یورپی یونین کوئی حل نہیں ، بذات خود ایک مسئلہ ہے

نصر ملک

nasar malik

یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت بحال رکھے جانے یا اس سے باہر نکل جانے کے سوال پر کرائے جانے والے ریفرنڈم میں اب کوئی زیادہ دن باقی نہیں اور اس ریفرنڈم کے نتیجے میں برطانیہ میں یورپی یونین کے حامیوں اور اِس کے مخالفین میں سے کس کا پلا بھاری رہے گا یہ بھی عنقریب ہی سامنے آ جائے گا۔
اس وقت جو صورت حال ابھر رہی ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف برطانیہ ہی نہیں اگر یورپی یونین کے سبھی ممالک میں اس سوال پر ریفرنڈم کرایا جائے کہ کیا وہ یورپی یونین میں شامل رہنا چاہتے ہیں تو قوی امکان ہے کہ بیشتر ملک یورپی یونین سے الگ ہو جائیں گے ۔
امریکہ کے ایک غیر جانبدار ریسرچ انسٹیٹیوٹ ’پی ای ڈبلیؤ‘ کی جانب سے یورپی یونین کے دس رکن ملکوں میں کیے گئے ایک تازہ ترین سروے میں اِن ممالک کے دس ہزار شہریوں کی یورپی یونین میں شامل رہنے کے متعلق رائے حاصل کی گئی ہے ۔
اس سروے کے نتیجے میں بتایا گیا ہے کہ ۷۱ فیصد یونانی یورپی یونین میں شمولیت کے متعلق منفی رویہ رکھتے ہیں اور اسی طرح ۶۱ فیصد فرانسیسی بھی یہی سوچ رکھتے ہیں ۔ برطانیہ جہاں یورپی یونین میں شمولیت جاری رکھنے یا اسے خیرباد کہہ دینے کے لیے ریفرنڈم کرایا جانے والا ہے وہاں اس وقت ۴۸ فیصد لوگ یونین میں رکنیت کے خلاف ہیں اور جرمنی میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے جب کہ سپین میں یورپی یونین کو چھوڑ دینے کی رائے رکھنے والوں کی شرح تناسب ۴۹ فیصد ہے ۔ اور صرف ۴۷ فیصد اس کے حق میں ہیں ۔
کتنے رائے دھندگان یورپی یونین کو پہلے مثبت ’ اتحاد‘ مانتے تھے اور اب کتنے ایسا سوچتے ہیں ، اس بارے میں اس اتحاد کے متعلق منفی سوچ رکھنے والوں کی شرح تناسب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ فرانس میں فی الوقت صرف ۳۶ فیصد رائے دھندگان یورپی یونین کو مثبت قرار دیتے ہیں جب کہ ۲۰۰۴ء؁ میں یہی شرح تناسب ۶۹ فیصد تھی ۔
امریکی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ’ پی ای ڈبلیؤ ‘ کے سروے میں ڈنمارک کو شامل نہیں کیا گیا لیکن ڈنمارک ریڈیو کے لیے ایک بڑے معتبر ڈینش ریسرچ بیوروEpinion کی جانب سے ابھی چند ہی روز پہلے کئے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ۴۲ فیصد ڈینش رائے دھندگان چاہتے ہیں کہ ڈنمارک کی یورپی یونین میں شمولیت کے بارے میں ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے ۔ صرف ۳۸ فیصد ڈینش ایسا ریفرنڈم نہیں چاہتے۔ کئی برسوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ڈینش رائے دھندگان کی اتنی زیادہ تعداد اس قسم کا ریفرنڈم کرائے جانے کے حق میں ہے ۔ دوسری جانب ایک اور سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ اگر یہ ریفرنڈم آج کرایا جائے تو نتیجہ یہ دکھائی دے سکتا ہے کہ صرف ۳۷ فیصد ڈینش رائے دھندگان یورپی یونین میں ڈنمارک کی شمولیت جاری رکھے جانے کے خلاف ووٹ دیں گے جب کہ ۴۴ فیصد اسے جاری رکھے جانے کے حق میں ہوں گے ۔
ایک انسٹیٹیوٹ کی حیثیت میں یورپی یونین ایک گہرے بحران میں مبتلا ہے اور یہ بحران دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، خاص کر یورپی یونین کے پرانے رکن ملکوں میں ۔ ان ملکوں کو اپنے اپنے محنت کشوں کی تنخواہوں اور اُن کے کام کاج کی صورت حال کے ساتھ ہی ساتھ اپنے اپنے ہاں سماجی ویلفیئر پر بھی برسلز کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ یونین کے پرانے رکن ملکوں میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ان کے ہاں جمہوریت بتدریج کم اور کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔
یورپی یونین کی حامی حکومتیں اور رائے دھندگان پریشان ہیں، اور ان کی یہ پریشانی بے جا بھی نہیں ۔ یہ حکومتیں اب یہ دلیل پیش کر رہی ہیں کہ یورپی یونین کو پیٹھ دکھا دینے کی بجائے، اُن مسائل کے حل کی جانب بھرپور اور مشترکہ توجہ دی جانے چاہئے اور اقدامات لیے جانے چاہئیں ۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کو درپیش مسائل دن بدن گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں ۔یورپی امور کے کئی ماہرین اور بیشتر محققین سمجھتے ہیں کہ’’ یورپی یونین بذات خود ایک مسئلہ ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ یورپی یونین سرمایہ داروں کاایک بہت بڑا کاروباری پروجیکٹ ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی کرنے کے لیے وہ بالکل تیار نہیں ہیں ‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *