’’ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز‘‘تہمینہ درانی کی نئی کتاب

Tehmina durani

ممتاز مصنفہ تہمینہ درانی نے کہا ہے کہ وہ اب اگلے 15  دنوں میں پاک افغان طورخم سرحد پر امن کا پرچم لہرا کر ایک نئے جہاد کیلئے تیار ہیں۔

یہ علامتی عمل پرامن جہاد کا آغاز ہوگا جہاں پاکستانی عوام افغان بچوں کیلئے پیار، تحفظ اور احساس کا ہاتھ آگے بڑھائیں گے۔

میرا مشن میری چوتھی کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی شروع ہوگا،’ ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز’ نامی اس کتاب میں افغان بچوں کی مشکلات بیان کی گئی ہیں جو 1979 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد سے گزشتہ 34 سال سے مسلسل تکلیف میں ہیں۔

‘ یہ کتاب عالمی رہنماؤں کو جلد ہی یہ سمجھائے گی کہ یہاں ( افغان جنگ میں ) جیتنے کیلئے کچھ نہیں ہے،’ تہمینہ نے امید ظاہر کی۔

ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انہوں نے اپنی بیسٹ سیلر کتاب ‘ ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز’ کا تعارف کرایا جسے فیروزسنز نے شائع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کی رونمائی کے ساتھ ہی وہ ‘ بین الاقوامی شہریوں کا ایک گروپ ‘ تشکیل دینے کی خواہشمند ہیں جس کے ذریعے لوگوں کو اس قابل بنایا جاسکے کہ وہ نہ صرف دہشتگردی کے خطرات کیخلاف تحفظ کو اپنے ہاتھ میں لے سکیں  بلکہ عالمی رہنماؤں سے جنگ سے متاثرہ بچوں کے تحفظ اور فلاح کا مطالبہ بھی کرسکیں۔

‘ مجھے علم ہے کہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے،’ انہوں نے کہا۔

انہوں نے ‘پراُمن جہاد’ کیلئے میڈیا کی جانب سے پذیرائی کا شکریہ ادا کیا۔  ‘ میں دنیا کے تمام شہریوں کو یہ کہنے کیلئے تیار ہوں کہ وہ ایک روپیہ، ایک ریال، ایک پونڈ، ایک فرانک، ایک جرمن مارک یا ایک یورو انٹرنیشنل سٹیزن پول میں شامل کریں اور ہمیں اس لائق بنائیں کہ ہم اپنے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لے سکیں،’ تہمینہ نے پرعزم لہجے میں کہا۔

انہوں نے دنیا کے تمام باشندوں سے کہا کہ وہ افغان جنگ کے ‘ نادیدہ بچوں’ کی زندگیاں بچانے کیلئے ہاتھ ملائیں۔ ‘ جب ہم کھڑے ہوں گے تو لیڈرشپ ہمارے آگے جھکے گی۔۔۔ ہمیں اس کا تجربہ ہے کہ ہم سیاسی حکومتوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں،’ انہوں نے کہا۔

تہمینہ درانی نے کہا کہ 70 فیصد افغان آبادی کی عمر 25 سال سے کم ہے۔ میری نئی کتاب میں جنگ زدہ افغانستان کے بچوں کے احساسات شامل کئے گئے ہیں۔

انہوں نے افغان بچوں اور عورتوں کو موضوعِ تحریر بنانے کی وضاحت کی کہ یہ خطہ سب سے ذیادہ متاثر ہے۔

‘ ہمیں افغانستان میں امن قائم کرنا ہوگا اور دونوں ممالک کی عوام کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا ہوگی۔ ہم ہمیشہ ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرسکتے۔ خود پاکستان اور وزیرستان میں بھی جنگ جاری ہے۔ میرا تعلق صوبہ خیبرپختونخواہ سے ہے اور میں عراق کے مقابلے میں اس پر بہتر انداز میں لکھ سکتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں ملک کے تمام سیاسی حلقوں کی سپورٹ چاہتی ہیں اور ساتھ ہی عالمی سیاسی جماعتوں سے بھی تائید کی خواہاں ہیں ۔ تاہم تہمینہ نے خود کسی سیاسی وابستگی سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

تہمینہ درانی کی سب سے مشہور کتاب ‘ مائی فیوڈل لارڈ’ پاکستان کے سیاسی پس منظر پر لکھی گئی تھی جسے بہت پذیرائی ملی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی سوانح پر بھی ایک کتاب مرتب کی ہے۔ بلاسفیمی اور جہاد ان کی قدرے تازہ اور اہم کتابیں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *