امریکہ کا دورنگا انصاف

Ashraf q

اشرف قرشی

کیا پاکستان بھی کبھی امریکہ سے یہ کہنے کے لائق ہو سکے گا کہ ”امریکہ میں کالے اور گورے کے لئے انصاف کا جو الگ الگ معیار ہے، وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔سنیفرڈ فلوریڈا کے واقعہ کے خلاف فلوریڈا سے لے کر کیلی فورنیا تک اور امریکہ کے دوسرے شہروں میں یکساں انصاف کے حامی جو مظاہرے کررہے ہیں، ان کی تشویش دور کی جانی چاہیے اور ریاست فلوریڈا میں ....Stay on your ground....کا جو قانون ہے ، اسے انصاف کے عالمی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے“۔

امریکہ جو دنیا بھر کو قانون وانصاف اور انسانی و سیاسی حقوق کا درس دیتا ہے۔ہے کوئی جو اسے بھی بتائے کہ انصاف کے دورنگ نہیں ہوتے۔یہ کالے اور گورے کے لئے یکساں ہوتا ہے اور اسے یکساں ہونا چاہیے ،اگر کسی ایک رنگ کے لوگ یہ محسوس کریں کہ انہیں انصاف فراہم نہیں ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے انصاف کے نظام میں ضرور کوئی بنیادی خرابی ہے۔

اس سال فروری میں جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا تومَیں نے اس پر ایک کالم لکھا تھا۔مجھے اندازہ تھا کہ اس کیس نے آگے چل کر کیا رُخ اختیار کرنا ہے۔فلوریڈا ان گیارہ جنوبی ریاستوں میں سے ایک ہے جو سفید فام برتری کے زعم میں مبتلا ہیں۔ریاست میں حفاظت خود اختیاری کے حوالے سے ایک عجیب و غریب قانون موجود ہے،جسے عرف عام میں.... Stay on your ....groundکے نام سے پہچانا جاتا ہے،جس کا سادہ الفاظ میں یہ مطلب ہے کہ اگر آپ اپنی ملکیتی زمین پر کھڑے ہیں اور آپ کو کسی سے کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے تو آپ اپنی حفاظت کے لئے کوئی انتہائی قدم اٹھانے میں حق بجانب ہوں گے۔زمرمین جو خالص گورا بھی نہیں ہے،باپ کی طرف سے یہودی اور ماں کی طرف سے سپینش ہے.... فلوریڈا کے سپینش بھی زیادہ تر کیوبا کے تارکین وطن ہیں، جنہوں نے کیوبا سے بھاگ کر فلوریڈا (امریکہ) میں پناہ لی ہے۔نیویارک یا شکاگو میں سپینش سیاہ فاموں اور دوسری اقلیتوں کا ساتھ دیتے ہیں، لیکن فلوریڈا کے کیوبن سپینش خود کو گوروں میں سے سمجھتے ہیں،پھر جس کا باپ گورا یہودی ہو، اس کے گورا ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں رہ جاتا۔

فلوریڈا میں گوروں نے اپنے طور پر کچھ رہائشی علاقوں کے گرد حفاظتی دیواریں وغیرہ تعمیر کررکھی ہیں اور علاقے کے رہائشی خود ہی اس کے لئے گارڈز بھی مقرر کرتے ہیں۔زمرمین ایسا ہی گارڈ تھا۔زمرمین ایک پختہ عمر کا درمیانے قد کا مرد ہے ۔قدر کاٹھ کے لحاظ سے کسرتی جسم کا مالک ہے، جبکہ جس کالے لڑکے کو اس نے قتل کیا، اس کی عمر سترہ سال تھی اور وہ غذائی قلت کا مارا ہوا ایک کالا تھا۔پولیس اور مقامی انتظامیہ نے پہلے ہی مرحلے پر زمر مین کے خلاف کسی کارروائی کو خارج از امکان قرار دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمرمین نے ”سٹینڈ آن یورگراﺅنڈ“ کے قانون کے مطابق اپنا حق حفاظت خود اختیاری استعمال کیا ہے، اس لئے کوئی کیس بنتا ہی نہیں ہے۔ زمرمین نے بیان دیا تھا کہ لڑکے نے اسے پکڑ کر اس کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرایا تھا،اگر وہ اسے گولی نہ مارتا تو وہ یقینا اسے ہلاک کر دیتا۔پولیس نے اس بیان کو مان لیا۔لڑکے کے پاس فون نہیں تھا،جبکہ زمرمین کے پاس گن بھی تھی اور فون بھی تھا۔اس نے 911پرپولیس کو کال کی۔اس کا کہنا تھا کہ ایک کالا لڑکا ہے،جو ”مشکوک“ ہے اور وہ (زمرمین) اس کا پیچھا کررہا ہے۔

911کے آپریٹر نے اسے کہا کہ وہ اس کا پیچھا نہ کرے، کیونکہ پولیس پہنچنے والی ہے، لیکن اس کال کے دوران ہی زمرمین نے اس کالے لڑکے (ٹرے وون) کو گولی مار دی۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جس وقت زمرمین 911کے آپریٹر سے بات کررہا تھا تو پس منظر میں ٹرے وون کی مدد، مدد کی آوازیں اور چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ٹرے وون کے باپ کے وکیل نے اس گفتگو کو عدالت میں پیش کرنا چاہا، لیکن جج نے اسے اجازت نہیں دی۔امریکہ بھر سے اس کیس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اپیلیں کی گئیں تو اپریل میں جا کر مقدمہ درج کیا گیا۔اس طرح جائے واردات پر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ جائے واردات سے قتل کے شواہد حاصل نہیں کئے جا سکے،کیونکہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد وہ ضائع ہو چکے تھے۔زمرمین کی طرف داری میں سارے گورے اکٹھے ہو گئے، اس کی ضمانت کے لئے فنڈریزنگ کی گئی، کیونکہ زمرمین کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ضمانت کے لئے رقم نہیں ہے۔بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے اکاﺅنٹ میں اس قدر رقم موجود تھی،جس سے وہ اپنی ضمانت کرا سکتا تھا۔

زمرمین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ”سٹینڈ آن یور گراﺅنڈ“ کے قانون سے واقف ہے تو اس نے کہا ،اسے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ زمرمین پولیس میں بھرتی ہونے کا خواہش مند تھا اور اس مقصد کے لئے اس نے قانون کی کچھ کلاسیں اٹینڈ کی تھیں۔اس کے ٹیچر کا کہنا تھا کہ اس نے یہ قانون اپنی کلاس میں پوری تفصیل سے پڑھایا تھا اور ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ زمرمین نے وہ ساری کی ساری کلاسیں اٹینڈ کی تھیں۔ زمرمین کے سارے جھوٹ نظر انداز کردیئے گئے ،لیکن زمرمین کا وکیل سیاہ فام بچے کے فون کا ریکارڈ نکلوا لایا،جس میں بتایا گیا تھا کہ وہ کراٹے سیکھتا تھا اور اس نے کسی سے گن خریدنے کی بات کی تھی۔یہ ایسی باتیں ہیں،جو اس عمر کے بچوں میں اکثر پائی جاتی ہیں، اس میں کالے اور گورے میں بھی کوئی اختصاص نہیں ہے۔جج نے اس ریکارڈ کو قبول کرلیا اور زمرمین کے وکیل نے اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مقتول کوئی عام یا بے ضرر بچہ نہیں تھا، بے حد خطرناک تھا۔

جب جیوری قائم ہو رہی تھی تو آزاد میڈیا کے ایک ذریعے نے خبر دی کہ زمرمین بچ جائے گا، کیونکہ استغاثہ وکیل صفائی کا کام کررہا ہے۔جب جیوری قائم ہوئی تو یہ چھ گوری عورتوں پر مشتمل تھی۔اس وقت مجھے بھی احساس ہوا کہ زمرمین کو قاتل قرار نہیں دیا جائے گا۔گوری عورتیں گورے مردوں سے زیادہ متعصب ہوتی ہیں، جو صبح سکول روانہ کرتے وقت ہر روز اپنے بچوں کو یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتی ہیں کہ کالے بچوں سے دور رہنا، وہ تمہیں غلط کاموں پر لگا دیں گے،لیکن بعض غیر جانبداراخباری حلقوں کا خیال تھا کہ اگر زمرمین کو قاتل، قتل عمد کا مجرم نہ ٹھہرایا گیا تو کم از کم بے ارادہ قتل ...."Culpable man slaughter" ....کا مجرم تو قرار دیا جائے گا۔جیوری زمرمین کو گناہ گار یا بے گناہ قرار دینے پر منقسم تھی ،اس صورت میں یہ ”مس ٹرائل“ ہوتا اور دوبارہ ٹرائل کرنا پڑتا، اس لئے عدالت نے جیوری پر زور دیا کہ متفقہ فیصلہ لاﺅ،جس پر زمرمین کو گناہ گار سمجھنے والی ارکان جیوری نے بھی اسے بے گناہ قرار دے دیا۔

اب اس فیصلے کے خلاف احتجاج کی زبردست لہر چل پڑی ہے۔اے بی سی نیوزنے ایک روز پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ زمرمین کو بے گناہ ٹھہرایا جائے گا۔این اے اے سی پی (NAACP)نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلر پیپل نے احتجاج کی اپیل کی۔ان اپیلوں میں اس سے قبل کئی سیاہ فاموں کے اسی طرح کے قتل کے واقعات بھی بیان کئے گئے،جس پر نیویارک سے شکاگو اور کیلی فورنیا تک جہاں جہاں سیاہ فام موجود ہیں، مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔کچھ دوسری تنظیمیں بھی ان کا ساتھ دے رہی ہیں، جیسے ڈرون حملوں کی مخالفت کی وجہ سے شہرت پانے والی تنظیم کوڈپنک کی بانی میڈیا بنجامن نے بھی سیاہ فاموں کے لئے انصاف کی اپیل ہے۔

آرٹسٹ لوگ اس واقعہ پر اپنے انداز میں احتجاج کررہے ہیں۔سیاہ فام نابینا گلوکار سٹیوی ونڈر نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک فلوریڈا نہیں جائے گا،جب تک وہاں بدنام زمانہ ”سٹینڈ آن یور گراﺅنڈ“ قانون موجود ہے۔کچھ گلوکاروں نے اپنے گیت ٹرے وون سے منسوب کردیئے ہیں۔لاس اینجلس میں ایل اے ٹائمز کے مطابق مظاہرین پُرامن تھے، لیکن خبروں کے مطابق سترہ مظاہرین کو متشددانہ طرز عمل پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔مین سٹریم میڈیا زیادہ تر سفید فام نقطہ ءنظر کا پراپیگنڈہ کررہا ہے،جس کے مطابق زمرمین کے طرزعمل میں کسی تعصب کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔حالانکہ زمرمین نے اسے محض کالا ہونے کی وجہ سے مشکوک قرار دیا،جبکہ وہ دکان سے کچھ اسنیک اور سوڈے کی بوتل لے کر جا رہا تھا، اگر نوجوانوں ، بالخصوص کالوں کی طرح اس نے Hoodieپہن رکھی تھی(ایسی جیکٹ جس کے پچھلی طرف سر کو ڈھانپنے کا تھیلا سا لگا ہوتا ہے) تو یہ کوئی مشکوک بات نہیں تھی۔ بعض مظاہرین اس لئے Hoodieپہن کر احتجاج کررہے ہیں۔انہوں نے کتبے اٹھا رکھے ہیں:”ہم سب مشکوک ہیں“۔ بعض حلقوں نے یہاں متعصب ترین ریاست مسس سیپی میں 1955ءمیں ایک چودہ سالہ سیاہ فام بچے کے قتل کا حوالہ دیا ہے،جسے ایک گوری عورت سے فلرٹ کرنے پر قتل کردیا تھا۔اس بچے (ایمٹ ٹل) کو تشدد کا نشانہ بنا کر ایک آنکھ نکالنے کے بعد گولی مار دی گئی تھی۔اس کا قصور اتنا تھا کہ ایک سٹور کی مالکن سے اس نے بات کی تھی۔عہد غلامی میں تو اس طرح کی بے شمار مثالیں تھیں،لیکن آئینی طور پر غلامی کے خاتمے کے بعد بھی سیاہ فاموں کے لئے سیاہ رات ختم نہیں ہوئی۔وہ آج بھی دورنگ کے انصاف کے درمیان کھڑے ہیں، کیونکہ گوروں کے لئے انصاف اور ہے ،کالوں کے لئے انصاف اور ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *