افغانستان کو انگور اڈہ چوکی کی چپ چاپ حوالگی

syed arif mustafa

بےنیازی حد سے گزری ، بندہ پرور کب تلک
حکومت نے ایک نہایت اہم انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کابینہ تک کو اعتماد میں لیینا مناسب نہیں
کتنی دلچسپ مگر ستم ظریفانہ بات ہے ،،، کہ کسی ملک کا وزیر داخلہ داخلہ اپنے ملک کی سرزمین کے معاملات کے حوالے سے اس قدر لاعلم اور بے بس رکھا جائے کہ کسی اہم سرحدی جگہ یا چوکی کو دوسرے ملک کے حوالے کردیا جائے اور اسے اس وقت کانوں کان خبر تک نہ ہو ،،، اور پھر سب نے دیکھا کہ وزر داخلہ چوہدری نثار نے حکومت سے خط لکھ کر یہ جواب مانگا ہے کہ افغانستان سے ملنے والی نہایت اہم سرحدی چوکی انگوراڈہ افغانستان کی تحویل میں کیسے اور کیونکر دیدی گئی ہے ،،، حکومتی ذرائع سے بس اتنا ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ چوکی ( جو کہ افغانستان میں داخلے کا ایک دروازہ بھی شمار کی جاتی ہے) غلطی سے پاکستان کے نقشے میں تھی اور اب یہ غلطی درست کردی گئی ہے ،،، یعنی پاکستان کی آزادی کے ان 69 برسوں میں اس 'تاریخی' غلطی کا اب جا کے ادراک ہوسکا ہے اور اس سنگین انکشاف کے بعد اس چوکی کی حوالگی دراصل ایک نہایت تاریخی و تاخیری سجدہء سہو ہے- یہاں یہ کہنا بھی مناسب ہے کہ یہ چوکی اور اس سے ملحقہ جگہ خواہ کسی رقبے کی ہی کیوں نہ ہو، لیکن بات یہاں رقبے کی چھوٹائی بڑائی کی نہیں بلکہ جمہوری و پارلیمانی اصولوں کی کھلی پامالی کی ہے -

اس ضمن میں حقائق خواہ جو بھی ہوں لیکن اس چپ چاپ کئے گئے حکومتی اقدام نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے جن میں سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ اس طرح کی اہم انتظامی کارروائی سے قبل یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا اور اگر اتنے اہم معاملات کو بھی پارلیمنٹ سے بالا بالا ہی طے کیا جانا ہے تو پھر آخر اس بیچاری پارلیمنٹ کی حیثیت اور وقعت ہی کیا ہے ،،، اور پھر جمہوریت بھی بھلا کس چڑیا کا نام ہے اور یہ کس نامراد مرض کی دوا ہے ۔۔۔ کیا دنیا بھر کی جمہوریتوں میں کہیں ایسی 'بے نیازی' یا من مانی کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس طرح کے فیصلوں کو تو پارلیمنٹ کے سامنے منظوری لیئے بغیر روبہ عمل لانے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا ، یہ نہ صرف پالیمنٹ کی توہین ہے بلکہ اس نسبت سے عوام کے اجتماعی شعور کی بھی اہانت ہے- اس معاملے میں عوام کے فریق ہونے کو یکسر نظرانداز کرکے اک نہایت افسوسنباک طرزعمل کو راہ دیدی گئی ہے اور اس طرح کی سوچ اور عمل کی روک تھام نہایت ضروری بلکہ لازمی ہے-

انگور اڈہ کی چوکی کو افغانستان کو یوں حوالے کردینے سے یہ سوال بھی ذہنوں میں کلبلا رہا ہے کہ اس طرح تو مستقبل میں کسی بھی وقت 'کسی عالمی مصلحت' کے تحت اور مزید کئی تاریخی غلطیوں کے انکشافات بھی سامنے لائے جاسکتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے اس نوعیت کی برخوردارانہ دستبرداری کے بعد وطن عزیز کے جغرافیے میں آئندہ بھی کتربیونت کی جاسکتی ہیں کیونکہ افغانستان کے علاوہ بھارت کے تو ہم سے اس نوع کے کئی مطالبات پہلے سے موجود چلے آرہے ہیں ،،، گویا ایک خرابی کا در اب کھل گیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھا کر اور ہماری کمزور حکومتوں کو نکو بناکر عالمی طاقتیں جب چاہیں ہمارے جغرافیئے کے ساتھ بہت گھناؤنے کھیل کھیل سکتی ہیں - پارلیمنٹ کو اس صورتحال کا لازمی سنگین نوٹس لینا چاہیئے -

اس خفیہ حوالگی سے سے ایک مسئلہ یہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اس چوکی کے قریب رہنے والے اسکی مرضی کے خلاف یکایک پاکستانی سے افغانی بنا ڈالے گئے ہیں ۔۔۔ جن میں سے شاذ ہی کوئی افغانستانی شہری بننے کا خواہاں ہو ۔۔۔ اسی لیئے ان لوگوں نے ( خواہ وہ کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں ) اس اقدام کے خلاف باقاعدہ مظاہرہ بھی کیا ہے - گویا یہ انتظامی کے علاوہ انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بھی ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پہ لازمی حل کیا جانا چاہیئے- -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *