نظام تعلیم کی اصلاح میں ہمارا کردار

اسامہ الطاف

education

پچھلے کالم میں  ہم نے تعلیمی نظام کی خامیوں کا ذکر کیا تھا،اس کالم میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے کچھ تجاویز پیش کی جائیگی،تعلیمی نظام کی اصلاح کسی ایک فرد یا ادارہ کا مسئلہ  نہیں،نہ ہی ایک دوسرے پر انگلی پر اٹھانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے،مسئلہ کے حل کے لیے  تعلیمی نظام کے ہر عنصر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تعلیمی نظام کا محور اور پہلا عنصر یعنی طالب علم کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کرنا ضروری ہے،اول تو  طالب علم کو اپنا آپ پہچاننا ضروری ہے،طالب علم کو کم از کم یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اسکول کیوں جارہا ہے اور تعلیم حاصل کرنے کا اس کے مستقبل سے کیا تعلق ہے،دوسرا یہ کہ طالب علم تعلیم حاصل کرنے میں صرف اپنی نیت ہی صاف نہیں رکھنی چاہیے بلکہ اونچے عزم اور بڑے اہداف رکھے،حلال روزی کمانا صاف نیت ہے اور اونچا عزم تعلیم کے ذریعے اپنے دین اور ملک کی خدمت کرنا ہے،تیسرا یہ کہ طالب علم کا مقصد علم حاصل کرنا ہو،امتحان پاس کرنا نہ ہو،اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ طالب علم ہر موضوع کو سمجھنے کی کوشش کرے،نوٹس لکھنا اور روزانہ کی بنیاد پر سبق کو دہرانا سمجھنے میں مدد گار ہوگا،سمجھ کر حل کرنا طالب علم کی مختلف موضوعات سے اکتاہٹ کا علاج بھی ہے،کیونکہ اکتاہٹ اور عدم دلچسپی کا سبب ہی سبق کو تسبیح کی طرح بغیر سمجھےگردان کرنا ہے۔

تعلیمی نظام کا دوسرا اہم عنصر "استاد" ہے،استاد کی کتاب اور طالب علم کے درمیان پل کی حیثیت ہے،یعنی استاد کی بنیادی ذمہ داری کتاب میں موجود ثقیل مواد اور بے فائدہ فلسفہ سے مفید معلومات کو چھان کر طالب علم کے سامنے آسان اور مفہوم انداز میں پیش کرنا ہے،مقررہ موضوع  کا لب لباب اگر طالب علم سمجھ  جائے تو یہ کافی ہے،ضروری نہیں کہ طالب علم پوری کتاب یاد کرے،یہ کام فوٹو کاپی مشین زیادہ بہتر طریقہ سے سر انجام دیں سکتے ہیں۔تعلیمی ذمہ داریوں کے علاوہ استاد طالب علم کا فکری رہنما اور مربی ہے،اور آج کل طالب علم کے اندر ایک اچھی عادت ڈال دینا اس کو ایک علمی قانون سکھانے سے زیادہ اہم ہے ،کیونکہ علمی قانو ن سکھانے کے تو بہت طریقہ ہے لیکن اچھی عادات ڈالنے پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔

تعلیمی نظام کا تیسرا اہم عنصر " تعلیمی ادارہ " ہے،تعلیمی ادارہ کے بنیادی طور پر دو ذمہ داریاں ہے،پہلا طالب علم کو مناسب اور دوستانہ ماحول فراہم کرنا،جہاں طالب علم کو کسی حدتک آزادی بھی حاصل ہو،خاص طور پر اعلی تعلیمی مراحل میں جہاں طالب علم اپنے فائدہ نقصان سے آگاہ ہو وہاں بے ضرورت پابندیاں اور اسکول میں تھانہ کے قوانین لا گو کرنا طالب علم کی تعلیم اور تعلیمی ادارہ سے نفرت کا سبب بنتی ہے،طالب علم کی اسکول میں اہمیت ہو،اس کے مسائل اور تجاویز سنی جائے اور اس پرحسب حالت عمل بھی کیا جائے۔دوسری ذمہ داری تعلیمی ادارہ کی یہ ہے کہ طالب علم کی پوشیدہ صلاحیات کو اجاگر کیا جائے اورحوصلہ افزائی کی جائے،اس کے لیے مختلف مقابلوں اور پروگرامز کا انعقاد کیا جانا مفید ثابت ہوتا ہے۔

تعلیمی نظام کے مؤثر ترین عنصر یعنی حکومت(جس کی نمائندگی وزارت تعلیم کرتی ہیں) کی کیا ذمہ داریاں ہے؟؟موجودہ تعلیمی نظاکا ڈھانچہ،نصاب سے لے تعلیمی معیار تک،اور اساتذہ کی تربیت سے لیں کر طالب علم کی انتاج (output) تک،ہرچیز اصلاح کی محتاج ہے،اور ان سارے عناصر کا دارومدار حکومتی پایسیاں ہیں،اول تو موجودہ تعلیمی نظام میں ایک  معیاری تعلیمی نصاب تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے سارے تعلیمی ادارہ بشمول پرائیوٹ اسکول اور دینی مدارس پابند ہو،اس نصاب میں  دینی اور دنیوی معاملات،عقائد ،ثقافت،اجتماعیات سب کے بنیادی اصول طالب علم کو سکھائے جائے،نصاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کسی بھی علم کی ضرورت سے زیادہ تفصیلات نہ ہو،جس سے طالب علم کی عمر ضائع ہو،اتنی معلومات ہو جس سے ہر موضوع کا ایک سطحی تصور ذہن میں آجائے ،اور پھر طالب علم جس موضوع میں دلچسپی رکھتا ہو اس موضوع کو اعلی تعلیمی مراحل اور یونیورسٹی میں تفصیلات سے پڑھے،طالب علم کو مناسب موضوع کے اختیار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ورک شاپ ارو سیمینارز کا انعقاد کیا جائے،اس نظام سے ایک معتدل اور مہذب معاشرہ کا قیام ممکن ہوگا،جس میں ہر شخص کو اپنے کام میں  اپنی دینی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا علم ہوگا۔

ہمارے معاشرہ میں ریسرچ  کا رواج نہیں ہے، تعلیمی نظام کے ذریعہ ریسرچ کلچر کو بھی فروغ دینا  حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ ہم وہمی معلومات کے بجائے محسوس حقائق تک پہنچے اور اس میں ترقی کرے،یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ ریسرچ کرنا متعلقہ علم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد کا مرحلہ ہے،ورنہ پانچویں کا طالب اپنی "ریسرچ " کے ذریعہ اپنی پسند کے پہاڑے اختراع کرلیں۔

امتحانات کے طریقہ کار کی اصلا ح بھی وقت کی ضرورت ہے،اول تو سوالات کی نوعیت  پر نگرانی ہو،اس طرح کے سوالات کی اجازت نہ ہو جس میں جان بوجھ کر طالب علم کے نمبر کاٹنے کی کوشش کی گئی ہو،یعنی ایسا نہ ہو کے طالب علم مختصر اور مجمل جواب لکھے تو اس کے نمبر اس لیے کاٹے جائیں کیونکہ کاغذ نہیں بھرے ہوئےاور بے فائدہ فلسفہ نہیں لکھا گیا،  کمپیوٹرائز چیکنگ  ہو تاکہ منصفانہ طریقہ سے نمبر دیے جائے۔امتحانات سے متعلق کیلیفورنیا میں پچھلے ہفتہ ایک پروگرام تیار کیا گیا ہے جو طالب علم کی سابقہ کاکردگی کی بنیاد پر طالب علم کی تعلیمی قابلیت کا اندازہ لگالیتا ہے،یعنی امتحانات سے نجات!!!

14 لاکھ طالب علموں پر کیے جانے والےتجربہ85٪  کامیاب رہا۔کیا معلوم کے یہ پروگرام ہی ہميں امتحانات کے جھنجھٹ سے آزاد کردیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *