ایدھی کی آنکھیں اور جنازے میں عورتوں کی عدم شمولیت!

khalid zaheer
ڈاکٹر خالد ظہیر
جو خواتین فخر پاکستان عبدالستار ایدھی کے جنازے میں شریک ہونا چاہتی تھیں ،انھوں نے سوال پوچھا گیا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے یا نہیں ؟ اس کا دوٹوک جواب تو یہ ہے کہ بالکل اجازت ہے ۔ اور ہر کوئی بسر چشم دیکھ سکتا ہے کہ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں کوئی دن کوئی نماز ایسی نہیں ہوتی جس میں جنازہ نہ پڑھا جا تا ہو اور اس میں اس طرح کو کوئی ہدایت جاری نہیں کی جاتی کہ کہ خواتین اس جنازے میں شریک نہ ہوں ۔ اس لیے یہ بات بالکل واضح ہے کہ عورتوں کا جنازے میں عدم شرکت کا رواج خالصتاً برصغیر کی روایت ہے، اس کا اسلامی شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔
دوسرا سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ ایدھی صاحب کی آنکھیں تو نکال لی گئیں ہیں ، کیا وہ قیامت والے دن آنکھوں کے بغیر اٹھیں گے؟ یہ سوال ایک ایسی مذہبیت سے پیدا ہوا ہے جو شاید یہ یقین رکھتی ہے کہ اللہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ایک مرتبہ اعضاء بنا کر اسے دوبارہ نہیں بنا سکتا ۔ جبکہ جس اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے وہ اپنی کتاب میں متعدد جگہوں پر فرما چکا ہے کہ ہ ہ ان سب کے جسموں سمیت ان کو دوبارہ سے زندہ کھڑا  کردے گا جو مر کر مٹی ہو چکے ہیں اور مر کر مٹی ہونے کا عمل گناہگاروں کے ساتھ ہی خاص نہیں ، ایسے لاتعداد نیک لوگ ہوں گے جو جل کر ، ڈوب کر ، گم ہو کر اور نہ جانے کس کس صورت حال سے دوچار ہو کر فوت ہوئے ہوں گے لیکن اللہ اپنی قدرت سے سب کو نیا جسم و جان دے کر اٹھائے گا ۔ اور ایدھی صاحب کے لیے اللہ کے پاس اس سے کئی درجے بہتر آنکھیں ہوں گی جو ان کو انعام میں دی جائیں ، وہ پروردگا جوایک نیکی کا بدلہ کئی گنا دے گا کیا وہ ایدھی جیسے بے مثل انسان کو ا ن ہی کی خیرات کردہ آنکھیں بھی نہیں دے گا؟ اس لیے ایدھی کے لیے ایسے ’’ فکر مندوں ‘‘ کو تسلی دی جاتی ہے وہ جمع خاطر رکھیں ، اللہ قیامت کے دن اپنے نیک بندوں سے معاملہ ان کے فہم دین سے نہیں اپنی شان رحیمیت و رحمانیت سے دے گا ، اس دن ’مالک یوم دین’ اللہ تعالیٰ‘ ہوگا کوئی مولوی ’زر ولی‘ نہیں ! ( (انگریزی تحریر سے ماخوذ)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *