مغربی کلچر؟

محمد سلمان رحمانی

salman rehmani

بنیادی بات یہ ہے کہ مذہب اور سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں جو لوگ موجودہ سیاست کے اثبات کے لئے خلفاء اربعہؓ کے ادوار کی مثالیں پیش کرتے ہیں وہ موجودہ نظام ،موروثی سیاست اور اگر میں یہاں تک کہوں کہ گھنوؤنی و تعفن زدہ سیاست کو ٹھیک کرنے کے بجائے اسکی حمایت میں روایات اور مذہبی تصورات پیش کرکے جمہوریت کا ننگا راگ الاپتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔
اگر ان حضرات سے پوچھا جائے کہ خلفاء اربعہؓ کے ادوارکی سیاست جھوٹ پر مبنی تھی یا ان کے دور میں جعلی ادویات اس طرح انسانی جانوں کو ضائع کر رہی تھیں جس طرح آج ہے ،یا انکی سیاست میں دھوکے بازی اور سر سبزشاداب لولی پاپ کے انبار تھے جو آج جمہور کو دکھائے جاتے ہیں؟ اور اقتدار میں آنے کے بعد نہ جمہوریت کو دیکھا جاتا ہے اور نہ جمہور کو ۔
حضرت عمرؓ کے دور میں انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر ایک کتا بھی دجلہ کے کنارے پیاسا مر جائے تو اسکی باز پرس عمرؓ سے کی جائے گی اور قیامت کے دن اگر سوال کیا گیا تو عمر اسکا کیا جواب دے گا ، کیا آج کے جمہوری نظام میں غریب عوام اور خود ساختہ مہنگائی کے انبار تلے سانس لینے والے مجبور جمہور اس کتے سے بھی بد تر ہو چکے ہیں ؟
آج چند ملا ازم لوگ جنکا مذہب اور مذہبی روایات سے دور دور تک کوئی تعلق نہ ہے وہ کہتے ہیں کہ ویسٹ کلچر کو کبھی پنپنے نہیں دیا جائے گا ، اگر اُن سے پوچھا جائے کہ کیا ویسٹ کلچر میں ایک غریب انسان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں ؟ کیا وہ دودھ میں ملاوٹ کرتے ہیں ، کیا انکی ریاستی رٹ کمزور ہے ، کیا ان کے تھانے سیاسی شہ پر چلتے ہیں ، کیا ان کا پڑھا لکھا نوجوان لال پیلی ٹیکسیاں چلا رہا ہے ، یا پڑھ لکھ کردر در ٹیوشن پڑھا کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہا ہے ،کیا رشوت ستا نی ویسٹ کلچر کی نص نص میں رچی ہوئی ہے ، کیا وہاں کے سرکاری افسران کام نہ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں اور کام کرنے کے لئے عوام سے پیسے وصول کرتے ہیں ،کیا ان کے حکمران اتنے کرپٹ ہیں کہ ان کو 146146کرپٹ آف کوئین145145 یا 146146کرپٹ آف کنگ145145 کے القابات سے نوازا جاتا ہے ،کیا ان کے تعلیمی ادارے بھینس ،بکریوں کے باڑے بن چکے ہیں ؟ کیا ویسٹ کلچرمیں ایک انسان کے بنیادی حقوق اس طرح غصب کیے جاتے ہیں؟ کیا ویسٹ کلچر میں انصاف کا حصول اتنا مہنگا ہے کہ انسان منوں مٹی تلے دب جاتا ہے لیکن اسکی شنوائی تک نہیں ہوتی ؟ آ پ اپنے ضمیر سے یہ سوال کریں تو یقیناًآپ کو جواب نفی میں ہی ملے گا۔
اسی طرح اگر ایک نچلے طبقے کے افراد کو بنیادی حقوق ہی نہ ملیں تو ایسی جمہوریت کا کیا کرنا ہے ؟ میں نے شروع میں ہی گزارش کی تھی کہ مذہب اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں سیاست ایک ایسا فورم ہے جہاں لیڈر کو عوام کے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے اس پر انگلیاں بھی اٹھتی ہیں تو خدارا مذہب کی مقدس چادر کو داغدار نہ کیا جائے ۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مغربی کلچر کو نہ پنپنے کے لئے جمہوریت کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے کوئی ان صاحب سے اتنا پوچھے کہ مولانا صاحب نے 1993ء میں بینظیر حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے یہ فتویٰ صادر کیا تھا کہ ایک اسلامی جمہوری ملک میں ایک عورت کی حکمرانی حرام ہے لیکن پھر اسی حکومت سے 1993ء سے کر 1996ء تک ڈیزل کے پرمٹ حاصل کیے گئے اور چئیرمین فارن افیئر کمیٹی کا عہدہ بھی اسی حکومت سے حاصل کیا ، 2002ء میں جب متحدہ مجلس عمل بنی تو LFOپر جب سترہویں ترمیم آئی تو اس پر مولانا صاحب نے مشرف کی کھل کر حمایت کی اور اسکے نتیجے میں بلوچستان میں (ق(لیگ کی حکومت کے شانہ بشانہ رہے اور قائد حزب اختلاف بھی قوانین اور قاعدے سے ہٹ کر رہنے کا شرف حاصل کر چکے ہیں ، مشرف صاحب کے خلاف بات نہ کرنے پر 200روپے فی کنال ڈی آئی خان میں 1200کنال فوجی اراضی GHQکے ذریعے مولانا کے رشتہ داروں اور پارتی ارکان کے نام کی گئی ، 2006ء میں مولانا صاحب ہی کی حکومت میں مولانا کی پاڑٹی نے لیز کروائی اپنے پارٹی ممبران اور رشتہ داروں کے لئے بعد میں انہی کی گورنمنٹ نے اس زمین کی الاٹمنٹ کو منسوخ کر دیا اس کی بنیادی وجہ براکسی تھی جو کہ رکاوٹ بن رہی تھی ۔
اور آج جب جمہوریت کہ کہانی ہر شخص کی زبان زدعام ہے تو خدارا ایسی جمہوریت کو نہ پنپنے دیجئے جس میں ہمارے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، نوجوان روزگار نہ ملنے کی وجہ سے سڑکوں کی خاک چھان رہا ہے ۔ طاقت ور کمزور پر ظلم ڈھا رہا ہے ، آج ہماری عزتیں نیلام ہو رہی ہیں ، تھانے بکاؤ ہو چکے ہیں ، ریاستی رٹ کہیں نظر نہیں آتی ، قانون صرف غریب عوام کے لئے رہ گیا ہے ، عدالتیں قانوں فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں ، ماڈل ٹاؤن میں 15افراد کی جان لی جاتی ہے جن کو آج تک انصاف نہیں مل سکا ، امیر زادے دن کی چکا چوند روشنی میں قتل کرکے چلے جاتے ہیں اور عدالتیں ان کو باعزت بری کر دیتی ہیں ، کیا یہی ہمارا کلچر ہے ؟ ہمارا سلامی کلچر اسی چیز کا درس دیاتا ہے ، کیا سلامی کلچر میں ایک عام آدمی کو جینے کا کوئی حق نہیں ہے ؟ اگر حق ہے تو اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالئے اور یہ جو ہمارا معاشرہ ویسٹ کلچر کا گرویدہ دکھائی دیتا ہے اگر ان کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں گے تو یہی معاشرہ ایک اسلام پسند معاشرہ کہلائے گا، امن و سکون اسکا گہوارہ ہوگا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *