انتباہ

ali raza ahmed

جگہ جگہ لگائے گئے بڑے بڑے نوٹس بورڈز پر شاذو ناظرہی کسی کی نظر پڑتی ہے اور اگر پڑ بھی جائے تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ اشارے کو کافی سمجھنے والے اکثرفائدے میں رہتے ہیں مگر بعض اوقات باربار اشارہ کرنے والا خود بھی نقصان اٹھا لیتا ہے اور اسے نہ سمجھنے والا بڑبڑاتے ہوئے آگے نکل جاتاہے چنانچہ ان لمحات سے گھبراتے ہوئے ایک جگہ یوں متنبع کیا گیا تھا.... ’’یہاں ہر قسم کا نوٹس بورڈ ،خبردار ،انتباہ، ہدایات اور ہر خاص و عام کو مطلع کرنا منع ہے‘‘ کچھ طبیعت کو ناگوار گزرنے والے نوٹس بورڈز وغیرہ ملاحظہ فرمائیں...
* ایک کباڑی نے لکھوا رکھا تھا...یہاں مال مسروقہ کی نیلامی دیانت داری سے ہوتی ہے
*گجر ایسوسی ایشن کے دفتر میں مالی بے ضابطگی منظر عام پر آنے کے بعد یہ لکھا پایا گیا... اگر چیئرمین صاحب معاملے کی چھان بین خود کریں تووہ چند دنوں میں کٹی کٹا نکال کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرسکتے ہیں اور قصور وار کو مکھن کے بال کی طرح باہر نکال کر کلے سے باندھ سکتے ہیں
* آلہء سماعت بنانے والی کمپنی نے لکھوا رکھا تھا ... کانوں سے بہرے کا المیہ ہے کہ اسے کچھ نہیں سنتا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے اس کی بھی کوئی نہیں سنتا اس لئے آج ہی ہمارا آلہ خرید فرمائیں
*ایک شاہراہ پر یہ لکھا تھا ...بیوقوف کی پھرتیاں دنیا کی سست ترین چیز ہے
* ٹیکس کے دفتر کے باہر لکھا تھا..ہمارا بھی عجیب کھاتا ہے ہمارے محکمے کی نظر میں ہر شہری کی آمدنی مشتبہ ہوتی ہے اور شہری کی نظر میں ہمارا محکمہ
*ایک اخبار کی سرخی تھی...لندن جانے والے مسافر کی روح دوران پروازپرواز کر گئی...
*E.N.Tاسپیشلسٹ نے یہ لکھوا رکھا تھا...کانوں کی حفاظتی تدابیر بیان کرنا بیکار ہے لوگ اس پر کان ہی نہیں دھرتے...
* ایک بھوت نے سارے جنوں کے بچے ایک جگہ قید کر لئے اور غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد اس نے یہ نوٹس بورڈ لگایا... یہ جن جن کے بچے ہیں وہ جن اپنے جنوں کی جنس بتا کر انہیں واپس لے سکتے ہیں ۔۔۔ دوسری جانب اس نے یہ بورڈ لکھوا رکھا تھا ...جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ہوں گے ہاں وہی بھوت ہمیں ڈھونڈنے والے ہوں گے ...
*ایک حکیم نے لکھوا رکھا تھا...ہم جتنا آگے بڑھ کر پیٹ کی خاطر مدارت کرتے ہیں یہ اتنا ہی آگے بڑھ کر ہمارے آڑھے آتا ہے
*سینما میں لکھا تھا... دلکش چہرے فلموں میں آ جاتے ہیں اور باقی سینما آ جاتے ہیں *
فیملی پلانگ کے دفتر کے باہر لکھا تھا...یہاں بچوں کو ساتھ لانا منع ہے ہم آپ کو وقفے کا سبق پڑھاتے ہیں اورآپ بغیر وقفہ یہاں لے آ تے ہیں...
* کچہری میں کوئی لکھ گیا...قانون نافذ کرنے والے جتنی زیادہ’’ منصوبہ بندی ‘‘کرتے ہیں اتنے ہی قانون شکن پیدا ہوجاتے جاتے ہیں * ایک اخبار کی خبر تھی....ہارٹ اسپشلسٹ کا اچانک اپنے دل وارڈ کا دورہ
*ایک جگہ لکھا تھا...بالمشافہ ملاقات کے لئے باللفافہ تشریف لائیں...
*ایک سیاسی جماعت کے دفتر میں لکھا تھا ....وہ دن ہم سب پر بھاری گزرتا ہے جب پولیس کی بھاری نفری یہاں کا رخ کرتی ہے
* ایک بینک میں لکھا تھا...دولت مندوں کا حساب کتاب خراب ہوجائے تو وہ پریشان ہوکر اپنی نیند خراب کرتے ہیں اور ساتھ ہماری بھی....
* ایک شادی کے دفتر میں لکھا تھا...کسی سے تعلق نبھانا مشکل ہوتا ہے مگر بعض اوقات بے تعلق ہو کر اسے نبھانا زیادہ مشکل ہوتا ہے
* ایک دفتر میں لکھا تھا...یہ محکمے کی صواب دید پر ہے کہ وہ آپ کی گاڑی گھوڑا گاڑی قرار دے دے
* کاروں کی کمپنی نے لکھوا رکھا تھا...بعض اوقات انسان کے مقدر اتنے عجیب ہو جاتے ہیں کہ نئی کار کی خواہش کرتے ہی اس سے جا ٹکراتا ہے...
* یورپ کے ایک شخص سے پوچھا گیا آپ کیسے اتنے دولت مند ہوئے اس نے کہا میں نے ایک کتاب لکھی تھی اس کانام تھا ...دولت مند بنیں ’’ آسان ٹوٹکے‘‘
* ایک بینک کے لاکرز پر یہ لکھا تھا... دیکھا گیا ہے کہ گولڈن چانس انہی کو ملتے ہیں جن کے لاکرز میں گولڈ وافر مقدار میں پڑا ہوتا ہے اور جن کا ساراسونابک چکا ہو ان کے لب پر یہی ہوتا ہے کہ گولڈن چانس ضائع ہو گیا...
* سیکورٹی گارڈز بھرتی کرنے والے دفتر میں لکھا تھا...جس شہر میں چوروں کی وارداتیں زیادہ ہو وہاں چوکیداروں کو جاب آسانی سے مل جاتی ہے لہذا ہمارے ہاں بھی آسامیاں خالی ہیں...
*بچوں نے میری کتابوں کے نام جملے میں یوں استعمال کیے... اگر کسی’’ ایرے غیرے ‘‘نے’’ مزاح راہ‘‘ کیا تو ہم اس کی’’ دھجی آں‘‘ اڑا دیں گے
* ایک نشہ فروخت کرنے والے نے لکھوا رکھا تھا...مجھے چائنہ کی ترقی سے صرف ایک خوف ہے کہ وہ کہیں نشہ بناناشروع نہ کر دے...
* ایک پہلوان کی باتوں سے معلوم ہورہا تھا... اس کی باتوں کے ہاتھ بھی ہیں ،سر بھی ،کہنیاں اورٹانگیں بھی لہذا اس کی بات میں کوئی اپنی ٹانگ نہ اڑائے
* منی چینجر نے لکھوا رکھا تھا...اپنے چھوٹے سیکرٹ چھپاکر رکھیں بڑے سیکرٹ تو سب بڑے سامنے ہوتے ہیں
* ایک نئے کھلنے والے بینک میں لکھا تھا... دولت سے محروم لوگوں کی معاشرے میں کوئی ویلیو نہیں ہوتی اور دولت کا کوئی وطن نہیں ہوتا اور بے دولت کو قدم قدم قیمت چکانا پڑتی ہے لہذا آج ہی اپنا اکاؤنٹ کھلوائیں
* ایک رکشے پر لکھا تھاپرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں...شاعرکا مسخر اور مسخرے کا مسخر اور
* ایک شرابی سے ملاقات کے بعد ایک شخص نے اپنے ڈائری یو ں لکھی...وہاں میں بے سد ھ کھڑا تھا کیونکہ وہاں صرف مئے اور جام ’’چل ‘‘رہے تھے...
* ایک موسیقار نے اپنے دروازے پرشاگردوں کو یوں انتباہ کیا ہوا تھا ...گھر کا دروازہ مغلائی ٹھاٹ میں کھٹکھٹائیں...
* ایک میرج بیورو میں لکھا تھا...شادی کے آغاز میں گھر داماد بن کر قسمت آزمائی کریں بعد میں اپنی محنت سے خاوندوں میں شمار ہو جائیں ورنہ غیر شادی شدہ ہونے کا سیاسی تجربہ جاری رکھیں...
* ایک تھانے میں لکھا تھا...اگر آپ ہمارے خیر خواہ ہیں تو اپنے آپ کو قانون کی خیر خواہی سے بچا کر رکھیں...
* شطرنج ایسوسی ایشن کی کینٹین میں اعلان ہو رہا تھا...کوئی بادشاہ آدمی اپنا گھوڑا اُلٹے رخ باندھ گیا ہے جس نے ہماری کنٹین کے پیادے کو اپنی دولتی سے چیک میٹ دے دی ہے اس سے التماس ہے کہ وہ جہاں بھی ہے فوراً واپسی کی چال چلے ورنہ ہم خود گھوڑے کی بساط لپیٹ دیں گے...
* فٹبال کلب میں لکھا تھا...ریفری میچ سے آدھ گھنٹہ پہلے تشریف لائیں ورنہ پنلٹی کیلئے تیار رہیں
* بیوٹی پارلر میں لکھا تھا...آگ لگنے کی صورت میں ٹھنڈا پانی استعمال کریں...
* ٹرین میں یہ ہدایت لکھی تھی....کھڑکی سے سر باہر نہ نکالیںآپ ہاتھ سے سر دھوتے ہیں کہیں سر سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں
*کارپوریشن کے دفتر میں لکھا تھا ... سپرنٹنڈنٹ اتنا صفائی پسند نہیں مگر جھوٹ بڑی صفائی سے بولتا ہے
*ایک دفتر میں لکھا تھا ... انسان کا مزاج بڑی عالی شان چیز ہے لہذا اسے کسی کلرک کی مٹھی کی طرح گرم نہ رکھیں
* ایک پراپرٹی ڈیلر نے لکھوا رکھا تھا...جو شخص جھوٹ بولے اور خود کو اس کا بڑاچیمپئن سمجھے وہ ہمارے ساتھ میچ رکھ لے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *