تیرے گھر جیسا میرا گھر نہیں(نظم)

qasim yaqoob

ماں ___تمھارے دکھ ہم سے دوگنے ہیں
تم بوڑھی ہو گئی ہو
اور ہم کو بوڑھا ہوتے دیکھ رہی ہو

ہمارے سکول بیگ میں ’’لنچ بکس‘‘ کی لذت بھر کے
تم سوچا کرتی
زندگی کا میٹھا رَس یہی ہے
ہاں، وہ شہد بھرے جذبوں کے لقمے
ہم دفتروں کی ذلت آمیزرُتوں کے بعدبھی نہیں بھولے

ماں سڑکوں پہ اڑنے والی دھول مرے گھر کے صحن میں آنے لگی ہے
صبح مرے باورچی خانے میں بچی ہوئی روٹی
باسی نہیں گرد کی تہہ سے اٹی ہوئی ملتی ہے
چینی کے برتنوں میں کھانے
پیٹ کی بھوک نہیں آنکھوں کی پیاس مٹاتے ہیں

ماں ہمیں محبت کرنا بھول گیا ہے
وہ محبت جو تم بے لوثی میں ہم سے کرتی
ماں تیری محبت ہم کو ورثے میں ملی تھی لیکن ہم نے
خواہشوں کی آلائشوں کے مول میں اُس کو
اک نفرت کے سوداگر کے ہاتھوں بیچ دیا
نفرت جس کا تہوار انسانوں کے خون کی ہولی ہے
ماں وہ محبت آج ڈسپوزیبل رشتوں کے کباڑ خانے میں پڑی ہے

ماں میں جیسا تیرا بچہ تھا
اب میرے بھی ویسے بچے ہیں
ماں میرے لیے دعا کر
میں اُن کے خون میں
تیرے جیسی محبت کا رَس گھول سکوں
اُن کے ہونٹوں کو تیرے گھر جیسی خوشحالی کا شہد چٹاؤں

لیکن ماں مجھ کو ڈر لگتا ہے
تیری محبت گھر کے صحن میں رہتی تھی
میری محبت ،کریڈٹ کارڈ سے شو کیسوں سے اُٹھا کے لائی ہوئی محبت ہے
ماں میرے بچے
تیرے بچوں جیسے کیسے ہو سکتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *