امریکی سفیر کی مداخلت

Anjum Niaz

(انجم نیاز )

مرسی حکومت کے آخری لمحات میں جو محترمہ صدارتی محل اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے درمیان ٹیلی فونک پیغامات کا تبادلہ کرتی رہی وہ مصر میں امریکی سفیر این پیٹرسن تھیں۔ وہ دباؤ کا شکار صدر مرسی کو قائل کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ ، جبکہ فوج اُنہیں اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے چکی تھی، منصب سے ہٹ جائیں کیونکہ اُن کے گرد مسائل کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں اور وقت کی طنابیں اُن کے ہاتھ سے سرک رہی ہیں اور ایسی صورت میں وہ امریکی مدد کے بغیر تنہا کھڑے ہوں گے۔ مرسی نے اُ ن کی بات پر یقین نہ کیا۔ اس سے چند ہفتے پہلے پیٹرسن نے ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا ...’’میراخیال ہے کہ یہ حکومت کسی مشکوک طریقے سے منتخب نہیں ہوئی ہے۔‘‘یہ کہتے ہوئے اُنھوں نے ایک طرح سے مرسی کو ’’اعتماد کا ووٹ ‘‘ دے دیا تھا۔ پھر اُنھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اُنہیں شک ہے کہ گلیوں میں ہونے والا احتجاج الیکشن کی نسبت بہتر نتائج نہیں نکال سکے گا۔اس طرح این پیٹرسن نے اپنے بچوں (مصر میں امریکہ کو طنزیہ طور پر والدہ کہا جاتا ہے) کو شرارتیں کرنے سے منع کر دیا۔اس دوران قاہرہ کی گلیوں میں این پیٹرسن کی مخالفت میں پوسٹر بھی دکھائی دیے ۔ ایک پوسٹر میں اُن کی تصویر کے اوپر سرخ رنگ سے کراس کا نشان لگا یا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اُن کا ملک چھوڑ دیں۔ تریسٹھ سالہ پیٹرسن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ مرسی اور اُس کی سیاسی جماعت کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں، اس لیے احتجاج کرنے والوں کے نزدیک وہ ایک حکومتِ وقت کا تحفظ کرتے ہوئے منفی کردار ادا کر رہی تھیں۔
این پیٹرسن نے جون 2007 سے لے کر اکتوبر2010 تک پاکستان میں بھی بطور سفیر خدمات سرانجام دی تھیں۔وہ یہاں بھی ایسے ہی عوامی غیض و غضب کا نشانہ بن سکتی تھیں، تاہم یہاں صورتِ حال یہ تھی کہ اگر وہ عوام میں مقبول نہیں تھیں تو ان کی نظروں میں قابلِ نفرت بھی نہیں تھیں۔ اُس وقت ہمارے ہاں این آراو ، جسے امریکیوں نے سابقہ حکمرانوں کو اقتدار پر فائز کرنے کے لیے بنوایا، سے سہولت یافتہ افراد کی حکومت تھی۔ اس دوران جمہوریت کی آڑ میں زرداری حکومت کی لوٹ مار بھی شروع ہو گئی ، جبکہ دعوے کیے جارہے تھے کہ ملک میں جمہوری دور کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ کہ ہم جمہوریت کے چمپئن ہیں۔ قول و فعل کے تضاد کے اُس دور میں این پیٹرسن خاموشی سے پاکستان سے چلی گئیں۔
تاہم مصر میں ایسا نہ ہوا اور اُنھوں نے وہاں سے چپکے سے جانا مناسب نہ سمجھا چناچہ وہ اُن کو اس معاملے میں ملوث سمجھا گیا۔ نیویارک ٹائمز لکھتا ہے...’’وہ امریکی خارجہ پالیسی میں اتنی اہمیت اختیار کر چکی ہیں کہ اُن کے وہاں موجود ہونے سے یہ تاثر چلا گیا کہ امریکہ مصر میں مداخلت کررہا ہے۔‘‘اب جبکہ اُن کی نئی حکومت اور مصری عوام کی نظروں میں اُن کی ساکھ مجروع ہو چکی ہے، چناچہ بطور سفیر ان کی مصر میں موجودگی کے امکانات دھندلے ہیں۔ ’’Daily Beast‘‘ کا کہنا ہے کہ ان کو ترقی ملنے کا امکان پایا جاتا ہے کیونکہ صدر اُوباما سوچ رہے ہیں کہ اُن کو مشرقی ممالک کے معاملات کے لیے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کے عہدے پر فائز کر دیا جائے۔ تاہم اس ضمن میں ایک نیوز ویب سائٹ کا کہنا ہے ...’’حالیہ دنوں کچھ ناروا معاملات میں اُن کانام آنے سے ہو سکتاہے کہ وائٹ ھاؤس ان کی نامزدگی میں تامل سے کام لے۔‘‘
پاکستان میں اُن کے جانشیں کیمرون منٹر نے ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہوئے کہا...’’ اگر ان حالات میں ذمہ داری سرانجام دینے کے لیے کسی بہترین شخصیت کا انتخاب کرنا ہو تو وہ اُن (این پیٹرسن) سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘مسٹر کیمرون منٹر جانتے تھے کہ این پیٹرسن پاکستان میں ان حالات میں آئیں جب صدر مشرف سفید و سیاہ کے مالک تھے اور وہ اس وقت یہاں سے گئیں جب صدر زرداری ایوانِ صدر میں اپنے قدم مضبوط جماچکے تھے۔ وہ یہاں واشنگٹن کے حکمرانوں کا جو ایجنڈہ لے کر آئی تھیں اور اُنھوں نے جنرل مشرف اور جی ایچ کیو کے اعلیٰ افسران سے جو ملاقاتیں کیں، وہ کھلا راز ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق...’’این پیٹرسن نے پاکستان کے دفاعی اور خفیہ اداروں کے افسران سے روابط قائم کیے۔ اُنھوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دھشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر سی آئی اے کے ڈرون حملوں کی پرزور طریقے سے وکالت کی۔ اسی طرح پاکستانی فوجی دستوں کو دھشت گردی کے خلاف لڑائی کی تربیت دینے کے لیے امریکی آفیسرز کی تعیناتی میں بھی اُنھوں نے اہم کردار ادا کیا۔پاکستانی سیاست کے وہ حالات امریکی اقدامات کے لیے ساز گار بھی تھے کیونکہ مشرف کو اقتدار کا لالچ تھا جبکہ بے نظیر بھٹو واپسی کے لیے بے چین تھیں۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ محترمہ 2007 کے موسمِ بہار میں واشنگٹن میں تھیں جبکہ دنیا کے ہمارے حصے میں این پیٹرسن این آراو کے لیے سرگرمِ عمل تھیں۔ اس ’’کارِ خیر ‘‘ میں اُنہیں برطانوی ھائی کمشنر مارک لیال گرانٹ (Mark Lyall Grant) کی معاونت بھی حاصل تھی جبکہ صدر مشرف اور جنرل کیانی، جو اُس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے، سے ان کے پیغامات کا سلسلہ جاری تھا۔ محترمہ کی ہلاکت کے بعد امریکی، جو متبادل پلان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے، اپنے پلان بی کو آگے لے آئے۔ امریکیوں کی نگاہِ انتخاب اب محترمہ کے شوہر پر پڑی۔ طے یہ کیا گیا کہ وہ مشر ف کے ساتھ شراکتِ اقتدار کی طرف بڑھیں گے۔ گویا مشرف تو صدر ہی رہیں گے جبکہ آصف زرداری کو وزارتِ اعظمیٰ دی جائے گی۔یہ منصوبہ تو سیدھا سادا تھا لیکن اس میں ایک ایسی مشکل آن پڑی کہ این پیٹرسن اپنی بے پناہ اسٹرٹیجک مہارت کے باوجود ا س کو حل نہ کرسکیں۔ مسلۂ یہ تھا کہ این آر او 1986 سے لے کر 1999 تک کی جانے والی مالی بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالتا تھا، لیکن جب نئی صدی کا سورج طلوع ہوا تو یہ ڈھال ہوا میں تحلیل ہوتی محسوس ہوئی کیونکہ پھر ’’تیل کے بدلے خوراک‘‘، بی ایم ڈبیلو، پولش ٹریکٹر ساز، اے آر وائی اور سب سے بڑھ کر سوئٹرز لینڈ میں ساٹھ ملین ڈالر منی لانڈرنگ کیسز نے سراٹھالیا۔
ان حالات میں زردای صاحب کے پاس اور کوئی جائے مفر نہ تھی ،سوائے یہ کہ ایک سیاسی جماعت کے ناخدا بن جائیں، اور اُن کی مرحوم بیوی کی چھوڑی ہوئی سیاسی جماعت موجود بھی تھی۔ چناچہ 2008 کے انتخابات میں پی پی پی اقتدار میں آگئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اُن دنوں این پیٹرسن کے زرداری صاحب کی مشیرِ خاص شیری رحمان سے کس قدر قریبی روابط تھے۔ اگر مواقع پر وہ کسی پرسکون گوشے میں بیٹھی سرجوڑے ریاست کے معاملات پر بات چیت کرتی پائی جاتیں۔ کسی کو ان کے درمیان ہونے والی گفتگوکا مطلق علم نہ ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ این پیٹرسن کو ان دنوں شیری رحمان کے سوا کسی کی بریفنگ پر بھی اعتماد نہ تھا۔
اگر امریکی سفیر دنیا کے مختلف ممالک کے حساس اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں تو ان کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جائے؟ بات یہ ہے کہ حکومت کی کمزوری کی وجہ سے ہی امریکی سفیر کو اس کی شہ ملتی ہے ۔ پاکستان میں چاہے ہماری حکمران جماعت ہو یا ایوزیشن، سیاسی رہنما ہوں یا طبقہ اشرافیہ، سب کے نزدیک امریکی سفیر ایک طرح کا وائسرائے ہوتا ہے۔جب ہم نے مئی 1998 میں ایٹمی تجربات کیے تو اس کے فوراً بعد امریکی سفیر تھامس سیمنز نے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کی سب سے پہلی فرمائش یہ ہوتی ہے کہ ان کواور ان کے اہلِ خانہ کو امریکی ویزا دے دیا جائے۔ ساٹھ کی دھائی میں بننے والی ایک فلم’’The Ugly American‘‘ میں ایک امریکی سفیر کی کردار نگاری کی گئی تھی کہ وہ کس طرح ایک غریب ملک کو امداد دیتا ہے جبکہ اس عمل میں مستحقین کی بجائے ذاتی مفاد کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ فلم اتنی مشہور ہو گئی کہ اس وقت کے امریکی صدر مسٹر آئزن ھاور کو امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد کا نوٹس لینا پڑا۔
آج کوئی فلم تو نہیں ،بلکہ وکی لیکس بہت سی چیزوں کا انکشاف کر چکے ہیں کہ کس طرح ہمارے اشراف امریکی سفیروں کے سامنے دست بستہ رہتے ہیں۔ ان انکشافات سے عوام کی بڑی تعداد باخبر ہے۔ مارچ 2009 میں نائب صدر بیڈن نے برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کو بتایا تھا کہ صدر زرداری نے ان کو بتایا ہے کہ ’’ اُن کو فوج کی طرف سے تختہ الٹے جانے کا خطرہ ہے۔‘‘کچھ کیبل پیغامات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایک برادر اسلامی ملک پاکستان کی سیاست میں بہت حد تک ملوث ہوتا ہے۔تاہم ، چاہے کہ امریکی سفیروں کی طرف سے ہمارے معاملات میں مداخلت ہو یا کسی اور اسلامی ملک کی طرف سے، اس کی وجہ ہماری داخلی کمزوری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *