہوتی ہے کہ کیا اس طرح پاکستان ترقی کرسکتا ہے جبکہ اس کے جمہوری اداروں اور ورکنگ باڈیز کو معطل کردیا جائے؟اس پر ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے...’’ مجھے یقین ہے کہ خون خرابے کے بغیر بھی پاکستان میں انقلابی تبدیلی ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ پاکستان کے موجودہ حکمران، جیسا کہ سیاست دان، اعلیٰ سرکاری افسر، صنعت کار، تاجر، سرمایہ دار، جاگیردار، میڈیا ھاؤسز اور ان سب کے غیر ملکی آقاآج بہت کمزور ہوچکے ہیں۔ ہماری ریاست کا ڈھانچہ انتشار کا شکارہوکرکمزور ہورہا ہے۔ ریاست میں قانون نامی کوئی چیز نہیں۔‘‘اس کا مطلب یہ کہ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ موجودہ صورتِ حال غیر معمولی تبدیلیوں کے ساز گار ہوچکی۔ کیا حالیہ دنوں پیش آنے والے کچھ غیر معمولی واقعات اس طرف اشارہ تو نہیں کررہے؟ایک مرتبہ ڈاکٹر حسن نے اپنے ایک کالم نگار دوست کو خط میں لکھا...’’ آپ گزشتہ پچیس برس سے پر مغرز مضامین لکھ رہے ہیں لیکن ان سے اقتدار کے ایوانوں میں بال برابر جنبش نہیں ہوئی۔ ‘‘میں نے ڈاکٹرصاحب سے پوچھا کہ کتنے ٹی وی چینل اور ان کے اینکرز ہیجان خیزی پیدا کرنے کی بجائے مثبت رائے عامہ تشکیل دے رہے ہیں تو اُنھوں نے نفی میں جواب دیا۔
عرب دنیا میں ابھرنے والی بیدار ی کی لہر کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا اثر تھا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا بعض وجوھات کی بنا پر اتنا موثر نہیں، لیکن الیکٹرانک میڈیا بھی عوام کو متحرک کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کسی میڈیا ھاؤس نے عوام تک کوئی مثبت پیغام پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ ایک بات یہ بھی کی جاتی ہے کہ ہم انقلاب کے لیے موزوں معاشرہ نہیں ہیں... کچھ دانشوروں کو اس میں بھی شک ہے کہ ہم کوئی معاشرہ ہیں۔ ایک سوچ یہ کہ جو ملک کسی انقلاب کی وجہ سے وجود میں آئے ہوں ، وہ کسی اور انقلاب کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان میں بتدریج تبدیلی آسکتی ہے اور یہ تبدیلی بہتر بھی ہوسکتی ہے۔ اس پر ڈاکٹر حسن کا کہنا تھا...’’ پاکستانی عوام کو کیسے تحریک دی جائے ؟ میں گزشتہ تیس برسوں سے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی میں ایسے دھڑے دکھائی دیتے ہیں جو حقیقی تبدیلی کے لیے کام کررہے ہوں‘‘۔وہ پاکستان کی تعلیم یافتہ کلاس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں ... اس میں عدلیہ، صنعت کار، سرکاری افسر، سیاست دان، دفاعی اداروں کے افسران اور نام نہاد لبرل طبقے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت این آر او کے مرہونِ منت تھی اور اس کا مقصد صرف مل بانٹ کا کھانا تھا۔ اس کی وجہ سے ملک کمزور ہوا۔ بہرحال ڈاکٹر مبشر حسن نے این آر او کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی اور اس کا جو حشر ہوا وہ سب جانتے ہیں۔
آج یومِ مزدور پر ڈاکٹر صاحب کی یاد آنا فطری امر تھا۔ایک وقت تھا جب پی پی پی کی صفوں سے انقلاب کی آواز آتی تھی۔مزدور، دہقان ، ہاری اوردیگر ملازم پیشہ افراد کو بھٹو کی صورت میں ایک مسیحا نصیب ہواتھا۔ ہماری تاریخ کے وہ لمحات بہت قیمتی تھے اور ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی بدلنے والی ہے، لیکن وا حسرتا ! مقبولیت حاصل کرنے کے بعد پی پی پی نے اپنے لیے جو منزل تراش لی ، وہ بھی ہماری تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہے۔ آج بھی مزدور وں کو دہقانوں کو بھٹو صاحب کی یاد آتی ہے، وہ کچھ سوچتے ہیں اور سرجھٹک کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور پھر ساحر کی قلمی جادوگری کے کیا کہنے...’’ہم نے ہردور میں محنت کے ستم جھیلے ہیں، ہم نے ہر دور کے ہاتھوں کو حنا بخشی ہے۔‘‘ آئے اپنے شہدا کے ساتھ ساتھ اپنے مزدوروں کوبھی سلام پیش کریں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *