تجزیے کا تجزیہ

Rauf tahirرؤف طاہر

اب وہ کالم کے علاوہ اپنے اخبار کے صفحہ اول پر ’’تجزیہ‘‘ بھی لکھنے لگا ہے۔ گاہے، اپنے کالم کا آغاز وہ کتابِ مقدس کی کسی آیت سے کرتا ہے، کبھی کسی حدیث ِ پاک کا حوالہ لاتا ہے، تاریخِ اسلام کے ایمان افروز واقعات بھی اس کے کالم کی زینت بنتے ہیں اور گوجر خاں کے درویش ِ خدامست کے فرمودات سے بھی وہ اپنے قارئین کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بلاشبہ صاحبِ اسلوب ہے اور صاحبِ فن بھی اور بڑی فن کاری سے قرآن کی آیات ، احادیث نبویؐ ، تاریخ اسلام کے واقعات اور گوجر خاں کے عارفِ زماں کے فرمودات کو اپنے ممدوح کی مدح اور اس کے حریفوں کی قدح کے لیے استعمال کرتا ہے۔زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ اس کی پہچان کپتان کے مدح سرا کی تھی، تب وہ جنرل کیانی کا بھی خودساختہ ترجمان تھا۔ وہ جنرل کی خلوت و جلوت کا شاہد ہونے کا تاثر بھی دیتا۔ ایک دن لکھا ، جنرل صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات گئے بستر پر جانے تک 60سگریٹ پیتا ہے۔اس کے بقول وہ نصف شب کے بعد تک جنرل کی سٹڈی میں بھی موجود ہوتاجہاں جنرل اس سے اپنے بھائیوں کے معاملات بھی ڈسکس کرتا، جنہیں اس نے باپ بن کر پالا تھا، اس کی فوجی زندگی کے ابتدائی برسوں میں ایسے دن بھی آئے کہ وہ ایک وقت کا کھانا ترک کر دیتا کہ یہ رقم اس کے گھروالوں کی کفالت میں کام آئے گی۔ یاد آیا، گزشتہ برسوں میں ایک دور ایسا بھی تھا، جب وہ خادمِ اعلیٰ کے خصوصی مقربین میں شامل ہونے کا تاثر بھی دیتا ۔ وہ ہیلی کاپٹر میں ان کے ساتھ سفر کرتا اور دانش سکولوں سمیت ان کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے رطب اللسان ہوتا۔ وہ خادمِ اعلیٰ کے ساتھ اپنی دو، دو گھنٹوں کی ملاقاتوں کا ذکر بھی کرتا اور یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا کہ اس دوران خادمِ اعلیٰ نے اپنی صاحبزادی کے ہاتھ سے بنی ہوئی دیسی مرغی کی ڈش سے اس کی تواضع کی۔
بات کسی اور طرف نکل گئی۔ ہم ان دنوں صفحہ اوّل پر چھپنے والے اس کے تجزیوں کا ذکر کر رہے تھے۔ اپنے تازہ تجزیے میں اس کا کہنا ہے کہ اب اس (جنگ ، جیو گروپ) نے تحریک ِ انصاف پر یلغار کر دی ہے۔ یہ تو آشکار ہے کہ وہ اسے (عمران خان کو) تباہ کرڈالنے کی پوری کوشش کریں گے، اس کی ہر کردہ ناکردہ خطا اچھالیں گے اور اسے تاریخ انسانی کا بدترین آدمی بنا کر پیش کریں گے۔
کیا فاضل تجزیہ کار نے ملک کے کروڑوں ناظرین اور قارئین کو اندھا اور بہرہ سمجھ لیا ہے ، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یلغار جنگ /جیو گروپ نے نہیں کی، اس کارِ خیر کا آغاز تو خود کپتان نے کیا ہے جسے ایک سال بعد یاد آیا کہ جنگ / جیو گروپ 11مئی کی انتخابی دھاندلی میں شریک تھا، (وہ سابق چیف جسٹس کو بھی اس سازش کا حصہ قرار دیتا ہے) افتخار احمد انتظار میں ہے کہ کپتان اپنی ٹیم کے ساتھ جیو کے اسٹوڈیو میں آئے اور لائیو ٹرانسمیشن میں اپنے اس الزام کو ثابت کرے۔ (یہ مناظرہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہوگا) ۔ حیرت ہے ، کپتان اس سنہری موقع سے فائدہ اُٹھانے پر آمادہ نہیں۔ باقی رہی ’’کپتان کی کردار کشی‘‘کی بات تو، ’’جنگ‘‘انتظامیہ کو میرا مشورہ ہے کہ اس میں زیادہ تحقیق و جستجو کی ضرورت نہیں ، اس کے لیے فاضل تجزیہ کار / کالم نگار کے ان کالموں کے اقتباسات ہی کافی ہیں جو موصوف نے الیکشن ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر کپتان سے ناراض ہونے کے بعد اس کے خلاف لکھے تھے۔ موصوف کا کہنا ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ قوم کی ایسی محبت افواج کو نصیب ہوئی ۔ نہیں جناب! 1965 کی جنگ میں بھی پوری قوم اپنی فوج کی پشت پر تھی۔ 1971ء میں بھی( موجودہ پاکستان میں) یہی کیفیت تھی۔ مشرقی پاکستان میں اپنے ہی بھائیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے والی مغربی پاکستان کے سیاسی قائدین اور حبیب جالب اور وارث میر جیسے اصحاب قلم بھی ، جب مشرقی محاذ پر پاک، بھارت جنگ چھڑی تو فطری طور پر پاک فوج کے لیے دُعا گو تھے۔
پاک فوج ہمیشہ پاکستانی قوم کی آنکھوں کا تارا رہی، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی طالع آزما اور اس کے مٹھی بھر رفقا بندوق، توپ اور ٹینک کی طاقت سے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں اور فوج کو متنازع بنادیتے ہیں۔ دور کیوں جائیں ؟ ابھی چھ ، سات سال قبل ڈکٹیٹر کے خودغرضانہ اور احمقانہ اقدامات کے باعث فوج کا وقار کس سطح پر آگیا تھا؟ آج فوج کو پھر قوم کی محبت نصیب ہے، تو اس لیے کہ جنرل کیانی کی زیرِ قیادت ، وہ ملک میں کسی سیاسی کشمکش کا حصہ نہیں تھی۔ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے والے کیا اِسے ایک بار پھر متنازعہ بنانا چاہتے ہیں؟ تجزیے کی اگلی سطور: ’’ آئی ایس آئی نے قانونی تحفظ اور فوج کے اپنے زیراثر علاقوں میں بائیکاٹ کے سوا اس ادارے (جنگ/جیو) کے خلاف اگر کوئی قدم اُٹھایا تو وہ یہ کہ ان کے نقطۂ نظر سے جو ذرائع ابلاغ مثبت کردار ادا کررہے ہیں، ان کی معقول انداز میں حوصلہ افزائی کی‘‘۔ ان سطور میں کیاتجزیہ نگار نے جنگ، جیو کے بائیکاٹ اور اس کے خلاف محاذ آرائی میں شریک ذرائع ابلاغ کے پسِ پشت ہاتھوں کی نشاندہی نہیں کردی؟ ہوئے تم دوست جس کے ۔
بعض دوستوں کا اصرار ہے کہ سول، ملٹری تعلقات میں ’’کشیدگی‘‘کا آغاز خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کے بیانات سے ہوا( اس بارے میں دونوں خواجہ صاحبان اپنا مؤقف تفصیل سے بیان کرچکے) لیکن تجزیہ نگار موصوف ایک اور کہانی بیان کرتا ہے، ایک اعلیٰ فوجی افسر کے بقول کشمکش کا آغاز خواجگان کے بیانات یا حامد میر پر حملہ سے نہیں ہوا،’’ اوّل دن ہی سے مسائل موجود تھے۔ ہمارے لیے سکھ کا ایک دن بھی نہیں آیا۔ ہمیں غیر محتاط لوگوں سے واسطہ پڑا، جو علاقے کی صورتِ حال اور عالمی حالات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور جن کی انائیں بہت بڑی ہیں‘‘۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ دفاعی اور خارجی پالیسوں پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے پر مصر ہے اور منتخب حکومت کو اس سب کچھ سے باہر رکھنا چاہتی ہے کہ یہ ’’غیر محتاط ‘‘ لوگ علاقے کی صورتِ حال اور عالمی حالات کو سمجھنے سے قاصر ہیں؟
فاضل تجزیہ نگار اب ایک اور پہلو کی طرف آئے، طالبان کے ساتھ مذاکرات میں جس بے تدبیری کا مظاہرہ ہوا، عسکری قیادت اس پر بھی ناخوش ہے۔ لیکن اس ’’بے تدبیری‘‘ کی کوئی تفصیل تجزیہ نگار موصوف نے بیان نہیں کی۔ طالبان سے مذاکرات کی پالیسی 9ستمبر 2013ء کو قوم کی منتخب قیادت کی میٹنگ میں طے پائی (جس میں عمران خان سمیت پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے قائدین کے علاوہ جنرل کیانی اور جنرل ظہیرالاسلام بھی موجود تھے۔ مذاکرات کا فیصلہ ان سب کے اتفاقِ رائے سے ہوا۔گزشتہ دنوں طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمے (لیکن مذاکرات جاری رکھنے کے اعلان ) کے بعد پرائم منسٹر ہاؤس میں منعقدہ نیشنل سیکیورٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں (جس میں جنرل راحیل شریف اور جنرل ظہیرالاسلام بھی موجود تھے) مذاکرات کو جاری رکھنے لیکن دہشت گردی کی کسی بھی کاروائی کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
تجزیہ نگار موصوف کا یہ انکشاف بھی معنی خیز ہے کہ ’’عالمی طاقتیں طالبان کے بارے میں وزیراعظم کے اندازِ فکر سے واضح طور پر ناخوش ہیں، بظاہرایسا نظر آتا ہے کہ انکل سام اور اس کے حلیف ان (نوازشریف ) سے ناامید ہوتے جار ہے ہیں‘‘۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انکل سام سمیت عالمی طاقتیں طالبان سے مذاکرات کی پالیسی پر ناخوش ہیں اور طالبان کمیٹی کا یہ مؤقف درست ہے کہ مذاکرات کی کامیابی میں امریکہ اور عالمی طاقتیں رکاوٹ ہیں؟ منتخب حکومت اور عسکری قیادت میں اختلاف کا ڈھنڈورا پیٹنے والے دانشور، طالبان سے مذاکرات کی حکومتی پالیسی کو بھی اس کا ایک سبب قرار دیتے ہیں۔ تو کیا اس حوالے سے پاک فوج کی قیادت ،امریکہ اور عالمی طاقتیں ایک ہی صفحے پر ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *