پہلے جنم کے قتل کو یاد اور قاتل کی شناخت کرنے والا3سالہ بچہ!

boyایک حیرت انگیز خواب جیسے واقعے میں ایک تین سالہ بچے نے نہ صرف اپنی گزشتہ زندگی میں اپنے قتل کی تفصیلات آشکار کیں بلکہ اپنے قاتل کی بھی شناخت کر لی۔
شامی اور اسرائیلی سرحد کے قریبی علاقے گولڈن ہائٹس میں درز نسل سے تعلق رکھنے والا لڑکا اپنے سرپر ایک طویل سرخ پیدائشی نشان رکھتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اسے ایک کلہاڑے سے قتل کیا گیا تھا۔
درز عقائدکے مطابق، پیدائشی علامات گزشتہ زندگی کی اموات سے متعلق ہوتی ہیں اور جب لڑکااتنا بڑا ہو گیاکہ بات کرسکے تواس نے اپنے خاندان کو بتایا کہ اسے اس کے سر پر ایک کلہاڑے سے ضرب لگا کر قتل کیا گیا تھا۔
درز قبیلے کے سرداروں کی یہ روایت ہے کہ وہ تین سال کی عمر کے اس بچے کو اس کی گزشتہ زندگی والے گھر بھیج دیتے ہیں جسے اپنی وہ زندگی یا دہوتی ہے۔جب کہ یہ لڑکااس گاؤں کو بھی جانتا ہے جس میں وہ پہلی زندگی میں رہا کرتا تھااور گاؤں پہنچتے ہی اسے اپنی گزشتہ زندگی کے م بھی یاد آگئے۔
گاؤں کے مقامی افراد نے قبیلے کے سرداروں کو بتایا کہ وہ فرد جس کے یہاں بچہ پہلی بار پیدا ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، چار برس سے لاپتہ ہے۔
لڑکے کو اپنے قاتل کاپورا نام بھی یاد ہے۔ تاہم قاتل ، جواس وقت ایک سفید فام شخص کے طور پر زندہ ہے، نے اس قتل کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس کے بعد تین برس عمر کے اس بچے نے دعویٰ کیا کہ وہ سرداروں کو اس جگہ پر لے جا سکتا ہے جہاں اسے دفن کیا گیا تھا۔ اس جگہ پرپہنچنے پر، انہوں نے نہ صرف ڈھانچہ پا لیا بلکہ ڈھانچے کے سر پر زخم بھی دیکھ لیاجو کہ بڑی حد تک لڑکے کے سر پر اس وقت پیدائشی نشان کے طور پر موجود تھا۔وہاں سے انہیں وہ کلہاڑا بھی مل گیا جس نے گزشتہ زندگی میں لڑکے کو قتل کیا تھا۔
اس کے بعد قاتل کے پاس اپنا جرم تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی صورت نہ تھی۔
یہ ساری کہانی جرمنی کے ایک تھیراپسٹ ٹرٹز ہارڈو کی کتاب، ’’بچے جو زندہ رہ چکے ہیں: آج دوسرا جنم‘‘میں تحریر کی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *