صدارتی عہدے کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدواروں میں ممنون حسین سر فہرست

Mamnoo
اب جبکہ صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں دو دن ہی باقی رہ گئے ہیں تو اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت مسلم لیگ نون اپنے امیدواروں کی فہرست کو مختصر کرکے تین تک محدود کرپائی ہے۔

مسلم لیگ نون کے ایک سینیئر رہنما کے مطابق سابق گورنر سندھ اور پارٹی کے وفادار رکن ممنون حسین سرِ فہرست ہیں، جس میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس سعیدالزمان کے نام بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ چاروں صوبائی دارالحکومت اور اسلام آباد میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جولائی ہے۔ پولنگ چھ اگست کو ہوگی۔

کل بروز پیر 22 جولائی وزیراعظم نواز شریف نے ممنون حسین کو طلب کیا اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا کہ پارٹی انہیں صدارتی امیدوار نامزد کرنے پر غور کررہی ہے۔ ممنون حسین نے  تصدیق کی کہ وزیراعظم نے ان کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ انہیں حکمران پارٹی کا صدارتی امیدوار نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔

ممنون حسین ایک تجربہ کار مسلم لیگی ہیں، انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، کراچی (آئی بی اے) سے گریجویشن کیا، وہ جنرل پرویز مشرف کے حکمرانی کے دوران مسلم لیگ نون کی قیادت کےساتھ وفادار رہے، لیکن اس کے بعد وہ زیادہ نمایاں نہیں ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ 1960ء کے اواخر میں چھوڑنے کے بعد وہ سندھ میں مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئے تھے۔

اگرچہ ممنون حسین 70 اور 80 کی دہائیوں میں پارٹی کے ساتھ منسلک رہے، لیکن اس دوران ان کی توجہ ٹیکسٹائل کے بزنس پر مرکوز رہی۔

جب نوازشریف کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کردیا تو  1993ء کے دوران وہ پارٹی کی قیادت کے ساتھ نزدیک آتے چلے گئے۔

ممنون حسین نے کہا ”آگے چل کر میں پارٹی کا متحرک کارکن رہا اور مختلف عہدوں پر کام کرتا رہا، کچھ عرصے کے لیے میں نے مسلم لیگ نون سندھ کے قائم مقام صدر کے طور پر بھی کام کیا۔ اس وقت جبکہ میں پارٹی کا سینیئر نائب صدر ہوں، اگر پارٹی مجھے ملک کے صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرتی ہے تو مجھے یقیناً پارٹی کے عہدے سے استعفا دینا پڑے گا۔“

جون سے لے کر اکتوبر 1999ء تک سندھ کے گورنر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے سے قبل وہ اس وقت کے وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔

ممنون حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا ”کل شام تک واضح ہوجائے گا کہ مسلم لیگ نون کا نامزد امیدوار کون ہے۔ میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں کہ پارٹی کی قیادت نے میرے نام پر مجھ سے مشورہ کیا ہے۔“

لیکن ان کی اسلام آباد میں موجودگی یہ اشارہ کررہی ہے کہ مسلم لیگ نون ان کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے سلسلے میں اپنا ذہن تیار کرچکی ہے۔

مسلم لیگ نون کے ایک رہنما کے مطابق ممنون حسین یقینی طور پر پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ممنون حسین کا تعلق سندھ سے ہے اور ان کی جماعت پیپلزپارٹی کے اس پروپیگنڈے کا جواب دینا چاہتی ہے کہ مسلم لیگ نون نے وفاق میں پنجاب کے سیاستدانوں کو جگہ دی ہے۔

جب جسٹس سعید الزمان صدیقی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے   بتایا کہ اب تک حکمران جماعت کی طرف سے کسی نے بھی  اس سلسلے میں ان کے ساتھ رابطہ نہیں کیا ہے۔ یاد رہے کہ 2008ء کے صدارتی انتخاب میں وہ مسلم لیگ نون کی امیدوار تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *