آپ کی صحت کیسی ہے ؟

Photo Attaul Haq qasmi sbان دنوں جو دوست بھی ملتا ہے پہلے اس کے چہرے پر تشویش کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور پھر وہ پوچھتا ہے آپ کی صحت کیسی ہے ؟پہلے تو میں نے ان کے اس فعل کوحال احوال پوچھنے کے زمرے میں ہی رکھا مگر ان کے چہرے کی تشویش اور پھر صحت کے بارے میں سوال کرنے سے اندازہ ہوا کہ میں شاید بیمار ہوں اور اتنا زیادہ کہ دوست احباب میری صحت کے حوالے سے پریشان رہنے لگے ہیں بس یہ کالم محض ان کی تسلی کے لئے لکھ رہا ہوں کہ میں اللہ کے فضل وکرم سے خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت خداوندکریم سے نیک مطلوب چاہتا ہوں ! الحمدللہ میری صحت قابل رشک ہے۔ میری بینائی بہترین حالت میں ہے مجھے ایک فٹ کے فاصلے تک بالکل صحیح نظر آتا ہے میں چونکہ شاعر ہوں ، اس کے آگے چیزیں دھندلی دھندلی نظر آتی ہیں جو بہت رومانٹک لگتی ہیں۔ اور میرے جیسا حافظہ تو شاید ہی کسی اور کا ہو، میں خود اس پر رشک کرتا ہوں ۔مجھے اکثر لوگ ملتے ہوئے اپنے تعارف میں کہتے ہیں کہ انہوں نے تیس سال قبل ایک مشاعرے میں مجھے داد دی تھی چنانچہ آپ کو یاد آگیا ہو گا کہ میں کون ہوں اور مجھے فوراً یاد آ جاتا ہے میں ایسے مہربان کو کیسے بھول سکتا ہوں جس کی سخن فہمی کی بدولت مجھے زندگی میں پہلی اور آخری بار کسی مشاعر ے میں داد ملی ہو۔ میرے حافظے کا تو یہ عالم ہے کہ فون پر کئی لوگ اپنا نام بتائے بغیر مجھ سے پوچھتے ہیں’’ پہچانا؟‘‘اور میں کہتا ہوں جناب، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں آپ کو آواز سے نہ پہچانواس کے بعد وہ کہتے ہیں اگر ایسا ہے تو یہ بتائیں میں کون ہوں ؟ان کی اس بات سے مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھ پر بداعتمادی کا اظہار کر رہے ہیں چنانچہ میں ان کے اس سوال کا جواب دینا مناسب خیال نہیں کرتا ۔
میری سماعت بھی الحمدللہ بہترین حالت میں ہے، اللہ جانے کچھ لوگوں کو یہ شک کیوں گزرتا ہے کہ میں اونچا سنتا ہوں چنانچہ وہ میرا کاندھا ہلاتے ہوئے بلند آوازی سے کام لیتے ہیں اور اس دوران میری آنکھوں میں بھی جھانکتے رہتے ہیں ، صرف یہ چیک کرنے کے لئے کہ میں نے ان کی بات سنی بھی ہے کہ نہیں ! مجھے ان کی یہ حرکت اچھی نہیں لگتی، چنانچہ میں انہیں کہتا ہوں کہ برادرم میں’’ ڈورا‘‘ نہیں ہوں’’ ذرا آہستہ بولیں ‘‘ اس کے بعد مجھے ان کے صرف ہونٹ ہلتے نظر آتے ہیں شاید وہ میری بات کا برا مان کر مجھے برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں!میں اللہ تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کروں کہ ابھی تک میری سونگھنے کی قوت بھی حیرت انگیز ہے میں حیران ہوتا ہوں جب کوئی صاحب میری کسی کامیابی پر کسی حوالے سے مجھے دلی مبارک باد کہہ رہے ہوتے ہیں اور میری تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں لیکن ان لمحوں میں مجھے ان کی سمت سے کسی چیز کے جلنیکی بو آتی ہے اور اس کے بعد میں ان صاحب کو اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتا!تاہم کبھی کبھی بہت محیر العقول واقعات بھی جنم لیتے ہیں مثلاً میں رات کو اپنے کمرے میں سویا ہوا ہوں اور گھر کا کوئی فرد سخت پریشانی کے عالم میں میرے کمرے میں آتا ہے اور کہتا ہے فوراً کمرے سے باہر آ جائیں میں باہر آتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ سب اہلخانہ اپنے کمروں سے نکل کر گھر کے لان میں جمع ہیں مجھے بھی فوراً لان میں لے جایا جاتا ہے پتہ چلتا ہے کہ گیس کہیں سے لیک ہو رہی ہے اگرچہ مین سوئچ آف کر دیا گیا ہے مگر گیس کی بو پورے گھر میں پھیل چکی ہے مجھے یقین ہے کہ کسی بدروح نے مجھے اس صورتحال سے غافل رکھا ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میری قوت شامہ جو حیرت انگیز طور پر تیز ہے اور مجھے اس بو کی ہوا تک نہ لگی خدا کا شکر ہے کہ وہ بدروح جو میرے اعصاب کو پوری طرح اپنے قابو میں لے چکی تھی وہ مجھے سگریٹ سلگانے پر بھی اکسا رہی تھی ؟
اب اگر میں باری باری اپنے تمام اعضاء کی بہترین کارکردگی بیان کرنے لگوں تو یہ خودستائی کچھ زیادہ ہی ہو جائے گی اور یہ جو تھوڑا بہت میں نے اپنی قابل رشک صحت کے حوالے سے لکھا ہے یہ بھی محض دوستوں کی پریشانی رفع کرنے کی غرض سے تھا مجھے اس کی بے حد خوشی ہے کہ صرف میری ہی نہیں، ہماری قوم کی معاشرتی صحت کا احوال بھی صرف ایک ’’ ماشاء اللہ‘‘کہنے سے بیان ہو جاتا ہے آپ ہماری صحافت ہی کو دیکھ لیں کالم پڑھ لیں ،ٹی وی میزبانوں اور تجزیہ کاروں کو دیکھ لیں ،سب کی صحت پوری دنیا کے لئے ایک مثالی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان میں سے کوئی کسی ایجنسی کا ملازم نہیں ہے کوئی کسی کے ہاتھ کی چھڑی نہیں ہے ہر ایک کو آزادی اظہار کی نعمت حاصل ہے۔چنانچہ وہ ہر شخص ہر طرح کا الزام عائد کر سکتے ہیں ان الزامات کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں نہ کسی عدالتی فیصلے کے انتظار کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے کیونکہ ان کا فرمایا ہوا مستند ہوتا ہے اسی طرح ہمارے کاروباری حضرات کی اخلاقی صحت بھی قابل رشک ہے، ملاوٹ نہیں کرتے، ناجائز منافع خوری نہیں کرتے، حکومت کو ٹیکس کا ایک ایک پیسہ ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود ان کی جائیداد ہر سال چار گنا ہو جاتی ہے، انہیں نظر لگنے کا بہت خوف ہوتا ہے چنانچہ آپ جب بھی کسی کاروباری شخص سے اس کے کاروبار کے بارے میں پوچھیں کہ وہ کیسا جا رہا ہے تو وہ کہے گا’’ مندا جا رہا‘‘ ہے ایسا کہنا ان کی مجبوری ہے ورنہ ان پر تو فضلِ ربی ہی فضلِ ربی ہے ! ہمارے علمائے کرام ،ہماری بیوروکریسی، ہمارے تعلیمی ادارے، غرضیکہ جس طرف نظر اٹھائیں پھول کر کپا ہو رہے ہیں، مجھے ڈر ہے کسی دن پھٹ نہ جائیں، اتنی اچھی صحت بھی اتنی اچھی نہیں ہوتی ،میری خواہش ہے کہ وہ کم از کم کچھ عرصہ کے لئے بدپرہیزی شروع کر دیں تاکہ حاسدوں کی بری نظر سے بچ سکیں۔ میں خود بھی اپنی عمدہ صحت کے حوالے سے انہی لائنوں پر سوچ رہا ہوں اور یوں میں نے بدپرہیزی کا پختہ ارادہ کر لیا ہیتاکہ روزروز کے اس سوال سے تو بچ سکوں کہ آپ کی صحت کیسی ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *