’’پیراہن حضرت فاطمہ اور سونے کے قدیم صندوق‘‘

MHT

یارقند ایک ایسا شہر ہے جو زمان و مکاں کی قید میں نہیں آتا۔۔۔ یہ خود اپنے زمانے اور وقت طے کرتا ہے۔ آپ ایک پُرہجوم شاہراہ پر رواں ہیں، آپ کے چاروں اور بلندوبالا دمکتی جدید عمارتیں ہیں، کاروں کے تازہ ترین ماڈل فراٹے بھرتے ہیں اور آپ اس شاہراہ سے الگ ہو کر یکدم پرانے زمانوں میں سفر کر جاتے ہیں، دھول آلود راستے، کچے مکان اور وسیع صحن انگور کی بیلوں سے ڈھکے ہوئے۔۔۔ اور ڈھکی ہوئی بوڑھی عورتیں، حجاب پوش لڑکیاں جن کا حسن ان کے حجاب سلگاتا ہے اور پھر ایک مختصر سا مقبرہ۔۔۔ نیلی اینٹوں سے مرصع، پچھلے زمانوں کی داستانیں کہتا۔۔۔ ایک ایغور حکمران کا مدفن جو یارقند کی ریاست پر راج کرتا تھا۔۔۔ سفید ریش لمبے چوغے میں ملبوس حاجی بابا اپنی گہری جیب میں سے ایک لانبی چابی نکال کر ایک زنگ آلود قفل بمشکل کھولتے ہیں۔۔۔ قبر پر رنگ رنگ کے بوسیدہ پھریرے مُردہ پڑے ہیں۔۔۔ میں بہتر زاویے کے لئے قبر کے سرہانے مٹی کے جو ڈھیر ہیں ان پر چڑھ کر تصویریں اتارتا ہوں۔۔۔ اور وہ ڈھیر اس بادشاہ کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے تھے۔ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا۔۔۔ میری نیلے رنگ کی امریکی جوگرز اگرچہ چینی ساخت کے تھے لیکن بہرطور انہوں نے نادانی میں دو شہزادوں اور ایک شہزادی کی قبروں کو روندا تھا۔۔۔ حاجی بابا کہہ رہے تھے ’’میرا شجرہ رسول پاکؐ سے ملتا ہے اور میرے پاس ثبوت ہے۔ ہمارے خاندان میں اس مقبرے کی چابیاں نسل در نسل چلی آ رہی ہیں‘‘۔۔۔ میمونہ اس دوران دھوپ کی شدت سے پناہ لینے کی خاطر پراڈو کی ایئرکنڈیشنڈ عافیت میں جا چکی تھی جب حاجی بابا نے گفتگو کرتے ہوئے۔۔۔ اور ان کی گفتگو کا ترجمہ جوائے بمشکل کر رہی تھی۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس خاتون جنت کے لبادے اور چند دیگر نوادرات بھی موجود ہیں۔ جوائے نے ترجمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تارڑ یہ شخص کسی فاطمہ کی بات کرتا ہے جو تمہارے پیغمبر کی کچھ لگتی تھی۔۔۔ کیا تم اسے جانتے ہو؟ اس داستانوں کے شہریارقند میں جس کی نخلستانی ہوا میں کبھی کبھی باد نسیم کے جھونکے محسوس ہوتے تھے مجھ سے پوچھا جا رہا تھا کہ کیا میں خاتون جنت کو جانتا ہوں۔ میں نے جوائے کے بازو پر ہاتھ رکھ کر ایک التجائی انداز میں کہا ’’جوائے پلیز اس سے پوچھو کہ کیا وہ ہمیں یہ لبادے اور نوادرات دکھا سکتا ہے‘‘۔۔۔ حاجی بابا نے صاف انکار کر دیا۔۔۔ تب میں اپنی تمام تر لفاظی کی عیاری اور میڈیا کی مکاری بروئے کار لایا ’’حاجی بابا۔۔۔ ہم دور دیسوں سے آئے ہیں آپ ہماری امت میں سے ہیں، ہم وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو آپ پڑھتے ہیں، اسی قرآن کو حرف آخر سمجھتے ہیں جس کی آپ تلاوت کرتے ہیں، ہم غیر تو نہیں آپ کے اپنے ہیں اور بہت دور سے آئے ہیں‘‘۔ حاجی بابا نے اپنی ڈاڑھی کو مٹھی میں بھینچ کر سر ہلایا اور مقبرے سے متصل اپنے پرانے گھر میں لے گیا اس شرط کے ساتھ کہ صرف میں اور میمونہ اندر آئیں گے۔۔۔ چینی حضرات باہر انتظار کریں۔ میں نے بمشکل جوائے کے لئے اجازت حاصل کی کہ اس کے بغیر میں اور حاجی بابا گونگے تھے۔۔۔ ایک بڑے کمرے میں قالین بچھے تھے، دیوار پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے نقش آویزاں تھے ۔۔۔ حاجی بابا اپنے ایک مرید کے سہارے ایک قدیم صندوق لے کر آئے۔۔۔ اسے کھولا تو اس کے اندر سے ایک قدیم مہک اٹھی جس نے میرے تن بدن کو نیم مدہوش کر دیا۔۔۔ بقول حاجی بابا کے۔۔۔ حضرت فاطمہؓ کا پیراہن جس پر قرآن پاک کی آیتیں نقش تھیں۔ ان کی شادی کا جوڑا۔۔۔ بوسیدہ ہو چکا ایک پالنا کپڑے کا جس میں بقول حاجی بابا کے حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ ننھے منے بچے بی بی فاطمہ کے بدن کے ساتھ لپٹے رہتے تھے۔ چاندی کے منقش ڈبے میں امام باری کی ٹوپی۔۔۔ اور مُونا نے فارسی پڑھتے ہوئے ترجمہ کیا کہ نقاش نے لکھا ہے کہ میں اس ڈبے پر نقش کرتے جنت کی ہوا محسوس کرتا ہوں اور میں اس ڈبے پر اپنی آل اولاد کو نثار کرتا ہوں۔۔۔اور پھر ایک خالص سونے سے نقش کردہ ڈبہ میں وہ بوتل تھی، جس میں رسول اللہؐ کی ریش مبارک کے بال تھے جو چوری ہو گئے۔ محض خالی بوتل تھی لیکن دیگر تمام نوادرات اس کے سامنے کم حیثیت تھیں، اسے چھونا اور پھر سونگھنا ایک سنسنی خیز شرساری اور شرابوری تھی۔ اس مختصر تحریر میں تفصیل ممکن نہیں، انشاء اللہ بہ شرط زندگی اپنے سفرنامے ’’لاہور سے یارقند‘‘ میں اس کا تفصیلی بیان درج ہو گا۔۔۔ میمونہ نے دوپٹہ درست کر کے نہایت عقیدت سے بہ چشم نم ان لبادوں کو تہہ کیا اور صندوق میں رکھا۔۔۔ میں پھر عرض کرتا ہوں کہ ٹویو گاؤں کی اصحاب کہف کی غار کی مانند میں ان نوادرات کے خالص ہونے کی گواہی نہیں دے سکتا لیکن وہ لوگ جن سے یہ پیراہن منسوب ہوئے وہ میرے دل میں جاگزیں ہیں اور اسے دھڑکنے کی اجازت دیتے ہیں تو میرے لئے بس یہی حوالے کافی ہیں۔۔۔ میرے اس چینی ترکستانی سفر کے دوران پہلے تو اصحاب کہف کی غار، اس میں دفن رسول اللہؐ کے رفیق اور ایک گڈریا اور اب یہ پیراہن اور ایک خالی بوتل تھے جو اس پورے سفر کے حاصل تھے جنہوں نے مجھے سرفراز کیا اور اتنا پُرفخر کیا کہ میں پُرتکبر ہونے سے بال بال بچا کہ۔۔۔ یہ صرف میں تھا جس کے نصیب میں ان کی زیارت لکھی گئی۔۔۔ میں اور میمونہ اس تجربے کے بعد دیر تک حواس باختہ سے رہے اور پھر سنبھل گئے کہ اگلے روز ہم نے بقول چینیوں کے صحرائے اعظم افریقہ کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے صحرا تکلاسکان تک جاتا تھا۔یارقندسے نکل کر ہم اس کے نواح میں پھیلے ہوئے انگوروں کے باغوں اور پھل دار شجروں کے سائے میں سفر کرتے بالآخر ایک ایسے مقام تک پہنچے جہاں ایک بورڈ پر نقش اونٹوں کا ایک قافلہ تھا اور ایک تیر نشاندہی کرتا تھا کہ صحرائے تکلاسکان اس طرف۔صبح کی نشریات کے اختتام پر میں ایک ’’چھوٹی سی بات‘‘ پیش کرتا تھا جو خواص اور عوام میں یکساں مقبول تھی۔ ایک بار میں نے کہا تھا کہ ۔۔۔ ریت کا ایک ذرہ صحرا نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن اس ایک ریت کے ذرے کے بغیر صحرا بھی صحرا نہیں ہوتا۔۔۔جہاں انگوروں کی بیلوں کے سائے تھے وہیں سے صحرا کا آغاز ہوتا تھا۔’’تکلاسکان‘‘ کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ اسے ’’موت کا صحرا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں سب سے پسندیدہ روایت یہ ہے کہ جو کوئی بھی اس کے اندر جاتا ہے وہ زندہ واپس نہیں آتا۔میں دور تک اس کے اندر گیا۔
صحرا کے آغاز میں ایک بلند لکڑی کی مچان تھی جس تک نہایت مخدوش ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں جاتی تھیں جہاں سے بلندی سے صحرا کا دور تک نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ میں نے میمونہ کو منع کیا کہ وہ ان لڑکھڑاتی سیڑھیوں پر قدم رکھ کر مچان تک جانے کا ارادہ ترک کر دے لیکن وہ میمونہ ہی کیا جو میری بات مان جائے، کہنے لگی ’’میں نے امریکہ میں کارنیل کے ایک چٹانی درّے کی ساڑھے چار سو سیڑھیاں طے کی تھیں۔ بلجیم میں نپولین کے واٹرلُو میدان پر بلند ہونے والی ڈیڑھ سو سیڑھیوں کو طے کیا تھا تو اب تکلاسکان کی یہ چند سیڑھیاں میرے سامنے کیا حیثیت رکھتی ہیں‘‘۔
اُس روز میں سب سے الگ ہو کر دور تک اس عظیم صحرا کے اندر گیا، ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھ کر اس کی وسعت کو آنکھوں میں اتارا اور میں نے افق کے قریب کیا دیکھا، ایک کارواں، جو شہر خُتن سے یارقند کی جانب چلا آتا تھا۔یہ ایک سراب تھا۔لیکن ہم لکھنے والے سرابوں کے سہارے ہی تو زندگی بسر کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *