ناکام ازدواجی زندگی میں والدین کا کردار

Photo Moulana waheed ud din sbمولانا وحیدالدین خان
میرے تجربے کے مطابق ، شادی کے ناکام ہونے کا سب سے بڑا سبب لڑکی کے ماں باپ کا غلط رول ھے۔میں نے پایا ھے کہ ماں باپ شادی کے وقت تو خوب دہوم مچاتے ہیں۔وہ اپنی استطاعت سے زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔حتی کہ فضول خرچی کا وہ کام کرتے ہیں جس کو قرآن میں شیطانی کام بتایا گیا ھے (الاسراء 27)۔لیکن لڑکی کے ماں باپ کے لئے اس سے زیادہ ضروری ایک اور کام ھے ، اس کو وہ بالکل انجام نہیں دیتے ۔اور وہ ھے لڑکی کو اس اعتبار سے تیار کرنا کہ وہ شادی کے بعد خوشگوار زندگی گزار سکے ۔تقریبا تمام ماں باپ کا یہ حال ھے کہ وہ اپنی لڑکیوں کے ساتھ لاڈ پیار تو خوب کرتے ہیں ، لیکن وہ حقیقی محبت کے معاملے میں ناکام رہتے ہیں ۔
ماں باپ کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ اپنی لڑکی کو ہمیشہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ۔ایک وقت آئے گا جب کہ وہ اپنے خاندان سے باہر کے ایک مرد سے اس کا نکاح کریں گے ، اور اس کے ساتھ رہنے کے لئے لڑکی کوبھیج دیں گے ۔یہ ایک کھلی ہوئی بات ھے کہ ماں باپ کے ساتھ جس ماحول میں لڑکی رہتی ھے ، وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ھے جو بعد کو شوہر کے ساتھ رہنے کی صورت میں اسے پیش آتاھے۔یہ بھی ایک واضح بات ھے کہ لڑکی کا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا عارضی ہوتا ھے اور شوہر کے ساتھ مستقل۔ایسی حالت میں ماں باپ کو چاہیے کہ اپنی لڑکی کو وہ آداب سکھائیں جو اس کے لئے بعد کی زندگی میں کام آنے والے ہیں۔وہ اس کو تربیت دے کر شوہر کی رفیق حیات بنائیں ، نہ کہ محض والدین کی نور نظر ۔
میرا تجربہ ھے کہ ننانوے فی صد سے زیادہ ماں باپ اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ان کی اس کوتاہی کی سزا ان کی لڑکی کو ساری عمر اپنی بعد کی زندگی میں بھگتنی پڑتی ھے۔مثلا عورت اپنی غیر حقیقی تربیت کی بنا پر ہمیشہ اپنے میکے کو اپنا گہر سمجھتی رہتی ھے ، حالانکہ صحیح یہ ھے کہ وہ شادی کے بعد اپنی سسرال کو اپنا گہر سمجھے۔اسی طرح والدین شادی کے بعد بھی اپنی لڑکی پر اپنا حق سمجھتے ہیں اور غیر ضروری مداخلت کرتے رہتے ہیں ۔والدین کا یہ رویہ محبت کے نام پر دشمنی ھے۔وہ صرف نادان دوستی ھے اور نادان دوستی ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتی ھے ۔

ناکام ازدواجی زندگی میں والدین کا کردار” پر ایک تبصرہ

  • مئی 25, 2016 at 6:46 PM
    Permalink

    مولانا وحید الدین خان صاحب ،آپ مردوں کی سمجھ میں یہ کیون نہیں آتا کہ ماں باپ کا کام صرف لڑکی کو شادی شدہ زندگی کے لیئے تیار کرنا نہیں ہونا چاہیئے بلکہ لڑکے کو بھی بعین اسی طرح تیار کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بیوی کو اپنے استعمال کی چیز اپنا بے دام کا غلام یا پیر کی جوتی نہ سمجھے ۔
    آپ سارے علماء کو اگر یہ ایک عقل کی بات سمجھ آجائے تو یقین جانیں شادی شدہ جوڑوں کے ننانوے فیصد مسائل حل ہوجائیں ۔
    اب بس کردیں آپ لوگ شادی کے جوے کا سارا بوجھ صرف لڑکی کی گردن پر رکھنا ،
    کسی بھی شادی کی اصل کامیابی میں مرد اور عورت دونوں کا برابر کا کردار ہونا لازم ہے ،بلکہ مرد کا عورت سے کہیں زیادہ ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے موقعوں پر آپ لوگوں کو نبی کریم کی سیرت اس حوالے سے بالکل بھول کیوں جاتی ہے ؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *