پاکستان کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے: اکنامک سروے

economic surveyرواں مالی سال کے دوران حکومت کی معاشی کارکردگی پچھلے سال کی نسبت تو بہتر رہی لیکن خود حکومت نے اپنے لئے جو اہداف مقرر کئے تھے ان میں سے بیشتر حاصل نہیں کئے جا سکے۔

یہ بات مالی سال 2013-2014ء کے لیے جاری کئے گئے اقتصادی سروے میں درج اعداد و شمار سے سامنے آئی ہے۔

جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران معاشی ترقی کے بارے میں وزارت خزانہ کے اس اقتصادی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اس سال اقتصادی ترقی کی شرح ہدف سے کم رہی۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی جائزے کے اجرا کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے سال اقتصادی ترقی کی شرح کا ہدف 4.4 فیصد مقرر کیا گیا تھا جبکہ ترقی کی ریکارڈ شدہ رفتار 4.1 فیصد رہی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں غربت کی شرح پچاس فیصد سے زائد ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

اس غربت سے ملک کو نجات دلانے کے لئے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت کا پہلا سال آگ بجھانے کی کوششوں میں گزر گیا۔ اب ہم خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں پر توجہ  گے اور انہیں رعایتی نرخ (سبسڈیز) دی جائیں گی۔

انہوں نے غربت کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ پاکستانی جس کی روزانہ آمدن دو ڈالر سے کم ہے وہ خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے۔

ٹیکس وصولی کی مد میں بھی حکومت اپنے مقرر کردہ ہدف تک نہیں پہنچ سکی اور مئی کے مہینے تک 1955 ارب روپے کے ٹیکس جمع کیے جبکہ پورے سال کے لیے 2475 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ زرعی شعبے کے لیے ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر کیا گیا تھا جبکہ اس شعبے نے 2.12 فیصد کی رفتار سے ترقی کی۔ حکومت سرمایہ کاری کا ہدف (15.1 فیصد) بھی پورا نہیں کر پائی اور اس ملک میں سرمایہ کاری کی شرح کُل مقامی پیداوار کا 14 فیصد رہی۔

مہنگائی یا افراط زر کی شرح حکومت کے مقرر کردہ ہدف آٹھ فیصد سے زیادہ یعنی 8.6 فیصد تک رہی۔ پچھلے سال ملک میں مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں یقین دلایا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کی افواہیں بے بنیاد ہیں: ’ہماری کوشش ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کم سے کم اضافہ ہو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ افراط زر کی شرح دس فیصد تک نہیں پہنچے گی۔‘

اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کے لیے مقرر کردہ بیشتر اہداف حاصل نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہداف اس لیے حاصل نہیں ہوئے کہ حکومت نے بہت مشکل اہداف مقرر کیے تھے:

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *