نئے امیر کے انتخاب میں افغان طالبان کی حکمت عملی

asghar khan askari

ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد افغان طالبان کے لئے سب سے بڑا چیلنج نئے امیر کا متفقہ طور پر انتخاب تھا۔اس لئے کہ ملا عمر کی وفات کے بعد ملا اختر منصور کو امیر منتخب کر نے پر افغان طالبان میں اختلافات پید اہو گئے تھے۔لیکن بعد میں رہبری شوریٰ اور خود ملا اختر منصور کی کو ششوں سے یہ اختلافات ختم ہو گئے تھے۔ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد افغان طا لبان کے لئے نئے امیر کا انتخاب اس لئے ایک بڑا چیلنج تھا کہ وہ طبعی موت نہیں مرا تھا ،بلکہ امریکہ نے ڈرون حملہ کر کے ان کو مار دیا تھا۔اس لئے طا لبان کو امریکہ اور افغان حکومت کے خلاف ایک نئی اور طو یل جنگ لڑنی تھی۔ جس کے لئے غیر متنا زعہ اور متفقہ امیر ان کی سب سے اہم ضرورت تھی۔امیر کے انتخاب کے معا ملے پر افغان طالبان کی رہبری شوریٰ کئی روز تک مشاورت کر تی رہی۔افغان طالبان کے با نی امیر ملا محمد عمر کے بیٹے ملا یعقوب،ان کے بھائی ملا عبدالمنان ،ملا ذاکر،ملا شیریں اور عبدالغنی برادر امارت کے طا قت ور اور مضبو ط ترین امید وار تھے۔اس کے ساتھ ہی افغان طالبان سے قریبی تعلق رکھنے والے میڈیا کے زیادہ تر افراد کو یقین تھا کہ افغان طالبان کے نئے امیر حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ہو سکتے ہیں۔لیکن کئی روز کی مشاورت کے بعد افغان طالبان نے ایک غیر متوقع فیصلہ کر کے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا امیر نا مزد کیا۔اس کے ساتھ ہی طا لبان نے دو نا ئبین کا بھی انتخاب کیا۔گوریلا جنگ کے بزرگ ما ہر سراج الدین حقانی اور جو شیلے نو جوان ملا یعقوب کو بطور نا ئب امراء نامزد کر دیا۔ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا بطور امیر تقرر طالبان کا ایک حیرت انگیز فیصلہ تھا۔ جس کی زیادہ تر لو گوں کو توقع نہیں تھی۔لیکن طا لبان ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئے امیر کے تقرر میں علم وحکمت ، ہو ش اور جو ش کو مد نظر رکھتے ہو ئے فیصلہ کیا ہے۔اس لئے کہ اب امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوئی سبیل مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہی ہے ۔ اس لئے نئے امیر کے انتخاب میں ایک طویل اور کٹھن جنگی حالات کو مد نظر رکھتے ہو ئے ملا ہیبت اللہ کو امیر اور سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کو ان کا نا ئب نا مزد کیا گیا ہے۔افغان طالبان کے نئے امیر ملا ہیبت اللہ قاضی القضاء کے منصب پر فا ئز رہ چکے ہیں۔طا لبان کا کہنا ہے کہ نئے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ایک مد بر اور حکمت والے انسان ہیں ۔ اس لئے ان کو امیر نا مزد کیا گیا ہے۔ افغان طا لبان کادعوی ہے کہ جب ملا ہیبت اللہ قا ضی القضا ء کے عہدے پر تھے توان کے دور میں لو گوں کو فوری اور سستا انصاف ملتا تھا ۔ قتل اور جا ئیداد کے تنا زعات جس کا فیصلہ عدالتیں عشروں میں کر تی ہیں۔ ان کے دور میں ایسے فیصلے ہفتوں میں کئے جا تے تھے۔افغان طا لبان کے افرادی قوت کا زیادہ تر انحصار افغانستان میں قا ئم دینی مدارس کے طلبہ پر ہے۔ اس لئے انھوں نے ملا ہیبت اللہ کو امیر نا مز د کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ افغانستان کے مذہبی طبقے میں ملا ہیبت اللہ کو زیادہ پسند کیا جا تا ہے۔دینی مدارس کے منتظمین اور طلبہ کے ساتھ ان کا قریبی رشتہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ خود بھی مدرس رہے ہیں۔ اس لئے افغانستان میں قا ئم زیادہ تر دینی مدارس ان کے شاگر د یا ان کے ساتھی مدرسیں چلا رہے ہیں۔طا لبان کا خیال ہے کہ ملا ہیبت اللہ کے امیر مقر ر کر نے کے بعد یہی دینی مدارس ان کے ساتھ مستقبل میں زیادہ مدد کر یں گے۔یہ بھی ایک رائے مو جود ہے کہ ملا ہیبت اللہ کو اس لئے امیر منتخب کیا گیا ہے کہ بوقت ضرورت افغانستان میں نئے جہاد کے لئے خود فتو یٰ جاری کر سکیں گے ۔ اس لئے کہ جو فتویٰ وہ خود جا ری کر یں گے طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے مدارس ان کو بغیر کسی عذر کے تسلیم کر یں گے۔افغان طا لبان کے رہبریٰ شوری کے چند مستند ارکان کا کہنا ہے کہ ملا ہیبت اللہ کو اس لئے بھی امیر نا مز د کیا ہے کہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے عوام میں بھی اکثریت ان کی حما یتی ہے۔اسی طر ح سراج الدین حقا نی کو نا ئب مقر ر کر نے کے بارے میں افغان طالبان کا دعوی ہے کہ وہ ایک ہو ش مند انسان ہے۔ ان کا گو ریلا جنگ کا ایک طویل تجربہ ہے۔طا لبان کا کہنا ہے کہ اب ہمیں افغانستان میں امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ ایک طویل جنگ لڑ نی ہے ۔ اس لئے اس نئے اور طویل جنگ کے لئے افرادی قوت کی تیاری اور الات حرب کو جمع کر نا انتہا ئی ضروری ہے۔ جس کے لئے سراج الدین حقانی جیسا ما ہر جنگجو مو زوں انتخاب ہے۔طا لبان کا کہنا ہے کہ ملا ہیبت اللہ تنظیمی امور کی نگرانی کر ینگے ۔ جبکہ سراج الدین حقانی جنگی تدابیر ، حکمت عملی ،اس کے لئے افرادی قوت اور اسلحہ وغیرہ فراہم کر نا ان کی ذمہ داری ہو گی۔اسی طر ح ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے، کہ وہ عملی جنگ یعنی افغانستان میں افغان طالبان کی کارروائیوں کی قیادت کر ینگے۔افغان طا لبان کا کہنا ہے کہ ملا یعقوب کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے۔ کہ وہ ایک جو شیلے نوجوان ہے۔انھوں نے تحریک کے تمام حا لات کا خود مشا ہدہ کیا ہے۔اور طا لبان کے اس موقف کا وہ پر جو ش حامی ہے کہ جب تک امریکہ اور ان کی اتحا دی افواج افغانستان سے نکل نہیں جا تی اسی وقت تک ہم اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔افغان طالبان نے ملا یعقوب کو اس لئے بھی نا مز د کیا ہے کہ رہبری شوریٰ کے بعض ارکان کا اصرار تھا کہ قیادت میں ایک فرد کا ایسا بھی ہو نا چا ہئے جو بانی امیر ملا محمد عمر کا ذاتی تر بیت یا فتہ ہو ۔ تاکہ افغان طالبان کا افغانستان میں جہاد کر نے کا جو مقصد ہے ۔ اس کو پورا کر نے کے لئے با ت چیت کے ساتھ ساتھ عملی جہاد کو بھی جا ری رکھا جا سکے۔مختصر یہ کہ افغان طا لبان نے ملا اختر منصور کے ما رے جا نے کے بعد علم و حکمت ، ہو ش اور جو ش کو مدنظر رکھتے ہو ئے اپنی قیادت کا انتخاب کیا ہے۔اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا کہ افغان طالبان کے یہ فیصلے ان کی تحریک کے لئے کتنے سود مند ثا بت ہو سکتے ہیں۔ اس لئے کہ اگلے سال امریکہ میں قیادت بدلنے والی ہے۔اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ افغانستان میں طا لبان کے ساتھ جنگ لڑ نے کا فیصلہ کر تے ہیں یا اس مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل چا ہتے ہیں۔اگر نئی امریکی انتظا میہ جنگ کے ذریعے سے افغانستان کے مسئلے کو حل کر نے کا فیصلہ کر تی ہے ۔ تو پھر چند مہینوں میں معلوم ہو جا ئے گا کہ افغان طا لبان کا ملا ہیبت اللہ کو امیر ،سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کو نائب بنا نے کا فیصلہ درست تھا یا غلط ۔یا یہ تینوں ملکر امریکہ اور ان کے اتحادیوں کو پسپا کر نے پر مجبور کر دیگی۔امکان ہے کہ 2018 تک سب کچھ سامنے آجا ئے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *