سرجڑی بچیوں کے والدین نے انہیں اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا، ہسپتال انتظامیہ پریشان

sar

اولاد بہت بڑی نعمت بھی ہوتی ہے اور آزمائش بھی ، لیکن کچھ پتھر دل والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جو اولاد کی معذوری کو بھی اپنے لیے بوجھ سمجھ کر کچھ نہ کچھ ہتھیانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں- ایسا ہی ایک واقعہ بھارت کے شہر حیدر آباد میں پیش آیا ہے جہاں  13 سالہ سر جڑی لڑکیوں وینا اور وانی کو ان کے والدین نے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا ہے ۔ ڈاکٹرز نے ان کے سروں کو علیحدہ کرنے کی سرجری کو بہت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لڑکیوں کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ نیلوفر چلڈرن ہسپتال کے مطابق بچیاں بلوغ کی عمر کو پہنچ رہی ہیں اس لیے ہسپتال کے لیے ان کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔ بچیاں پچھلے دس سال سے اسی ہسپتال میں رہائش پذیر ہیں۔ نیلوفر اتھارٹی اب ان لڑکیوں کو تلنگنا گورنمنٹ کی طرف سے قائم کیے گئے ایک ادارہ میں بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بچیوں کے والدین این مُرلی اور ناگا لکشمی جو ورسنگال ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں ڈیلی ویجز پر کام کرتے ہیں اپنی مجبور بچیوں کو گھر نہیں لے جانا چاہتے۔ انہوں نے وینا اور وانی کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کبھی بھی بچیوں کو دیکھنے ہسپتال آنا گوارہ نہیں کرتے۔ نیلوفر ہسپتال کے ڈاکٹر سریش نے کہا۔ پچھلے ہفتے نیورو سرجنز کی ایک ٹیم نے سر علیحدہ کرنے کے آپریشن کو بہت خطرناک قرار دیا تھا۔ اس کی وجہ بچیوں کا کچھ خونی خلیوں پر جو ان کے سر میں موجود ہیں  بیک وقت انحصار ہے ۔ اگر سرجری کی جائے تو بچیوں کی موت یا دماغی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے بچیوں کے والدین کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر والدین اجازت دیں تبھی سرجری کا کام شروع ہو سکتا ہے اور اگر وہ اجازت نہیں دیتے تو انہیں بچیوں کو ساتھ لے جانا ہوگا۔ والدین کو منگل کے دن تک کا ٹائم دیا گیا تھا لیکن وہ ہسپتال ہی نہیں آئے۔ اب انہیں کچھ مزید وقت دیا جائے گا اور اس کے بعد ہسپتال اپنی حکمت عملی طے کرے گا۔ ہسپتال کے  مطابق بچیوں کے باپ نے کچھ شرطیں بتائی ہیں جن کی منظوری کے بعد ہی وہ بچیوں کو ساتھ لے جائے گا۔ شرائط میں سرکاری نوکری، ائیر کنڈیشنڈ کمروں والا گھر، اور دو ایکڑ زمین کے مطالبات شامل ہیں۔ اگر والدین سرجری سے منع کرتے ہیں تو لڑکیوں کو اسی حالت میں زندگی گزارنی ہو گی البتہ 18 سال کی عمر کے بعد وہ اپنے بل بوتے پر سرجری کی اجازت دے سکیں گی۔ ایسا ہی واقعہ 2003 میں ایران میں پیش آیا تھا لیکن سرجری کے بعد بچیوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس میں بھی ڈاکٹرز نےایرانی جوڑی  کو آپریشن نہ کروانے کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے اصرار کیا اور آخر کار انہیں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *