رمضان المبارک اورفریضہ زکوٰۃ

Zakat

زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی اور اضافے کے ہیں۔ اس عبادت کے ادا کرنے سے انسان کا مال حلال اور پاک بنتا ہے اور نفس بھی تما م گناہوں اور برائیوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے نہ صرف مال میں اضافہ ہوتا بل کہ اجر و ثواب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے

’’جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ان کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں‘‘
(سورۃ البقرہ)

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایک بنیاد کو تسلیم کرنے سے انکار کرے تو وہ کافر گردانا جائے گا، جب کہ اس کا تارک گنہ گار تصور کیا جائے گا۔ زکوٰۃ ان ارکان میں سے ایک ہے جو صاحبان نصاب پر ان کے اموال‘ مویشی‘ سامان تجارت وغیرہ پر سال میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ قرآن پاک میں امام کائناتؐ سے ارشاد فرمایا گیا ’’ اے نبیؐ آپ ان کے (یعنی اہل ایمان) اموال میں سے زکوٰۃ لیں تاکہ انہیں (گناہوں سے) پاک کریں او ران کے (درجات) بلند کریں۔‘‘ (سورۃ توبہ)

زکوٰۃ کی ادائی ایمان کا حصہ اور سچا مومن ہونے کی نشانی ہے۔ کیوں کہ زکوٰۃ صرف اہل اسلام پر عاید کی گئی ہے اور غیر مسلم خواہ اسلامی ریاست میں بھی کیوں نہ رہتے ہوں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے

’’وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، وہی سچے مومن ہیں۔‘‘
(سورۃ الانفال)

زکوٰۃ کی ادائی کے جہاں مادی‘ مالی‘ دنیاوی اور اخروی فوائد و ثمرات ہیں، وہیں عدم ادائی پر شدید وعیدیں بھی موجود ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مشرک اور آخرت کے منکر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔ ’’ تباہی ہے ان مشرکو ں کے لیے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ حم)

ان آیات مبارکہ میں اﷲ تعالیٰ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کو مشرک اور آخرت کا منکر قرار دیا ہے۔ حالاں کہ دیکھا جائے تو ایک کلمہ گو مسلمان کو مشرک کہنا تعجب خیز معلوم ہوتا ہے۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعے سے اس کی صداقت واضح ہو جاتی ہے۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا اﷲ کے مقابل مال و دولت کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے اور وہ اس میں اضافے کے خیال سے دن رات مگن رہتا ہے اور اﷲ کا حق ادا نہیں کرتا ‘ تو ایسا شخص عملی طور پر اﷲ کے مقابلے پر مال دولت کو اپنا رب قرار دے دیتا ہے اور اس کی محبت میں غرق رہتا ہے۔

لہٰذا اﷲ کے احکامات پس پشت ڈال کر اپنی دولت و ثروت کے انبار جمع کرنے کو ہی متاع حیات سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس لیے وہ شرک کا مرتکب ہو جاتا ہے اور مال کی محبت انسان کو آخرت کے انجام بد سے غافل کردیتی ہے اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ بس یہ دنیا اور اس کے عیش و آرام ہی سب کچھ ہیں اور کس نے دیکھا ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ بس زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کرو جب کہ ایسے لوگوں کو زکوٰۃ ‘ صدقات‘ خیرا ت وغیرہ میں پیسہ جاتا ہوا نظر آتا ہے اور ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں کہ اﷲ کی راہ میں خرچ کریں۔

امام کائناتؐ نے ارشاد فرمایا۔
’’ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کا مال و دولت تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔‘‘ (طبرانی)
ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے لوگ قحط سالی میں مبتلا کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ (طبرانی)

زکوٰۃ نہ دینے والوں کا یہ تو دنیاوی انجام ہے اور اس تباہی و بربادی کے علاوہ آخرت میں ایسے لوگوں کو جو سزا دی جائے گی اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا۔

’’ درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیے ان لوگوں کو جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ایک دن آئے گا (قیامت کے روز) کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں ، پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہ وہ خزانہ ہے جسے تم اپنے لیے سنبھال سنبھال کر رکھتے تھے اب اپنے خزانے کا مزہ چکھو۔‘‘ (سورۃ توبہ)

امام الانبیاء ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’ قیامت کے دن زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کا مال و دولت گنجا سانپ (یعنی انتہائی زہریلا) بنا کر ان پر مسلط کر دیا جائے گا جو انہیں مسلسل ڈستا رہے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘ (بخاری)

آپؐ نے فرمایا۔ ’’جن جانوروں کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے گی وہ جانور اپنے مالکوں کو قیامت کے دن مسلسل پچاس ہزار برس تک اپنے سینگوں سے مارتے رہیں گے اور پاؤں تلے روندتے رہیں گے۔‘‘ (مسلم)

معراج کی شب رحمت عالمؐ نے کچھ ایسے لوگ دیکھے جن کے آگے پیچھے دھجیاں لٹک رہی تھیں اور وہ جانوروں کی طرح تھوہر کانٹے اور آگ کے پتھر کھا رہے تھے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا یہ کون لوگ ہیں؟ جبریلؑ نے بتایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کیا کرتے تھے۔
زکوٰۃ کی ادائی تکمیل اسلام کا ذریعہ ہے۔ امام کائناتؐ نے ارشاد فرمایا۔
’’ زکوٰۃ ادا کرو تاکہ تمہارا اسلام مکمل ہوجائے۔‘‘ (بزار)

زکوٰۃ کی ادائی کے بغیر اسلام نامکمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا صدیق اکبرؓ کے دور خلافت میں بعض لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان کے خلاف اسی طرح جنگ کی‘ جس طرح کفار کے خلاف کی جاتی ہے۔ حالاں کہ وہ کلمہ توحید کا اقرار کرتے تھے۔ نماز اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے والوں میں سارے کے سارے صحابہ کرامؓ شامل تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو آدمی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کا ایمان اس کی نماز اس کا روزہ وغیرہ سب بے کار و عبث ہیں۔

اسلام کا نظام زکوٰۃ جہاں اسلام کی تکمیل‘ گناہوں کے کفارے، تزکیۂ نفس‘ رضائے الٰہی اور تقرب الی اﷲ کا ذریعہ اور بہ ذات خود ایک مطلوب اور مقصود عبادت ہے‘ نہ کہ کسی دوسری عبادت کے حصول کا ذریعہ‘ تو وہیں اسلامی معاشرے میں عدل و انصاف ‘ رواداری‘ خیر خواہی‘ معاشی ناہم واریوں کے خاتمہ اور معاشرے کے مختلف طبقات یعنی امیر و غریب کے درمیان تفاوت کم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر زکوٰۃ کا تذکرہ نماز کے ساتھ کیا گیا ہے۔ گویا نماز اور زکوٰۃ دونوں ایسے امور ہیں جو حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی واضح نشان دہی کرتے ہیں۔

قرآن و حدیث میں زکوٰۃ کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ چوں کہ اس فرض کی ادائی سے اﷲ کی رضا جوئی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائی بھی ہوتی ہے تاکہ اسلامی معاشرے میں طبقاتی ناہم واریاں نہ رہیں ۔ غریبوں محتاجوں اور دیگر مفلوک الحال ضرورت مندوں کی دیکھ بھال ہوتی رہے اور کوئی بھی انسان بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے ۔ جس کا بدیہی نتیجہ انتقام‘ مایوسی اور چوری‘ ڈاکہ زنی اور دیگر جرائم کی صورت میں نکلتا ہے۔

اسلام معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض طبقات تو عیش و عشرت کے حصول میں کام یاب ہوں اور ایک بڑا طبقہ نان جویں کے لیے بھی پریشان ہو۔ بل کہ درمیانی راہ پیدا کرنے کے لیے زکوٰۃ کا نظام عطا کیا گیا تاکہ اہل ثروت رب کی رضا کے حصول کے جذبے کے تحت انفاق فی سبیل اﷲ کریں اور زیردست طبقات ان اموال سے اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کر سکیں۔ اس لحاظ سے اسلامی نظام زکوٰۃ معاشرتی فلاح و بہبود کا ایسا جامع پروگرام پیش کرتا ہے کہ جس پر عمل کر کے بے شمار انفرادی و اجتماعی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

اکثر مال دار لوگ نمود و نمائش کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس سے اصل حق دار محروم رہ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی ناہم واریاں مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہیں‘ چوں کہ غیرت مند اور خوددار قسم کے لوگ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور اس طرح اجتماعی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسلام میں نظام زکوٰۃ سے جہاں ملّی اجتماعیت مقصود ہے وہیں اس کے ذریعے معاشی و معاشرتی سدھار لانا بھی مقاصد میں شامل ہے۔

اسلام میں زکوٰۃ کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اس کی ادائی لازمی امر ہے۔ اس کا انکار کفر اور باوجود وسعت کے عدم ادائی عظیم گناہ ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاں زکوٰۃ کی ادائی پر زور دیا گیا‘ وہیں اس کے مصارف بھی بیان کر دیے گئے تاکہ اس عظیم فریضے کی ادائی کرنے والوں کے پاکیزہ جذبات و اموال کا استحصال نہ ہونے پائے۔ قرآن مجید و احادیث مبارکہ میں بیان کردہ مصارف کے علاوہ مال زکوٰۃ خرچ کرنا جائز نہیں۔

آج بھی اگر صحیح معنوں میں اسلامی نظام زکوٰۃ کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جائے تو معاشرے میں موجود طبقاتی تفریق اور معاشی ناہم واریاں ختم کی جاسکتی ہیں اور باہمی احترام ‘ محبت و مودت ‘ خیر خواہی اور غم خواری کے پاکیزہ اسلامی جذبات کو فروغ دے کر عدل و انصاف اور رواداری پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ جہاں ہر شخص مطمین و مسرور ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

(مولانا حافظ عبدالرحمن سلفی)

Source: Express News

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *