ہمارے حقیقی اور فرضی مسائل

Ayaz Amirایاز امیر

ہماری قومی زندگی پر دو جذبات کی حکمرانی مسّلم... ایک تو حقائق سے فرار اختیار کرنا اور دوسرے فرضی مسائل میں پورے جوش و خروش سے مگن ہوجانا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، ان دونوں جذبات کو موجزن کرنے میں لاؤڈ سپیکراہم کردار ادا کرتا تھا۔ کوئی مولوی، کوئی قومی مصلح، کوئی مسیحا لاؤڈسپیکرکے بغیر سانس بھی نہیں لیتا تھا... اور نہ لینے دیتا تھا(مراد سانس ہے)۔ان سب کے لیے ناگزیر اس برقی آلے کی جگہ اب چوبیس گھنٹے چلنے والے ٹی وی نے لے لی ۔ وہ کج فہم جن کی بے سروپا باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا، اب ٹی وی سکرین پر دانشمندی کے جواہر بکھیر رہے ہوتے ہیں۔ یہ قوم ان بقراطوں کے لیے ترنوالہ اس لیے ثابت ہورہی ہے کہ اس کے پاس کرنے کے لیے ڈھنگ کا کوئی کام نہیں۔ پنجابی کہاوت ہے...’’ویلی رن پرونیاں جوگی‘‘(فارغ عورت کو مہمانوں سے ہی فرصت نہیں ملتی)۔
وہ دن، بلکہ یوں کہہ لیں راتیں، ہوا ہوئیں جب رقاصائیں اور وہ حسینائیں، جن کے بارے میں مرزا نے خبردار کردیا تھا کہ ’’جس کو ہو دین و دل عزیز، اُس کی گلی میں جائے کیوں‘‘کی بہت’’ ڈیمانڈ‘‘ہوتی تھی۔ تاہم اب ان کی جگہ ٹی وی پروگراموں کے شرکا نے لے لی ہے... نصیب اپنا اپنا۔ کچھ سنجیدہ لہجے والی نوجوان خواتین کہا کرتی تھیں...’’سر آج شام اس چینل پر آ جائیں۔‘‘ میں چلا جایا کرتا تھا کیونکہ شروع میں کچھ آوازیں واقعی سنجیدہ اور باوقار محسوس ہوتی تھیں لیکن جب مجھے اس کھیل کی سمجھ آتی گئی تو میں اس سے اکتاگیا۔ مجھے احساس ہوا کہ جو وقت ٹی وی اسٹوڈیو میں صرف ہوجاتا ہے، اس سے بہتر کہ اُس وقت کسی کتاب کا مطالعہ کرلیا جائے یا گلاس میں اپنا پسندیدہ مشروب انڈیل کر سہگل کی غزل سن لی جائے۔
چوبیس گھنٹے نشر ہونے والی خبریں اس بھوکے درندے کی طرح ہوتی ہیں جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور وہ ہرآن کچھ نہ کچھ ہڑپ کرتا رہتا ہے۔ جب آپ ٹی وی پر ہر لمحہ بریکنگ نیوز اور پھر ان پر تبصرے سنتے رہتے ہیں تو گمان یہ گزرتا ہے کہ اس ملک میں چوبیس گھنٹے قیامت خیز واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس دوران قوم سکرین پر نظریں جمائے ہمہ تن گوش ہوکر بیٹھی رہتی ہے کیونکہ اس کے پا س کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ سچ کہا کسی دانشور نے کہ فراغت کی مصروفیات بھی قیامت ہوتی ہیں۔ہمہ وقت جاری خبری نشریے عوام کے دل میں غیر اہم معاملات کی اہمیت بھر دیتے ہیں جبکہ ان کی اُڑائی ہوئی گرد میں اصل مسائل نظر سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر وقت ایک تماشا سا لگا رہتا ہے اور ہم اس سے دل بہلانے کو قومی فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
آج کل قوم کو تین معاملات میں مگن کرکے دیگر مسائل سے بے خبر رکھنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے۔ یہ ’’حب الوطنی، میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کو لاحق خطرہ‘‘ ہیں۔ عمران خان خوش ہیں کہ اس نے قوم کو نان ایشوز میں اس طرح الجھا لیا کہ کوئی بھی خیبر پختونخواہ میں ان کی حکومت کی ناقص کارکردگی پر سوال نہیں اٹھا رہا ۔ نواز شریف بھی خوش کیونکہ انہیں ایک مرتبہ پھر جمہوریت کا رکھوالا سمجھا جارہا ہے جبکہ اس دوران حکومت کی کارکردگی کا سوال پسِ منظر میں چلاگیا ۔ دفاعی ادارے بھی خوش کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے حق میں نعرے لگارہی ہے اور یہ کوئی بری تبدیلی نہیں۔ میڈیا پر بھی وارفتگی کا عالم طاری ہے کیونکہ نہایت کامیابی سے یہ تاثر ابھار کر کہ میڈیا کی آزادی خطرے میں ہے، صف شکن (ایک چینل سے دوسرے میں جانے والے) قطار اندر قطار مورچہ زن ہیں۔اس شور و غل کو سن کو گمان ہونے لگتا ہے کہ ہمارے ہاں کوئی حقیقی مسلہ ہے بھی یا نہیں۔لوڈشیڈنگ؟ کیا کوئی نواز شریف صاحب کو یاد دلانے کی کوشش کرے گا کہ ایک سال قبل جناب نے کیا فرمایا تھا؟اگر رائے ونڈمحل میں بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی تو شاید وہ آمادہِ عمل ہوتے۔
طالبان نے ہمیں کیا رعایتیں دینی تھیں، ہم پولیو سے بھی نہیں نمٹ سکے یہاں تک کہ عالمی برادری کی نگاہوں میں اچھوت کا درجہ پانے والے ہیں۔ کیا وہ جغادری جو طالبان سے مذاکرات کررہے تھے( اورباقی وہ جو ان کے غم میں گھل رہے ہیں)ان سے دست بستہ ہو کر، نہایت ادب سے جان کی امان پاتے ہوئے پوچھ سکتے ہیں کہ جناب ہمارے پولیو کے قطرے پلانے والوں کو تو معاف کردیں، قوم معذور ہورہی ہے۔ بچوں کی معذوری تو درندوں کا دل بھی پگھلادیتی ہے، لیکن شاید ان کے پیشِ نظر کچھ اور معاملات ہیں، اس لیے وہ ان ’’بچگانہ ‘‘ معاملات سے سروکار نہیں رکھتے۔ اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو ہم نے امامِ کعبہ سے درخواست کی ہے کہ وہ پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ہماری مدد کو آئیں۔ عالمی سطح پر ہم اپنا مزید کتنا تمسخر اُڑایا جانا برادشت کرسکتے ہیں؟ دس سے پندرہ دن پہلے، جب لوڈ شیڈنگ پورے جوبن پر تھی، تو پانی اور بجلی کے سیکرٹری کو نہایت عجلت میں ترکی بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں سے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کچھ تعویذلے کر آئے۔ یہ مانا کہ ہمارے ہاں کام کی رفتار اور معیار بہت کمزور ہے ، تسلیم کہ ہم نہ جرمنی ہیں نہ جاپان لیکن کیا ملکی سطح پر معاملات اس طرح چلتے ہیں؟
گزشتہ انتخابات میں میاں صاحب نے اس وعدے پر ووٹ لیے تھے کہ وہ بجلی کی کمی دور کریں گے۔ اب ایک سال ہوگیا اورکچھ بھاری جیبوں میں بھاری رقوم انڈیلنے کے علاوہ اور کیا کچھ کیا ہے؟لیکن کارکردگی کے ڈھول بجائے جارہے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کوئی عملی مسلہٌ نہیں ، حریف ذہنیت کی پیداوار ہے۔ پہلے مشرف غداری کیس اور اب جیو اور آئی ایس آئی کا معاملہ حکومت کے لیے نعمتِ غیر مترکبہ ثابت ہوا کہ ان دونو ں کیسز میں حکومت نے جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آزادیِ اظہار کا چمپئن بنتے ہوئے اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹا لی۔ لگتا ہے کہ اس میں تمامِ موسمِ گرما گزرجائے گا اور میاں صاحب کے سینے پر جمہوریت کے دفاع کے کچھ اور تمغے بھی سج جائیں گے۔
یہ سب کچھ ٹھیک ،لیکن پاکستانی جمہوریت ایسے مسائل پیدا کرکے ان سے مزہ لینے کی عادی کیوں ہوچکی ہے؟سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں کچھ حلقے جمہوریت کے حق میں نہیں اور جب ایسے عناصر کا بس چلتا ہے ،وہ جمہوریت کابوریا بستر گول کرنے میں معاونین کا کردار اداکرتے ہیں۔ تو کیا یہ جمہوری حکومت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ محتاط رہے اور غیر ضروری مہم جوئی میں الجھنے کی رغبت سے باز رہے ۔ اس کی بجائے کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنی جڑیں مضبوط کرے۔ سیاست کو پہلوانی کے شوق سے باہر آنا ہوگا کہ ہر کسی سے دو دو ہاتھ کیے بغیر حکمرانی کا مزہ کیا؟ دراصل پہلوانی کا شوق بھی پورا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کچھ بنیادی معاملات کا درست ہونا ضروری ہے، لیکن مشرف ٹرائل میں اہم معروضات کو نظر انداز کیا گیا اور جب آئی ایس آئی کے ساتھ حالیہ معاملہ پیش آیا تو بر وقت اس کی دل جوئی کے لیے بیان نہیں دیا گیا۔
یہ ثابت کرنے کے لیے اس ملک میں حماقت پر کسی کی اجارہ داری نہیں ، آئی ایس آئی جیو اور جنگ گروپ پر دباؤ بڑھانے کے لیے آخری حد تک جارہی ہے۔ اس کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیاں ایک تماشا بن کے رہ گئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان ریلیوں ، جن میں انتہا پسندتنظیمیں پیش پیش ہیں، سے آئی ایس آئی کے وقار میں اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ حافظ سعید صاحب کشمیر آزاد کرانے میں ہی مصروف رہتے تو بہتر تھا، اب آئی ایس آئی کے حق میں ریلیاں نکال کروہ اس کے لیے ندامت کا سامان بن رہے ہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے دفاعی اور خفیہ اداروں کو سنجیدگی سے سوچتے ہوئے اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر ممالک، جہاں آمریت تھی، نے بہت مشکلات برداشت کرتے، پرخطر راہوں پر چلتے ہوئے جمہوریت کی منزل حاصل کرلی۔ سپین ، پرتگال، یونان، لاطینی امریکہ، انڈونیشیا اور بہت سے دیگر ممالک میں طاقت ور �آمریت نے پنجے گاڑے ہوئے تھے لیکن ان تمام ممالک میں جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہوچکی ہے۔ ہمارے ساتھ کیا مسلہ درپیش ہے؟ہمارے سیاسی طبقے کی بالغ نظری میں کیا امر مانع ہے ؟ہماری گردنوں پر کن پیرانِ تسمہ پا کی گرفت ہے؟

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *