ریاست منیسوٹا میں انٹی بیکٹیریل صابن پر پابندی کا فیصلہ

soupمنیسوٹا کے قانون ساز وں نے ایک نیا اور منفرد قانون بنا کر اقوام عالم پر سبقت حاصل کر لی ہے۔انہوں نے ایک ایسا قانون بنایا ہے جو بظاہرنہایت پرلطف اور عجیب ہے۔اس قانون کے مطابق، یکم جنوری 2017ء سے منیسوٹا میں انفرادی صفائی کی کوئی ایسی چیز فروخت کرنا جرم ہو گاجس میں ٹرائی کلوزن کے طور پر معروف ایک عام انٹی بیکٹیریل کیمیکل موجود ہو۔قانون سازوں کو توقع ہے کہ صابن ساز پابندی کے اطلاق کے لئے مقرر کردہ تاریخ سے پہلے پہلے اشیائے صرف سے ٹرائی کلوزن نکالنے کے لئے منصوبہ بندی شروع کر دیں گے۔
ٹرائی کلوزون کئی عشروں تک صابنوں، سرفوں، خوشبوئیات اور حتیٰ کہ ٹوتھ پیسٹس میں بھی استعمال کیا جا تارہا ہے۔ یہ کیمیکل ای این آر نامی ایک خامرے کومفلوج کرکے بیکٹیریا کو مارتا ہے۔ یہ خامرہ فیٹی ایسڈ رکھنے والے عرقیات میں بکثرت پایا جاتا ہے۔انسانوں میں ای این آر نہیں ہوتا ۔ اس لئے ہمیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ تاہم اس مرکب پر پابندی عائد کرنے کے قائل افراد کو شک ہے کہ یہ مرکب بعض حوالوں سے مضر ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف منیسوٹا کی ایک حالیہ تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ مائع کی تہہ میں بیٹھ جانے والے مواد میں ٹرائیکلون کی سطوح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اس سے مزاحمت کرنے والے اورگنزمز کی پرورش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ایک صنعتی یا طبی پیمانے پر ٹرائی کلون کی بڑی مقدار چاہتے ہیں تو شاید ہم اسے ہر روزمائع کی سطح کے نیچے جمع نہیں کر سکتے۔ساتھ ہی ساتھ تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ہاتھ دھونے کے لئے انٹی بیکٹیریل صابن یا دوسری اشیائے صارف استعمال کرنے کے فوائد یکساں طور پر نہ ہونے کے برابر ہیں ۔۔۔۔۔ کئی تحقیقات میں انٹی بیکٹیریل اور رگیولر صابن اپنے اثر میں برابر پائے گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *