عمران خان معذور افراد سے ہاتھ کرگئے

arshad sulehri.

پاکستان کے پاس یوں تو بہت اعزاز ہیں جیسے فحش سائٹ دیکھنے اور بچوں سے زیادتی وغیرہ اور اب پاکستان دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے یہاں معذوری کے حامل افراد کو ملازمتیں مانگنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔این جی اوز معذور ی کے حامل افراد کے نام پر کاروبار کرتیں ہیں ۔معذور لوگوں کی تکلیف ، دکھ ،درد بیچ کر مال بنایا جاتا ہے ۔ورکشاپ، سمینار کروائے جاتے ہیں تاکہ بآسانی فنڈ ہضم کیے جاسکیں ۔اگر یہ غلط ہے تو پھر کسی ایک بھی این جی اوز نے معذور افراد پر پولیس تشد کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا ؟۔مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کی ؟ مطلب صاف ہے کہ این جی اوز کا واحد مقصد فنڈ کا حصول ہے ۔ معذور افراد کے حقوق سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ ایڈووکسی ، کیپسٹی بلڈنگ کے نام پر این جی اوز نے تو معذور افراد کے تمام مسائل حل کردیئے ہوئے ہیں ۔ شاید حکمران اسی لئے معذور افراد کو ملازمتیں مانگنے پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں کہ تمہیں این جی اوز سب کچھ دے رہی ہیں اور تم پھر بھی ہمیں تنگ کرتے ہو ۔ خادم اعلیٰ پنجاب ہی کی بات کرتے ہیں جنہوں نے سستی روٹی کے نام پر اربوں روپے تندوروں کی نذر کردیے ، انرجی سیور ، لیپ ٹاپ اور کئی ایسے منصوبے بنا کر عوام کا پیسہ خورد برد کیا گیا لیکن معذور افراد کے لے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ہے۔اس قدر بے حسی اور مجرمانہ چشم پوشی کی شاید ہی کوئی مثال ملے کہ احتجاج کے باوجود پنجاب حکومت نے معذور افراد کو راوئتی طریقے سے جھوٹے وعدوں پر ٹرخادیا ۔شوشل ویلفیئر اور بیت المال کے ذریعے جو امداد ی پروگرام حکومت نے بنا رکھا ہے انتہائی توہین آمیز ہے ۔ دس ہزار سالانہ دیے جاتے ہیں ۔ ایم پی اے اور چیئرمین زکواۃ کمیٹی سے تصدیق کراونے کیلئے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ شرمناک پہلو ہے کہ حکومت معذور افراد کو بری طرح نظر انداز کر رہی ہے۔کسی قسم کی کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی پیکج رکھا گیا ہے۔ حالانکہ حکومت کو چاہیے کہ معذور افراد کے مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم ہاوس سمیت تمام وزرائے اعلیٰ ہاوسز میں خصوصی سیل بنائے جاہیں اور معذور افراد کی رجسٹریشن کرکے انہیں روزگار سمیت دیگر بنیادی انسانی ضروریات فراہم کی جائیں۔دوسری جانب پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہیں ۔ جن کے منشور میں معذور افراد کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے اور نہ سیاسی جماعتیں معذور افراد کے حقوق پر آواز بلند کرتیں ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تحریک انصاف نے پارٹی کا معذور افراد ونگ بنانے کا اعلان کیا تو معذور افراد نے بے حد مسرت کا اظہار کیا اور عمران خان کی معذور دوستی کو خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت میں شامل سیاستدانوں کے رویے سیاسی کم اور بیوروکریٹک زیادہ ہیں۔ مرکزی دفتر میں جائیں تو گمان یہ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعت کے بجائے کوئی ملٹی نیشنل کمپنی کا دفتر ہے۔ یہاں ناپ تول کر قدم رکھنے ہیں اور سوچ سمجھ کر بات کرنی ہے۔ ایسا ہے کہ بڑے صاحب کو کچھ برا نہ لگے۔ تنظیمی ماحول اور رویے بالکل نظر نہیں آتے ہیں۔ دلچسپ امر ہے کہ جماعت کے ذمہ دار تحکمانہ بات کرتے ہیں اور کارکنان سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ خاص کر غریب اور عام آدمی کیلئے تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس ننگی حقیقت کا علم اس وقت ہوا جب راقم نے عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ تحریک انصاف معذور افراد ونگ کو فعال کرنے اور انٹرا پارٹی الیکشن میں معذور افراد کی شرکت یقینی بنانے کیلئے پارٹی قیادت سے رابطہ کاری شروع کی۔ اول اول پارٹی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ای میل کے ذریعے رابطہ کیا کہ معذور افراد ونگ کے متعلق پالیسی کیا ہے؟ جس پر کمیشن کے ترجمان فرخ ڈال نے بذریعہ فون کہا کہ پروپزل ارسال کریں۔کچھ دنوں بعد راقم نے پروپزل ارسال کردی۔ کئی دنوں کے بعد راقم نے رابطہ کیا تو فرخ ڈال نے جواب دیا کہ ابھی تک انہوں میل چیک نہیں کی۔ ایک ماہ گزر گیا فرخ ڈال سے پھر رابطہ کیا تو فرخ ڈال نے راقم کو سچ بتا دیا کہ معذور افراد ونگ کی پارٹی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ونگ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں موجود ہے۔ اس کیلئے پارٹی آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ براہ راست پارٹی چیئرمین سے بات کریں۔اس دوران راقم عمران خان کی قربت میں رہنے والے رہنما نعیم الحق سے مسلسل رابطہ کرتا رہا لیکن موصوف نے گھاس نہیں ڈالی، اسی طرح سیف اللہ نیازی اور بعدازاں چودھری سرور کے دفتر کئی بار رابطہ کیا۔ لیکن کوئی معقول جواب نہیں ملا۔ اس دوران پاکستان کے مختلف علاقوں سے معذور افراد فون کر کے پوچھتے رہے کہ معذور افراد ونگ کی صورتحال کیا ہے جنہیں پی ٹی آئی کی روایت کے مطاابق جواب دینا راقم کی مجبوری تھی۔ کیا بتاتا، بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ تحریک انصاف کے ممبران اور وابستگان معذور افراد اس بات پر شاداں تھے کہ تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے معذور افراد کا پارٹی ونگ بنا کر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار معذور افراد کو سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اور قومی دھارے میں لانے کے لئے عملی قدم اٹھایا ہے۔ یہی خوش فہمی نوجوان نسل کی تھی کہ عمران خان نوجوانوں کو آگے لائیں گے لیکن جہانگیر ترین اور دیگر سرمایہ دار پارٹی کی اساس قرار پائے۔ معذور افراد کے ساتھ بھی عمران خان نے دھوکہ کیا ہے۔ دھرنے کے دوران عمران خان نے معذور افراد کے پارٹی ونگ کا اعلان کیا اور عالمی یوم معذوراں کی تقریب میں شریک ہوئے اور معذور افراد کو سبز باغ دکھائے لیکن بعد ازاں یکسر فراموش کر دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *