میری زندگی کا آخری دن

azhar khan

"اگر مجھے آگاہ کر دیا جائے کہ آج میری زندگی کا آخری دن ہے اور کل میں اس دنیا میں نہیں ہو ں گا تومجھے اپنی زندگی کا آخری دن کیسے گزارنا چاہیے ؟ پارک میں واک کرتے ہوئے اچانک سے یہ سوال میرے ذہن میں کلبلایا اوراس کے بعد سوچیں اور گہری ہو تی چلی گئیں، بچپن کے سارے واقعات ایک ایک کر کے سامنے آتے چلے گئے، سکول، کالج ، یونیورسٹی، کیرئیر کی پہلی جاب اور پھر اس کے بعد ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ، پھر ذہن میں چلنے والی فلم کا اختتام ہو گیا۔ اب یہ سوچنا شروع کر دیا کہ آخری دن کیسے گزارنا ہے ؟ یہ سوال ذہن میں آنے کے بعد میں نے اپنے کئی دو ستوں سے یہی سوال کیا ایک دوست نے کہا، میںآدھا دن اپنے والدین کے ساتھ گزاروں گا، پھر دوستوں اور رشتہ داروں کو کال کر کے بلا لوں گا اور ان سے معافی تلافی کا سلسلہ شروع ہو گا، پھر جا کر اپنی قبر کی نشاندہی کروں گا اور آخری وقت میں لیپ ٹاپ سے ساری فضول چیزیں ڈیلیٹ کر کے سورۃ رحمن کی تلاوت سنوں گا، دوسرے دوست نے کہا میں اپنی زندگی کے آخری دن والدین اور دوستوں کے ساتھ گزا روں گا اور جو جو زندگی میں برے کام کیے اس کے حوالے سے توبہ کروں گا اور اکاؤنٹ میں جتنے پیسے پڑے ہیں یا پھر جو میرے حصے کی زمینیں ہیں وہ سب حقداروں کو بانٹ دوں گا یا پھر خیرات کر دوں گا۔ تیسرے نے کہا آج کل موبائل فون کا دور ہے میں سب کو ایک میسج کردوں گا کہ کل میں نے اس دنیا میں نہیں ہو نا اس لیے جس جس کے پاس فرصت ہے وہ آج ہی آکر مجھ سے مل لے اور کوئی گلے شکوے کرنے ہیں تو آج ہی کر لے ،کیونکہ دنیا سے رخصتی کے بعد تو بندہ جیسا بھی ہو لوگ اس کی اچھائیاں ہی بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد روتے اور گڑ گڑاتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگوں گا۔اور آخری وقت میں نماز کی نیت کرکے سجدے میں پڑا رہوں گا تا کہ سجدے میں ہی روح نکل جائے۔ ایک اورصاحب کی طرف سے کچھ دلچسپ جواب سننے میں آیا ، کہنے لگے کہ میں تو بہت ہلا گلا کروں گا، خوب انجوائے کروں گاڑی میں اونچا میوزک لگا کرلانگ ڈرائیو پہ نکل جاؤں گا اور کسی کو بھی نہیں بتاؤں گااور آخری وقت میں سینما میں اپنی پسند کی مووی بھی جا کر دیکھوں گا۔میرے ایک معصوم دوست نے جس کی بہت طویل عرصے سے شادی نہیں ہو رہی کیونکہ جیسے ہی اس کو کوئی لڑکی پسند آتی ہے اتفاقاً کچھ عرصہ بعد اس لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے اس لیے اب اس نے شادی کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے اس کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی کے آخری دن کا جیسے ہی مجھے پتہ چلے گا تو میں اسی دن اچانک اپنی شادی کا اعلان کر کے سب رشتہ داروں، دوست احباب کو بلا لوں گا اور ڈھول ، باجے کی آواز اور خوشیوں سے بھرا دن گزار کر آخری وقت میں سب کو بتاکر ان سے معافی مانگ کررخصت ہو جاؤں گا
غرضیکہ زندگی کے آخری دن کو گزارنے کا ہر ایک کا اپنا اپنا انداز سامنے آیا لیکن جو ایک جواب کثرت سے ملا وہ یہ تھا کہ آخری دن والدین اور باقی دوست احباب اور رشتہ داروں سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگ کر ، گناہوں سے توبہ کر کے پھر رخصت ہوں گا۔ یاپھراپنی جائیداد، بینک بیلنس، کو حقدار لوگوں میں بانٹوں گا یا پھر خیرات کر دوں گا۔ یا پھر کسی سے اگر زیادتی اور ناانصافی کی ہے تو اس کی معافی مانگوں گا اور کچھ احباب اپنی زندگی کے آخری دن کو خوشیوں سے بھرنا چاہ رہے تھے یا پھر ایسے کام کرنا چاہ رہے تھے جو وہ اپنی زندگی بھر نہیں کرسکے۔
قدرت نے ہم سب کو زندگی جیسی بھر پور نعمت عطا کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کتنی مدت اس دنیا میں گزارے گا وہ مدت چند سال بھی ہو سکتی ہے اور سو سال بھی ہو سکتی ہے۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
ہم میں سے کوئی بھی اپنی زندگی کے آخری دن کے بارے میں نہیں جانتا۔ ہم ہر روز کی طرح سارے کام کاج کرتے ہیں اور رات کو نیند کی گہری وادیوں میں چلے جاتے ہیں ، اور ہمارے ان چوبیس گھنٹوں کے دوران دنیا میں کیا ہورہا ہوتا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ایک سیکنڈ میں دو افراد، ایک منٹ میں 105، ایک گھنٹے میں 6316، ایک دن میں 151,600 اور ایک سال میں 5کروڑ 53 لاکھ افراد کے قریب لوگوں کا انتقال ہو تا ہے ۔ اورسال کے ان پانچ کروڑ یا دن کے ڈیڑھ لاکھ لوگوں میں سے کسی ایک کو بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے وہ آپ ، ہم یا ہمارے ارد گرد لوگوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہم سب زندگی کی بھاگ دوڑ میں آفس ، کاروبار، نوکری وغیرہ کو بہت زیادہ ٹائم اور فیملی، رشتہ داروں اور دوستوں کو بہت مختصر ٹائم دیتے ہیں، بزنس اور جائیدادیں بڑھانے کے چکر میں ہماری پوری عمر گزر جاتی ہے لیکن کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ حقداروں کو ان کا حق عطا کریں،جو کچھ بھی ہمیں قدرت کی طرف سے عطا کیا اس میں سے مستحق لوگوں کا حصہ نکالیں۔ ہم ساری زندگی لوگوں کو تنگ کرتے ، اذیتیں دیتے اور ان کو مشکلات میں مبتلا کرتے رہیں گے، اگر قدرت نے ہمیں کوئی طاقت دی ہے یا اختیارات دیے ہیں تو ان کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، صرف یہی سوچ کر کہ زندگی تو بہت طویل ہے لیکن آخری دن بتا کر نہیں آتا اور نہ ہی لوگوں سے معافیاں مانگنے یا توبہ کرنے کا وقت دے گا۔ دوسری طرف کچھ لوگ ساری زندگی ایک خول میں بند رہیں گے ، وہ زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہوتے اور کسی سست الوجود کی طرح اپنی زندگی کا ہر دن ایسے گزاریں گے جیسے وہ اپنے اس دن پر احسان کر رہے ہیں ، ان کے ذہن میں زندگی کو بہتر سے بہترین گزارنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا، وہ کبھی زندگی میں کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر تے ، نہ ہی زندگی کی قدر کرتے ہیں اور اس دوران ان کی زندگی کا بھی آخری دن آ ہی جاتا ہے ۔شاید آخری وقت میں ان کو ملال بھی ہوتا ہو لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔
آج ذرا بیٹھ کو سوچیے کہ اگر کل آپ کی زندگی کا آخری دن ہے تو آپ دن کے چوبیس گھنٹوں کو کیسے گزارتے ہیں ۔ آپ کے تمام پلانز، تمام بزنس یا آفیشل میٹنگز، تمام فارن ٹورز، بینک بیلنس، جائیدادوں، ان سب کی حیثیت اچانک ختم ہو جائے گی اور آپ کو صرف اپنی فکر پڑ جائے گی ، کیونکہ آپ اگر دنیا کے امیر ترین آدمی بھی ہیں تو موت سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا، اس سے آج تک کوئی نہیں بچ سکا نہ نبی نہ رسول، نہ بادشاہ نہ وزیر، نہ ظالم نہ مظلوم، نہ امیر نہ غریب ، سوآپ جتنے بھی طاقتور ہیں یا جتنے بھی دولت مند ہیں یا جتنی بھی اعلی حیثیت کے مالک ہیں، آپ کی زندگی کا آخری دن آنا ہی آنا ہے ۔ آپ کو بزنس کرنا ہے دولتمند بننا ہے یا طاقتور بننا ہے تو بنیں، لیکن کسی کا حق نہ چھینیں، کسی کو اپنی طاقت کا ناجائز نشانہ نہ بنائیں،تکبر اور گھمنڈ اور اتراتے ہوئے زندگی نہ گزاریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی فیملی اور دوست احباب کے ساتھ بھی اچھا اور بھر پور وقت گزاریں کیونکہ آپ کی فیملی اور آپ کے اچھے دوست ہی آپ کی زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں یہ آپ کے ساتھ اس وقت بھی کھڑے ہوتے ہیں جب آپ کچھ نہیں ہوتے ، یہ آپ کے اچھے اور برے وقت میں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں آپ کو بھی چاہیے کہ آپ ان کو بھی ہمیشہ ساتھ رکھیں اور آگے نکلنے کی دوڑ میں اہم لوگوں کو صرف آخری دن تک محدود نہ رکھیں۔
آج سے ہر دن کو اپنی زندگی کا آخری دن سمجھ کر گزاریے ، زندگی کی قدر کیجیے، آپ سے پہلے بھی اربوں لوگ دنیا سے رخصت ہو گئے،آپ کے ہوتے ہوئے بھی بہت سے لوگ رخصت ہو رہے ہوں گے اور آپ کے بعد بھی دنیا میں لو گ آئیں گے اور جائیں گے ۔ لیکن آپ کوصرف اپنے آپ کو بہتر بنانا ہے کیونکہ آپ کو زندگی صرف ایک بار ملی ہے ہر دن کو قدرت کا عظیم تحفہ سمجھ کر گزاریے تب ہی آپ کو اپنی زندگی جیسی عظیم نعمت کی قدر ہو گی اورآپ ہر دن کوشاندار او ر بھر پور طریقے سے گزاریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *