عمران نظام کے حق میں ہیں یا خلاف؟

Asha’ar Rehmanاشعررحمٰن

معمول کے حالات میں پنڈی بھٹیاں کا مقابلہ شاید ان کی توجہ کھینچ لیتا جو پنجاب کی سیاست میں بالعموم اور صوبے اور پورے ملک میں پی ٹی آئی کی جانب سے ن لیگ کو دئیے گئے چیلنج میں بالخصوص دلچسپی لیتے ہیں۔لیکن قومی سیاسی افق پر اتنا کچھ ہو رہا تھا کہ پنجاب کے دل میں شریف کیمپ پر پی ٹی آئی کی یہ چھوٹی سی اہم فتح بڑی حد تک محروم توجہ ہی رہی۔
پنڈی بھٹیاں کے انتخابات پی ٹی آئی کے لئے ایک مشکل وقت میں آئے۔ صرف چند روز قبل، پی ایم ایل این کے سیاستدان نارووال میں بھی ایک انتخابی نتیجے سے بھونچکا رہ گئے تھے۔نارووال پنڈی بھٹیاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔نارووال کے معرکے نے نہ صرف ن لیگ کی شہرت کا بے داغ ہونا ثابت کیابلکہ 2013ء کے عام انتخابات کی شفافیت بھی ثابت کی۔
چند مخصوص نشستوں پر انتخابی عمل کے جائزے کے مطالبے کی پی ٹی آئی کی مہم کے لئے نارووال ایک ٹیسٹ کیس تھا اورپارٹی کی جانب سے بہت زیادہ شور مچائے جانے کے باوجود وہاں ان کی بڑی شکست موت کے مترادف تھی۔پی ٹی آئی نے یہ کہتے ہوئے اس صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کی کہ ضمنی انتخاب میں بھی دھاندلی کی گئی۔اب جماعت اس خدشے میں مبتلا ہوگئی ہے کہ لوگ، جو جعلی ووٹ کے نعروں سے تنگ آچکے ہیں، وہ کہیں اپنی جماعت ہی سے اکتا نہ جائیں۔
بالکل اسی طرح جیسے نارووال کے انتخاب نے پنجاب میں پی ایم ایل این کی بھرپورموجودگی کو ثابت کیا ، ویسے ہی پنڈی بھٹیاں پی ٹی آئی کے چیلنج کی طاقت کے متعلق ایک یاددہانی ہے۔ وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں عمران کی پارٹی اب بکثرت حامی رکھتی ہے۔اس حمایت کا برقرار رہنا اس بات پر منحصر ہے کہ عمران اس کو برقرار رکھنے کے لئے کیااقدامات اٹھاتے ہیں۔ تازہ ترین ووٹ ظاہر کرتے ہیں کہ اپنی تقاریر میں نظام کو خراب قرار دینے کے باوجود، کسی بھی کارروائی کا مطالبے کرتے وقت عمران اسی نظام کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
علاقے کے ایک صحافی نے پنڈی بھٹیاں کے انتخابات کے متعلق یہ جملہ پڑھا، ’’اب پی ٹی آئی ن لیگ کے ہر طاقتور حامی گروہ کی ایک معقول حد تک مضبوط دشمن جماعت ہے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ سب گروہ بندیاں کرنے اور پرانی روایات و نظام سے فائدہ اٹھانے کا کھیل ہے۔‘‘
پنڈی بھٹیاں کا انتخاب جیتنے والی پی ٹی آئی کی نگہت انتصار بھٹی مئی 2013ء میں ن لیگ کی جانب سے امیدوار تھیں۔ وہ ایک آزاد امیدوارشعیب شاہنواز سے ہار گئیں تھیں۔مہدی حسن بھٹی کا طاقتور خاندان شعیب کی مددکر رہا تھا مگر انتخابات کے بعد اس خاندان نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔
نگہت کے شوہر انتصار بھٹی سابق ایم پی اے ہیں اور علاقے کے ایک اور پارلمنٹیرین جہانگیر بھٹی کے بیٹے بھی ہیں۔1985ء میں جیتنے کے بعد جہانگیر بھٹی اپنی مدت کے وسط میں فوت ہوگئے اورانتصار ضمنی انتخاب میں بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔1988ء میں انتصاراسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے تھے۔1993ء میں پی پی پی میں منتقل ہونے اور1996ء میں پی ایم ایل این میں واپس جانے سے پہلے 1990ء میں وہ پی ایم ایل این کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔
2002ء میں ا نتصار بھٹی نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھاکیونکہ ان کے پاس بی اے کی ڈگری نہیں تھی۔2005ء سے 2009ء کے دوران، ان کے بھائی انصار بھٹی پنڈی بھٹیاں میں تحصیل ناظم تھے اور مقامی حکومتوں کانظام بنانے والے جنرل پرویز مشرف کے معروف حامی تھے۔
مئی2013ء کے انتخابات میں، لیاقت علی بھٹی نے آزاد امیدوار کے طور پر قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتی تھی۔ لیاقت علی بھٹی پی پی پی کی گزشتہ حکومت میں ق لیگ کے کوٹے سے وزیر مملکت تھے۔ دھاندلی کے الزامات کے سبب ان کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا گیا۔ پہلے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے لیاقت علی بھٹی کے بھتیجے شوکت علی بھٹی کو ٹکٹ دیاجو مہدی بھٹی کے بیٹے ہیں اورپرویز الہٰی کی پنجاب حکومت میں وزیر ثقافت رہے ہیں۔ تازہ ترین ضمنی انتخابات میں،مہدی بھٹی کا خاندان انتصار بھٹی کی اہلیہ کے خلاف کے خلاف ن لیگ کے امیدوار سرفراز بھٹی کی حمایت کر رہا تھا۔
یہ پنڈی بھٹیاں کی انتخابی سرکس کاگزشتہ چند عشروں کا قدرے پیچیدہ اور ہلکا پھلکا جائزہ ہے۔لیکن اپنی تفصیلات میں، اسے کم از کم یہ سادہ نکتہ سمجھانے کے قابل ہونا چاہئے کہ ہر وہ سیاسی قوت جس نے نگہت انتصارکی حوصلہ افزائی کرنے میں کردار ادا کیا یاکر سکتی ہے وہ یہ جان لے اب نگہت انتصار ایک ایسی جماعت کے لئے قابل قبول ہیں جو نئی قسم کی سیاست کی دعوے دار ہے اور تبدیلی کی مبلغ ہے۔
پی ٹی آئی کے قائد بعض اوقات اس موضوع پر بھی بات کرتے رہتے ہیں کہ مشکوک ذرائع سے آنے والوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ پارلیمان میں کسی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔تاہم یہ تبصرہ دیگر جماعتوں اور دیگر سیاستدانوں کے لئے ہے۔ پی ٹی آئی اور اپنی ذات پر ان کا ایمان غیرمتزلزل ہے۔انہیں یقین ہے کہ پرانے لوگوں میں سے وہ سب جو پی ٹی آئی کے دروازے سے گزر جاتے ہیں، صاف شفاف ہو جاتے ہیں اور وہاں سے آئندہ کے سفرکے لئے اور قومی فرائض کی ادائیگی کے لئے موزوں ہو جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *