طالبان کے ہاتھ جدید امریکی میزائلوں تک کس طرح پہنچے؟

kenthکینتھ آر ٹمرمین

اپنی نئی کتاب، ’’تاریک قوتیں: بن غازی کے واقعات کے متعلق سچائی‘‘میں مصنف کینتھ آر ٹمرمین وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح امریکی حکومت کی لیبیا کے باغیوں کو مسلح کرنے کی کوششوں کا الٹ نتیجہ برآمد ہوا، شام میں ہتھیاروں کا سیلاب آگیا اور اسی طرح اب وہ افغانستان میں بھی یہی کچھ کر رہا ہے:
اوباما انتظامیہ نہ صرف طالبان کو ان کے کمانڈر واپس لوٹا رہی ہے بلکہ انہیں ہتھیار بھی دے رہی ہے۔
فوجی ریکارڈ اور ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ 25جولائی 2012ء کو کُنار کے صوبے میں طالبان جنگجوؤں نے کامیابی سے لڑتے ہوئے، امریکی فوج کے ایک ہیلی کاپٹرسی ایچ۔ 47کوایک جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار سٹنگر میزائل سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے سوچا کہ انہوں نے جہاز تباہ کر دیا ہے لیکن راکھ میں تبدیل ہونے کی بجائے چنوک ہیلی کاپٹر صرف تاریکی میں غائب ہو ا تھا کیونکہ امریکی پائلٹ نے ہوائی جہاز کا کنٹرول حاصل کر لیااور شدید کوشش کے بعد اسے زمین پر اتار لیا تھا۔
حملے کی زد میں آنے والے عملے نے کھلے دروازوں سے چھلانگ لگائی اور ممکنہ دھماکے سے پہلے ہی فرار ہو گئے۔اس کے بعد 30سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں، ایک مسلح طالبان اور اس کے ایک ساتھی نے خود کو دھماکے سے اڑا لیاکیونکہ ایک امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر جو ان کے اوپر اڑ رہا تھا، نے ان کی پوزیشن کو مارک کر لیا تھااور فائر کھول دیا تھا۔
اگلے روز، گولہ بارود کو تلف کرنے والی ایک ٹیم تباہ شدہ مواد کو اکٹھا کرنے آئی اور پتہ چلایا کہ ایک میزائل کے نہ پھٹ سکنے والے ٹکٹرے وہاں موجود تھے اور یہ ٹکڑے صرف اور صرف سٹنگر میزائل ہی کے ہو سکتے تھے۔ہوائی جہاز کے دائیں جھولے میں سوار ہو کر انہوں نے سٹنگر میزائل کا ایک ٹکڑا دیکھاجس پر اس کا سیریل نمبر بھی درج تھا۔
تفتیش پر وقت لگا۔ مختلف طالبان اہلکاروں کے بازو مروڑے گئے،ناکیں کاٹی گئیں لیکن جب نتائج آئے تو امریکی ششدر رہ گئے۔ طالبان کی جانب سے چلایا جانے والا سٹنگر میزائل، حال ہی میں سی آئی اے کوجاری کیا گیا تھا۔ ۔۔۔ یعنی یہ روس کے خلاف کئے گئے جہاد کے زمانے کا میزائل نہیں تھا۔
سٹنگر کے متعلق رپورٹس افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی قیادت تک پہنچی اور فوری انتشار کا ایک ذریعہ بن گئی۔۔۔۔ لیکن کوئی ایکشن نہ لیا گیا۔
ہر شخص جانتا تھا کہ جنگ کی ہوا بیٹھتی جا رہی تھی۔ یہ کھل چکا تھا کہ طالبان کے پاس امریکہ کے بنے ہوئے سٹنگر میزائل پہنچ چکے ہیں جس سے اتحادی افواج کامورال گرنے کا خطرہ تھاکیونکہ طالبان کے ہیلی کاپٹر پر حملے میں کوئی اتحادی فوجی کام نہیں آیا تھا اس لئے اس حملے سے عوام کو مطلع نہ کیا گیا۔
امریکہ کی سپیشل آپریشنز کمیونٹی میں موجود میرے ذرائع کو یقین ہے کہ چنوک پر فائر کیا جانے والا سٹنگر، میزائلوں کی اسی لاٹ کا حصہ تھا جو 2011ء کے شروع میں سی آئی اے نے قطرکو دئیے تھے۔ ہیلری کلنٹن کے ماتحت کام کرنے والے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا خیال تھا کہ قطر یہ ہتھیار لیبیا میں قذافی مخالف قوتوں کو دے گا۔
اب اتحادیوں کو یقین ہے کہ2012ء کے شروع میں قطر نے ان میزائلوں میں سے کم از کم 50سے 60میزائل طالبان کو دے دئیے تھے اور ان میں اضافی 200ایس اے24ایل جی ایل اے۔ ایس، نامی زمین سے ہوا میں داغے جانے والے میزائل بھی شامل ہیں۔
اب امید ہے کہ قطر ان پانچ طالبان کمانڈروں کوایک برس تک افغانستان جانے نہیں دے گا اور اپنے پاس رکھے گا، جنہیں امریکہ نے حال ہی میں گوانتانا موبے سے رہا کیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اب ہم قطر پر یہ اعتماد نہیں کر سکتے کہ وہ ہمارے دئیے ہوئے ہتھیار طالبان کو نہیں دے گا تو پھر ہم اس پر یہ اعتبار کس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ ہمارے قیدیوں کو ایک برس تک اپنے یہاں روکے رکھے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *