ایس ایم ایس کے ذریعے خواتین کی پولیس تک رسائی

 Pakistan Muharram

خیبر پختونخوا کی خواتین کو اب شکایات درج کروانے کے لیے پولیس اسٹیشن جانے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ انتظامیہ نے یہ سروس اب ایس ایم ایس پر بھی مہیا کردی ہے۔

مصیبت میں پھنسی کسی خاتون کو حکومتی مشینری تک اپنی فریاد پہنچانے کے لیے صرف ایک ایس ایم ایس بھیجنا بھی کافی ہوگا۔ اس سروس کا جلد آغاز کیا جارہا ہے جبکہ اسکے نمبرز کو جلد عام کردیا جائے گا۔

سیکرٹری ہوم ڈپارٹمنٹ اعظم خان کے مطابق اس اقدام کے پیچھے یہ سوچ ہے کہ اگر کوئی شہری اپنی فریاد ریاست تک نہیں پہنچا سکتا تو ریاست کو شہری تک پہنچنا چاہئے۔

انہوں کہا کہ خواتین کی شکایت درج کرواتے ہوئے پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک پریکٹیکل اقدام نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے بعد خواتین کو پولیس اسٹیشن جانے کی پریشانی سے نہیں گزرنا پڑے گا جبکہ پولیس کی ایک ٹیم جن میں خواتین پولیس بھی شامل ہوں گی، جلد ہی متاثرہ مقام پر پہنچ جائے گی۔

پشاور میں خواتین کے لیے صرف ایک ہی پولیس اسٹیشن موجود ہے جبکہ اس اسٹیشن کو ایف آئی آر کاٹنے کا اختیار نہیں۔

افسر کا کہنا ہے کہ خواتین پولیس اسٹیشن تمام شکایات کا ازالہ نہیں کرسکتا اس لیے ایس ایم ایس سنٹرل پولیس آفس کو موصول ہوگا جہاں سے متعلقہ تھانے تک پیغام پہنچادیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین پولیس اسٹیشن کا بھی معاملے میں کردار اہم ہوگا۔ ان کے مطابق خواتین پولیس اسٹیشن شکایت درج کروانے والے سے پولیس رسپانس کے حوالے سے رائے طلب کرے گی۔

خواتین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے پولیس اسٹیشنوں کے اندر بھی خواتین کے لیے مخصوص ایک الگ ڈیسک بھی بنائی گئی ہے جہاں شکایات درج کروائی جاسکیں گی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مردوں کی بالادستی والے ان پولیس اسٹیشنوں میں ایک عام شکایت درج کروانا بھی خواتین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے جہاں ذہنیت اس طرح کی شکایات پر تاخیر کرنے کی بنی ہوئی ہے۔

تاہم صوبائی وزارت داخلہ نے اب کچھ اقدامات اٹھائے ہیں جن سے امید کی جاسکتی ہے کہ صورت حال میں بہتری آئے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *