عبدالستار ایدھی کا ایک نایاب انٹرویو

edhi

1951میں کھارادر کے علاقے میں 8x8کے ایک کمرے سے سماجی خدت کا آغاز کرنے والے نوجوان عبدالستا رایدھی نے اس وقت یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ آگے چل کر سماجی خدمت اور رفاہی کاموں کے حوالے سے نہ صرف اپنا بلکہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرے گا پانچ ہزار روپے کی رقم سے عبدالستا ر ایدھی نے سب سے پہلے فلاح بہبود کا مرکزقائم کیا آج ایدھی فاونڈیشن پاکستا ن ہی نہیں دنیا بھر میں فلاح بہبود اورانسانیت کے خدمت کا سب سے بڑا مرکز بن گیاہے ایدھی فاونڈیشن کے پاکستان میں 300سے زائد سینٹر کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ان کے دفاتر کا م کررہے ہیں جہاں پر بلامعاوضہ دکھی انسانیت کی خدمت کی جاتی ہے اور ان کو تمام تر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں عبدالستا ر ایدھی کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے جب کہ 85 19اور بعدازاں 1989میں ان کی اعلی خدمات کے صلے میں نشان امتیاز سے نوازا گیا اور اب ایک بار پھر 2012میں ان کو نشان امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے پاکستان کو ایک جدید فلاحی ریاست بنانے ، غریب وہ ضرورت مندوں کی مدد ،ملک سے جہالت کے خاتمے اور بنیادی صحت کے مراکز کھولنے کا خواب دیکھنے والے بین الاقوامی سماجی کارکن عبدالستار ایدھی سے ان کی خدمات ،موجودہ حالات ،سیاسی صورت حال اور ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کے حل اور دیگر موضوعات پر بات چیت کی گئی جونذر قارئین ہے۔ عبدالستار ایدھی نے بات چیت کا آغازکرتے ہوئے کہا حالا ت کی خرابی اور تعصب پسندی کی وجہ سے خیرات کے معنی تبدیل ہورہے ہیں بہبود کے نظرئیے کا ان سے تعلق ٹوٹ رہا ہے اور بعض لوگ انسانیت سے نفرت کررہے ہیں ابتداء میں جب انہوں نے سماجی خدمات کا آغاز کیا تو سمندر سے گلی سڑی لاشیں نکالیں جو صرف ایک بار چھونے سے ہی ٹوٹ جایا کرتی تھیں ان نعشوں کو اسپتال پہنچا نا ہی ایک مسئلہ تھا اس دوران لوگوں نے ان پر کئی طرح کے الزام لگائے اور مختلف باتیں بنائی مگر انہوں نے خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے مخصوص کردیا تھا اس لیے انہوں نے کبھی کسی بات کا برا نہیں منایا اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اورآج اللہ نے ان کو جو کام یابی عطا کی ہے اس پر وہ اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے صرف یہ کہتے ہیں اللہ نے ان کو انسانیت کے خدمت کے لیے دنیا میں بھیجا اور ان سے وہ کام لیے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے انہوںنے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑا جہاد اور خدا کی نظر میں سب سے بڑی خدمت ہے انہوں نے کہا کہ پاکستانآج جن مشکلات کا شکار ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ٹیکس چوری اور زکوٰۃ کی چوری ہے اور اہم اگر یہ دونوں کام چھوڑ دیںاور سادگی کو اپنا لیں تو ملک سے نہ صرف غربت کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ہم دنیا کے آگے ہاتھ پھیلا نے سے بھی بچ جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہر بات کا الزام حکومت پر لگا نا ٹھیک نہیں ہمیں اپنے گریبا ن میں بھی جھانکنا چا ہیے اور بحیثیت مسلمان ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا کرنا چاہئے-

ed

انہوں نے موجودہ حالات دہشت گردی ،بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ قتل عام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سب مسائل ختم ہوسکتے ہیں جب ہم خود ٹھیک ہوجائیں گے اور اپنے سے پہلے اپنے ملک کا سوچیں گے انہوںنے کہا کہ وہ سیاست میں نہیں جانا چاہتے مگر ان کو جمہوریت پسند ہے اور اگر جمہوریت کو درست اندا ز سے چلایا جائے تو اس سے بہتر نظا م حکومت دنیا میں نہیں انہوںنے کاکہا ان کو بے نظیر بھٹو کا ویڑن اچھا لگتاتھا ان کی ملک اور جمہوریت کے لیے سوچ بھی اچھی تھی وہ اکثر ان سے اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی سے ملا کرتی تھیں ان کی شہادت کا ان کو بہت افسوس ہے اگرآج وہ زندہ ہوتی تھیں تو شاید ملک میں اتنے مسائل نہ ہوتے انہوںنے کہا کہ ملک کی موجودہ قیادت کا بھی اپنا ویڑن ہے اور اگر وہ پیپلز پارٹی کے منشور کے مطابق کام کریں تو ملک کی تقدیربل سکتی ہے مگر جوہ سوچ بھٹو صاحب کی تھی اسکی بات الگ تھی اور بھٹو صاحب کا اپنا کہنا تھا کہ ان کے پاس نظریاتی ورکرزکی کمی ہے انہوںنے ملک کے موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے کہا کہ اگلے الیکشن میں عمران خان 8سے10سیٹیں جیت پائیں گے جب کہ پیپلز پارٹی ملک کی بڑی جماعت ہے جب کہ ایم کیوایم سمیت دیگر جماعتیں سیاسی نہیں قوم پرست جماعتیں ہیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنا اثر برقرار رکھیں گی، انہوں نے فلاحی کاموں میں حائل مشکلات کے سوال پر کہا کہ ان کو کبھی اس حوالے سے کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں آ ج جب بلوچستان میں جہا ں ہرطرف مشکلات ہیں تو ان کو وہاں بھی کام کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے اور یہ ہی نہیں بلکہ کئی لوگ جو کسی کی بات نہیں مانتے وہ ان کی با ت مانتے ہیں انہوں نے کچھ عرصہ قبل وہاں کے لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ پہلے لوگوں کو لوٹ لیا کریں مگر ان کو قتل نہ کیا کریں جس پر وہاں کے لوگوں نے ان کی بات مان لی تھی اور انہوں نے لوٹ مار کے دوران لوگوں کو قتل کرنا چھوڑ دیا تھا انہوںنے کہا کہ ان کو طالبا ن سے بھی کبھی کوئی خطرہ محسو س نہیں ہوا اور نہ ہی ان لوگوں نے ان کے کے لیے کبھی کوئی مسائل پید اکیے بلکہ وہ توطالبا ن کے گڑھ قند ہار میں اپنا مرکز چلارہے ہیں انہوں نے کہا کہ طالبان کا منشور اچھا ہے۔ سعودی عرب میں بھی کسی زمانے میں بہت لوٹ مار اور امن امان کی صورت حال خراب تھی تو سعودی عرب والوں نے صرف چور ی پر ملزمان کا ہاتھ کاٹنا شروع کردیا تو وہاں سے جرم ختم ہوگیاانہوں نے کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کو فنڈز کی کمی نہیں اور نہ ہی ان کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت پڑتی ہے ان کو پنجاب سے اس وقت سب سے زیادہ فنڈز ملتے ہیں جب کہ دنیا بھر میں موجود پنجابی بھی سب سے زیادہ فنڈز ان کو ہی دیتے ہیں انہوںنے کہا اگر حکومت بھی عوام کے مسائل کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہوجائے تو قوم ان کی دل کھول کر مدد کرے گی اور پھر حکومت کو کسی آگے ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت نہیں پٹرے گی عبدالستار ایدھی نے کہا کہ ان کو دہشت گرد اور ڈاکو بھی صدقہ دیتے ہیں اور اگر کبھی ان کو رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ اپنے پاکستا نی بھائیوں کے آگے ہاتھ پھیلا تے ہیں اور بھیک مشن پر نکل جاتے ہیں انہوں نے کہا خیبر پختون خوا، بلوچستان ،آزاد کشمیر،گلگت،سندھ اور پنجاب ہر جگہ وہ خود دکھی انسانیت کی خدمت کرنے جاتے ہیں اور ان کی زندگی کا صرف ایک ہی مشن ہے کہ وہ دنیا میں جہاں بھی انسانیت کو ان کی ضرورت ہو وہاں پر وہ جاکر ان کی خدمت کرسکیں انہوںنے کہا کہ ان کے بیٹوں ،بیٹی اور پوتے،پوتیاں،نواسے اور نواسیوںنے بھی ان کے ساتھ ایدھی فاونڈیشن میں کام شروع کردیاہے اور وہ اپنے بیٹے فیصل ایدھی کو اپنا جانشین اور اس کے بعد اپنے نواسے احمد کو اپنا جانشین مانتے ہیں-

ii

یہ دونوں دن رات ان کی طرح صرف انسانیت کی خدمت کی سوچ رکھتے ہیں ان سے مجھے بہت امید ہے یہ دونوں وہ کام کر یںگے جو وہ کبھی نہیں کرسکے تھے انہوںنے کہا ایدھی فاونڈیشن دنیا کی پہلی ائیر ایمبولینس سروس شروع کرنے کابھی اعزاز رکھتی ہے اس وقت ان کے پاس دو جہا ز ہیں جب کہ ان کے پا س موجود ہیلی کاپٹر خراب ہے اگر کوئی ان کو ہیلی کاپڑ عطیہ دے تو وہ دوراز علاقوںجہاں پر جہاز نہیں جاسکتے وہاں پر بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنی خدمات سے قیمتی انسانی جانوں کو بچا سکیں گے عبدالستار ایدھی نے نجی زندگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کو بلقیس ایدھی سے اس وقت محبت ہوئی تھی جب وہ ان کے ساتھ فلاحی کام کرتی تھیں اور انہوںنے ان کے ساتھ شادی کر لی اگر وہ خدمت کے شعبے میں اتنا آگے بڑھے ہیں توا س میں ان کی اہلیہ کی سب سے بڑی قربانی ہے اگر وہ میرا ساتھ نہ دیتیں تو وہ کبھی اتنا کام نہیں کرپاتے انہوں نے کہا مجھے اپنی اہلیہ پر فخر ہے انہوںنے کہا اب زیادہ تر کام ان کے بچے دیکھتے ہیں وہ اور بلقیس صرف نگرانی کا کام کرتے ہیں انہوںنے کہا کہ بلقیس کے علاوہ بھی ایک خاتون سے محبت کی اور اس سے بھی شادی کی مگر بدقسمتی سے وہ خاتون مجھے دھوکہ دیکر ایدھی فاونڈیشن کی بہت بڑی رقم لے کر فرار ہوگئی جس کی وجہ سے کئی غریب مریضوں کی جان بھی چلی گئی تھی انہوںنے کہا کہ انہوں تاحال اپنی دوسری اہلیہ کو طلاق نہیں دی اور اان کی دوسری اہلیہ کو ایک مولوی لے کر بھاگا تھااور انہوںنے اپنی اس شادی کو طویل عرصے تک بلقیس ایدھی سے چھپا رکھا تھا اور جب اسکو پتہ چلا تو اس نے کبھی اس پر برا نہیں منایا انہوںنے کہا مردوں کو ہر دس سال بعد دوسری شادی کرلینی چایئے اس سے معاشرے میں بھی اچھے اثرات پڑیں گے اور لوگوں کے معاشی مسائل بھی حل ہوںگے انہوں کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کرے اس کے علاوہ ان کے یا ان کے ادارے کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہت سے اداروں نے ان پر کیچڑ اچھال کر اپنے فلاحی ادارے بنائے ہیں مگر ان کو کسی سے کوئی گلہ نہیں مگر سب جانتے ہیں ان کے ادارے فلاحی ادارے نہیں بلکہ لمیٹڈ ادارے بن چکے ہیں انہوںنے کہا وہآج بھی تخت پر سوتے ہیں اور صبح چار بجے اٹھ کر تلاوت کرنے کے بعد فلاحی کاموں کا آغاز کردیتے ہیں ان کے گھر میں ٹی وی موجود ہے مگر انہوں نے زندگی میں ٹی وی پر کبھی تلاوت کے علاوہ کچھ نہیں سنا اور دیکھا انہوںنے کہا کہ ان کو دنیا میں کہیںبھی کام کرنے میں مشکل نہیں ہوتی اور ان کو تو اسرئیل نے بھی فلسطین میں فلاحی کام کرنے کی اجازت دے دی تھی انہوںنے کہا ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پاکستان کوجدید فلاحی ریاست بنتا دیکھنا ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب ہم ٹیکس اورزکوٰۃ چوری کرنا چھوڑ دیں گے اور حکمرانوں سمیت عوام بھی سادگی اپنائیںگے انہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کرنے والا اللہ کے قریب ہوتا ہے پولیو ورکرز کے قتل پر بھی ان کو کافی دکھ ہواتھا ایسے لوگ انسانیت کے دشمن ہیںانہوںنے کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کے قبرستان میں دولاکھ سے زائد نامعلوم افراد دفن ہیں اور اس قبرستان کوجگہ ختم ہوجانے پر ایک بار اس کی زمین کو ہموار کرکے وہاں پر اب دوبارہ تدفین کا سلسلہ شروع کردیاگیا ہے۔ ایدھی فاونڈیشن انٹرنیشنل عبدالستار ایدھی انٹرنیشنل فاونڈیشن ،،لندن۔۔ یوکے چیریٹیبل شاپس چلاتی ہے عبدالستا ر ایدھی انٹرنیشنل فاونڈیشن نیویارک ،،، دنیا کے کسی بھی ملک میں قدرتی آفات کے دوران امدادی کام سرنجام دیتی ہے ایدھی فاونڈیشن ٹورنٹو ،،، کینیڈا عبدالستارایدھی فاونڈیشن اونٹاریوکینیڈا ایدھی فاونڈیشن ڈھاکا… بنگلہ دیش ایدھی فاونڈیشن ٹوکیو،،جاپان ایدھی فاونڈیشن کینبرا… آسٹریلیا ایدھی فاونڈیشن کٹھمنڈو… نیپال ایدھی فاونڈیشن کابل… افغانستان ایدھی فاونڈیشن قندھار،،،، افغانستان دوسری شادی عبدالستا رایدھی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بلقیس ایدھی سے بھی محبت کی شادی کی تھی جو آ?ج تک برقرا ر ہے اور ایک خاتون جس کانام انھیں یاد نہیں ،دوسری شادی کی تھی اس خاتون سے بھی انہوں نے پہلے محبت کی اور بعدازاں شادی کی مگر یہ خاتون ان کی محبت کو ٹھکرا کر ایک مولوی کے ساتھ بھاگ گئی جس کا انھیںرنج ہے یہ خاتون فرار ہوتے وقت ان کے ادارے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچاکر گئی تھی۔غریب مریضوں کے فنڈز کے پیسے لے جانے کی وجہ سے کئی مریض علاج نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے تھے۔

yy

عبدالستاریدھی کے مطابق انہوں نے مذکورہ خاتون کو تاحال طلاق نہیں دی ہے۔ بلقیس ایدھی کو سینیٹر بننےکی پیش کش مولانا عبدالستا ر ایدھی کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو کی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی اور وہ اکثر بلقیس ایدھی کے ساتھ خواتین کی فلاح بہبود کے منصوبو ں کے حوالے سے بات چیت کیا کرتی تھیں اور انہوںنے خواتین کے لئے کام کرنے کے لیے ایک بار بلقیس ایدھی کو سینیٹر بنے کی بھی پیش کش کی تھی جیسے بلقیس ایدھی نے شکریہ کے ساتھ ٹھکرادیا تھا ۔ شہید بے نظیر بھٹو اور ایدھی ہیلی کاپٹر عبدالستا را یدھی کے مطابق ان کے ادارے کے ہیلی کاپٹر کی وجہ سے ان کے اور بے نظیر بھٹو کے درمیان تعلق کی خبریں اڑائی گئیں انہوںنے بتایا کہ ان کی ملک سے غیر موجودگی کے دوران فاونڈیشن کے پائلٹ نے بے نظیر بھٹو کو انتخابی مہم کے لیے ہیلی کاپٹر دے دیا تھا اور جب میں واپس آیا تو مجھے اس بارے میں پتہ لگا کہ تو میں نے عملے کی بہت سرزنش کی اور بعد ازاں ہیلی کاپٹر کا کرایہ بے نظیر بھٹو کو بھیجا تھا جو انہوں ادا کردیا تھا۔ ناقابل فراموش واقعہ عبدالستا ر ایدھی سے دوران بات چیت جب پوچھا گیا کہ ان کی زندگی کا سب سے ناقابل فراموش واقعہ کون ساہے ؟ توانہوں نے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں میزائلوں کے حملوں ،فائرنگ،بم دھماکوں ،جلاو گھیراو حتی کے خون کے دریا (سانحہ علی گڑھ) میں بھی کام کیا مگر کسی بھی لمحے ان کو ڈر نہیں لگا اور نہ ہی ان کے دل میں کسی قسم کا خوف پیدا ہو ا مگر گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے میں 18مزدوروں کو جس بیدردی سے قتل کیاگیا اس پر وہ انتہائی رنجیدہ ہیں ان افراد کی نعشیں ان کا بیٹا فیصل ایدھی کراچی لے کر پہنچا تھاتووہ ان نعشوں کو ایدھی سرد خانے میں دیکھ کر بے ہوش ہوگئے تھے یہ واقعہ کئی دن تک ان کے حواس پر چھایا رہا۔ فیصل ایدھی جانشین ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدالستا ر ایدھی کے مطابق ان کے بیٹے فیصل ایدھی میں ان کی طرح انسانیت کی خدمت کا جذبہ موجود ہے اگر کوئی مجھ سے کہے کہ میرے بعد کون ایدھی بنے گا میں تو سب سے پہلے فیصل ایدھی کا نام لوں گا اس کے بعد میرا نواسا احمد وہ نوجوان ہے جس سے مجھے بہت امید ہے اسے جب میں کام کرتا دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی جوانی یادآجاتی ہے یہ آگے چل کربڑا نام پیدا کرے گا۔ ایدھی اور بے نظیر کی حکومت کے خلاف سازش دوران انٹرویو عبدالستا ر ایدھی نے انکشاف کیا کہا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے بے نظیر حکومت کے خاتمے کے لیے ان کو ساتھ دینے کا کہا تھا اور پیشکش کی تھی کہ اگر وہ ان کا ساتھ دیں توان کو وزیر اعظم بنا دیا جائے گا ان کے منع کرنے پر کئی لوگوں کی جانب سے انھیں تنگ کرنا شروع کردیا گیا تھا جس پر وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ایدھی قبرستان عبدالستار ایدھی نے بتایا کہ مواچھ گوٹھ میں موجود ایدھی قبرستان میں دولاکھ سے زائد نامعلوم افراد دفن ہیں اور قبرستان میں جگہ ختم ہونے پر قبرستان کو ایک بار ہم وار کرکے اب وہاں دوبارہ تدفین کا سلسلہ شروع کیا گیاہے۔ -

source:dunyanews

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *