'ہم نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرے بھی نہیں '

Afshan Huma

 "میڈم آپ نے جو باتیں بتلائی ہیں یہ تو ہمیں پہلے کسی نے بتائی ہی نہیں تھی" یہ کمنٹ مجھے اکثر اپنی ایک پریزینٹیشن کے بعد سننے کو ملتا ہے۔ اس پریزینٹیشن میں میں ذمہ داری سے تحقیق کرنے کے طریقے بیان کرتی ہوں اور ان اصول و ضوابط کو طلبہ کے سامنے پیش کرتی ہوں جو بین الاقوامی سطح پر ریسرچ کے لئے لازمی تصور کیے جاتے ہیں۔ اور ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی بھی کی جاتی ہے۔ لیکن سب سے اہم بات ہے ان اصولوں سے آگاہی اور یہ ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، لہذا تحقیق کے طلبہ کو ان کا علم ہونا ادارے کا فرض ہے اور پھر ان پر عمل کرنا محققین کی ذمہ داری ہے۔ عمدہ تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ ان تصورات پر نہ صرف بات کی جائے بلکہ ان کو آسول اور قانون کی شکل میں نافذ بھی کیا جائے۔ ان میں سے سب سے اہم تین تصورات ہیں جن کے بارے میں ہر محقق کا جاننا اور ان سے گریز کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہیں:

Fabrication, Falsification and Plagiarism

فیبریکیشن سے مراد ہے من گھڑت معلومات کو تحقیق کی صورت میں بیان کرنا، جبکہ دراصل تحقیق کی ہی نہ گئی ہو۔ فالسیفیکیشن سے مراد ہے آلہ تحقیق کو یا حاصل کی گئی معلومات کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے مطابق بدلنا اور پیش کرنا۔ جبکہ پلیجرازم سے مراد ہے کسی کے آیڈیا، تحقیق، تخلیق یا الفاظ کو اپنے نام سے پیش کرنا اور چھپوانا۔ پاکستان میں ۲۰۰۴ سے اب تک میں نے بہت سے محققین کی تحقیق کو پڑھا بھی ہے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری تک پہنچ جانے والوں کو ان تینوں قسم کی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ حرکات میں ملوث بھی پایا ہے۔ اس سے یہ ہر گز مقصد نہیں کہ ہمارے ہاں اصل تحقیق نہیں ہوتی لیکن مناسب اداراتی نظام کی عدم موجودگی میں ایسی ناقص تحقیق بھی با آسانی نہ صرف پاس ہو جاتی ہے بلکہ اس پر لوگ ایوارڈز بھی لے جاتے ہیں۔

ایک اور انتہائی خوفناک مسئلہ جو محققین نہیں جانتے وہ ہے

Human Subject Protection

یعنی دوران تحقیق انسانی حقوق کی پاسداری۔ جب آپ کسی کو کوئی سوالنامہ بھجواتے ہیں یا کسی بھی شخص کا انٹرویو کرتے یا اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا کوئی اور طریقہ تحقیق استعمال کرتے ہیں تو اس سے با ضابطہ اجازت نامہ لینا لازمی ہے۔ اسی طرح تحقیق کے دوران کبھی بھی کسی شخص کو سوالات کے جواب سے انکار کرنے اور اس عمل کو چھوڑنے کا حق حاصل رہتا ہے۔ اس صورت حال میں چار طرح کے لوگوں کا خاص خیال رکھنا لازمی ہے۔ایک وہ جو کسی قسم کی معذوری کا شکار ہوں، دوسرے کم عمر بچے ، تیسرے قیدی اور وہ لوگ جو ما تحت ہوں اور آزادی ء رائے کا حق نہ رکھتے ہوں۔ اس اصول کے تحت تحقیق کا حصہ بننے والے افراد کا حق ہے کہ وہ اپنی شناخت چھپائیں۔ لیکن ہمارے ہاں کسی کو نام نہ لکھنے تک کا حق بھی نہیں بتایا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ ہم نے تمام ضوابط کا خیال رکھا ہے۔

ایک انتہائی اہم پہلو جسے تحقیق کے شروع سے آخر تک مد نظر رکھنا ضروری ہے وہ ہے مفادات کا تصادم۔ یعنی محقق خالص تحقیق کے لئے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کو حاصل کرنے کے لئے تحقیق کرے، مثال کے طور پر اپنی ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لئے اپنی آرگنائزیشن ہی کے بارے میں تحقیق کرے، تو بہت ممکن ہے کہ وہ اصل حقائق کو سامنے لانے کی بجائے پردہ پوشی کرے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرے۔

آخر میں ایک اور المیہ یہ ہے کہ محققین اپنے حقوق سے بھی نا واقف ہیں، نہ تو ہمارے طلبہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے لکھے ہوئے تحقیقی مقالے پر سب سے پہلے ان کا نام آنا چاہئے نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ تین چار پانچ افراد کے نام جوڑ دینے سے ان کے مقالہ کی اہمیت میں قطعا" اضافہ نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی زبردستی اپنا نام ڈلوائے تو اس پر کیس بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک پروفیسر صاحب نے ۱۹۹۰ کی دہائی میں مقالے اور مضامین کی فیکٹری لگا رکھی تھی آجکل ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں تعینات ہیں امسال میں نے ایک تحقیقی مضمون میں ان کا نام تیسرے نمبر پر دیکھا اور ابھی پریشانی کی کیفیت ہی میں تھی کہ اگلا نام ان کی بیٹی کا پایا جس کا دور دور تک اس تحقیق سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا۔

اب ایک آخری پہلو پر غور کرنا لازمی ہے۱۹۹۰کی دہائی تک تو پاکستان میں اندھیر نگری تھی کوئی ان قوانین کو جانتا نہ تھا اور جو لوگ جانتے تھے وہ اسلئے نہیں بولتے تھے کہ وہ اپنی زندگی بھی آسان رکھنا چاہتے تھے اور دوسروں کی بھی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد کچھ حد تک ان قوانین اور اصولوں کا پرچار شروع ہوا۔ مگر ابھی بھی ادارتی سطح پر ایسا نظام قائم نہیں ہو سکا کہ ان تمام عوامل کو روکا جا سکے۔ ہاں البتہ ایک سہولت ہو گئی ہے اگر کسی پروفیسر لیول کے شخص کو کسی طرح زچ نہ کیا جا سکے تو اس کا ایک ایسا تحقیقی مکالہ ڈھونڈا جائے جس پر یہ قوانین لاگو ہو سکیں، اور پھر اس کی تشہیر کی جائے۔۔۔بس مزید کسی تردد کی ضرورت نہیں۔ ہم ذمہ دارانہ تحقیق کے لئے کوشاں ہوں یا نہ ہوں ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کر ڈالتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *