"فیس آف پاکستان"

 آر کے مرزا
pakistan...
دھماکے تُرکی میں ہوں یا سعُودی عرب کے کسی شہر میں،
حملہ فرانس میں ہو افغانستان میں، امریکا یا برطانیہ میں،
الزام لگتا ہے اک مسلمان پر، اور کڑی جاملتی پاکستان سے
 
بھارت اور بنگلہ دیش کے تو کیا ہی کہنے، وہ تو ہمیشہ سے ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے آئے ہیں،
وہ تو ایشو بنانے کے لیے اپنا بندہ مار کربھی کہتے ہیں کہ یہ مسلم تھا، پاکستانی تھا اور یا پھر دیش دروہی،
 
غرض کہ ہر کوئی پاکستانی اور مسلمان کی مٹی پلید کرنے کے در پر ہے،
 
ایک مثال لیجئیے،سن 2011 میں ناروے میں آندرس بیرنگ بیرویک نے دھماکے اور فائرنگ سے اپنے ہی  77 ہم وطنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عالمی برادری، ناروے حکومت، عوام اور سوشل میڈیا سب ہی اسے مسلمان اور پاکستانی قرار دینے پر تُل گئے، ہرحربہ،ہر طریقہ ہر دلیل استعمال کرلی۔پروہ قابو نہ آیا،چیخ چیخ کرکہتا رہا نہ میں پاکستانی ہوں نا مسلمان، تواُسے پاگل قراردیدیاگیا۔
 
سوچنے کی بات ہے کہ کیوں ہر متنازع کام، بات اور شخصیت پر مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کانام ہی آتا ہے،
نہ صرف الزام آتا ہے بلکہ دنیا کی ہر طاقت اسے سچ کرنے پر مصرنظر آتی ہے،
 
کیا پاکستان اور اسلام اتنا ہی تعفن اور تعصب زدہ ہے؟
اتنا ہی بُرا ہے کہ جب جس کے منہ میں جو آئے کہہ ڈالے
 
اور پاکستان یا اسلام کے ٹھیکے داروں کی طرف سے ایک ہی جواب ملتا ہے
آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، کمیٹی بنا دی ہے، منہ توڑ جواب دیں گے، کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، فوج ہمارے ساتھ ہے، عوام سیسہ پلائی دیوار ہیں،
 
اوریوں کچھ نہ کچھ، کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی گنجائش نکل ہی آتی ہے، کالی بھیڑیں اور درندے ملک میں غدر مچاتے پھرتے ہیں ، کبھی کسی کو قتل کرتے ہیں کبھی کسی کو نشانہ بناتے ہیں کبھی کہیں دھماکا کرتے ہیں کبھی کہیں حملہ کرکے سب پول پٹیاں کھول کر رکھ دیتے ہیں،
 
پاکستان اورمسلمان کا فیس بری طرح سے مسخ ہوجاتاہے۔
 
نجانے ہم کس کی حفاظت کررہے ہیں؟
شاید ملک وقوم پر مسلط زدہ حکمرانوں کی، جولوٹ کھسوٹ کر پیسا باہر رکھتے ہیں، اپنا کاروبار چمکاتے ہیں،
اور جب ملک و عوام کی قسمت چمکانے، حقوق کی بات آتی ہے تو الزام اور لاشوں کی سیاست شروع ہو جاتی ہے،
 
نجانے ہم کیوں گھاس کھا کر گزارہ کررہے ہیں؟
شاید ہم ایٹمی اثاثوں (ایٹم بم) کی حفاظت کررہے ہیں ، جو اُمت مسلمہ اور پاکستان کی حفاظت کے لیے تھے،
شاید ہمارے لیڈر خودداری میں کہہ گئے تھے، گھاس پھوس کھا کر گزارہ کریں گے لیکن پاکستان کی ساکھ پر آنچ نہیں آنے دیں گے
 
کون سی ساکھ، کون سی آنچ، کون سا فیس آف پاکستان؟
 
کوئی آمر کی باقیات ہے تو کوئی جمہوریت کا باقی ماندہ
جو بھی آیا، اگلوں پچھلوں پر گند اچھالتا رہا، اپنی جیبیں گرم کرتا رہا
لیکن پاکستان کی ساکھ، امت کی عزت ،ملت کی وقار، عوام کی خود داری سب کیا ہوئے؟ کیا کسی کو کبھی فکر ہوئی ؟
نہیں جناب،
سیاست میں آج مرے کل دوسرادن نہیں ہوتا،
اقتدار کی مسند تک آنے والے یا اس دوڑ میں شامل دیگر افراد کو ہمیشہ مختلف انداز سے یاد رکھا جاتا ہے،
 
اور وہ جو بُھلائے نہیں بھولتے، ایک کے بعد ایک سانحہ اس قدر شدید ہوتاہے کہ پچھلا کہیں تاریخ کے اوراق میں گُم ہوجاتا ہے، پھر کوئی نام لیوا بھی نہیں ہوتا۔
 
ہنگو کا اعتزاز احسن جس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اسکول کے ساتھیوں کی جان بچائی، پشاور آرمی اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی،ان جیسے کئی لوگ جو ملک وملت کی جان بن گئے۔ اور نجانے کتنے جنھوں نے پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کیا ، اپنی خدمات اور جانیں تک دے دیں۔
ابھی تین دن ہی ہوئے ہیں کہ ہم بھول گئے اس شخص کو جو فخر پاکستان/بابائے خدمت/خادم اعظم/فادر ٹریسیا/دنیائے انسانیت کےخدمت گار تھا،
کون کون سے اعزازت و خطابات سے اُنہیں نہیں نوازا گیا، زندگی میں یا پھر بعد از مرگ۔
 
لیکن ہم سب ہی دنیاکے جھمیلوں میں ہمیشہ کی طرح گم ہوگئے، پھر وہی سیاست پھر وہی معاشرت پھر وہی زندگی اور اس کے دھندے،
کسی نے اس بات پر سوال کیوں نہ اٹھایا کہ ایدھی کی وفات پر صرف بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا بیان ہی کیوں؟
باراک اوباما، بان کی مون ، ڈیوڈ کیمرون، طیب اردون  یا ایکس وائے زیڈ کا بیان کیوں نہیں آیا؟
اگرآیا بھی تو دو دن بعد کیوں؟
عبدالستار ایدھی تو پاکستان کے قومی اثاثہ ، قومی سرمایہ ، قومی ورثہ ، قومی شناخت تھے، جو پاکستان کا مثبت پہلو تھے ان پر عالمی برادری کی اور عالمی میڈیا کی خاموشی کیوں؟
ایدھی صاحب نے اپنی 88سالہ زندگی میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہر ملک کا مشکل کے وقت میں ساتھ دیا، کیا ان کے لیے دو لفظ خراج تحسین کے پیش کرنا اتنا دُشوار تھا؟
سن 86 میں عوامی خدمات  کے اعزاز میں رامون مگسے ایوارڈ،سن 88 میں لینن امن انعام لینے والے پاکستانی شخصیت ایدھی کے لیے عالمی میڈیا کے کچھ لمحے اسکرین کی زینت کیوں نہیں،
سن 92 میں پال ہیریس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاونڈیشن ایوارڈ حاصل کرنے والے کے انتقال پر عالمی میڈیا کا خاص ردعمل سامنے کیوں نہ آیا،
سن دو ہزار میں دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس کا گنیز ورلڈ رکارڈ میں نام درج کرنے والے کا پاکستانی ہونا کیا جُرم ٹھہرا؟
 سن 2000  میں ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات متحدہ عرب امارات کی جانب سے ، اسی سال برائے انسانیت، امن وبھائی چارہ کے لیے بین الاقوامی اطالیہ بلزان اعزاز سے نوازا گیا، 2009 میں یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز 2010 میں احمدیہ مسلم امن اعزاز دیاگیا۔
 
یہ ہے فیس آف پاکستان جس نے بلا تفریق رنگ ونسل، قومیت و مذہب ہر اک کی مدد کی خدمت کی ، جس کانام تاریخ کے سنہری جلی حروف میں لکھا جائے گاجس کا کام رہتی دنیا تک آباد رہے گا، جو مر کے بھی امر ہے ، جس کا ہر عمل صدقہ جاریہ ہے، وہ جاتے جاتے بھی اپنی آنکھوں سے کسی اور کی دنیا روشن کرگئے،
اس مثبت فیس آف پاکستان کا ڈنکا دنیا نے کیوں نہ بجایا؟
کیوں اس مثبت پاکستان کی چرچا نہیں ہوئی؟
سن 2006 میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری پانے والے،کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ 1962 سے 1987 حاصل کرنے والے  1989  میں حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمتگزار برائے بر صغیر کا اعزاز پانے والے، حکومت پاکستان کا ایک اعلیٰ اعزاز نشان امتیاز پانے والے عبدالستار ایدھی کی نماز جنازہ میں وزیراعظم پاکستان کیوں نہ آئے؟ وہ لندن اسپتال سے بیان تو دے سکتے ہیں، سوگ کا اعلان تو کرسکتے ہیں ، خصوصی طیارے کی ذریعے لاہور اور رائے ونڈ پہنچ کر سیاسی مخالفین پر داو پیچ تو کھیل سکتے ہیں۔ کیا اختیار استعمال کرکے دوپل کے لیے خصوصی طیارہ کراچی نہ موڑ سکتے تھے، سوگوارن سے تعزیت نہیں کرسکتے تھے،
سن 89 میں حکومت پاکستان کے محمکہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز، سن 1992 میں پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز، پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے اعزازِ خدمت، پاکستانی انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانسی حقوق اعزاز پانے والے کے لیے عمران خان نہیں پہنچ سکتے تھے، کے پی کے اور بلوچستان کے وزرائے اعلی آخرکون سی ایسی مصروفیات لے بیٹھے تھے، کہ ایدھی صاحب کو آخری سلام پیش کرنے بھی نہیں آئے ،
یہ وہی ایدھی صاحب تھے، جنھوں نے ریاست کی کئی ذمہ داریاں بحیثییت ایک عام شہری نبھائی، ملک کے کسی کونے سے بھی مدد کو پکارا گیا، ایدھی صاحب نے لبیک کہا، ان کی وفات پر صرف سیاسی بیان بازی کافی تھی ؟
 
پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ پانے والے ایدھی کو پاک فوج کے سفرآخرت پر بھی یاد رکھا، اور پورے سرکاری و قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیا، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، پولیس، سیکورتی فورسز، رینجزر سب نے حق ادا کیا،
 
ملک میں اس قدر ہلچل پر بھی عالمی میڈیا نے کوریج ویسی کیوں نہ دی؟
ادھر پوراپاکستان ایدھی صاھب کے جنازے پر مصروف تھا، ادھر بین الاقوامی میڈیا میں کوئی جھلک ہی نہیں،
بال ٹھاکرے، جگجیت سنگھ، نیسلن منڈیلا، ڈیانا، مائیکل جیکسن کی آخری رسومات ہوں، برطانوی شہزادے کے شادی ہو یا بچے وہ لائیو کوریج کے حقدار ہیں۔ اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمارے ایدھی صاحب کچھ نہیں ؟
 
اپنی زندگی غریب ، مسکین، بے آسرا، لاچار، لاوارث اور مشکل میں پھنسے لوگوں اور عام شہریوں کے نام کرنے والے ایدھی کے سفر آخرت پر ہرآنکھ اشکبار تھی، سن 2005 میں عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز پانے والے ایدھی کے جنازے میں شوبز اور سماجی شخصیات کو جس درجہ نظر آنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں ؟
کیا صرف میڈیا پر آکر بیان بازی کرنا اور تعزیت کرلینا کافی تھا؟
 
کیا کوئی انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر نہیں بناسکتا تھا؟
کیا زیادہ سے زیادہ لوگ سفر اخرت میں شرکت کرکے ورلڈ رکارڈ نہیں بنا سکتے تھے؟
 
آخر میں صرف اتنا ہی  ایدھی صاحب  کے کام کو زندہ رکھیں، عوام و خواص کی مدد کریں، خدمت کریں، کوئی ایوارڈ، کوئی اعزاز، کوئی انعام ایدھی صاحب کی خدمات کا نعم البدل نہیں ہوسکتا، نوبل کی خواہش کرنے کی بجائے پاکستان میں 8 جولائی کو ایدھی ڈے منانے کا اعلان کیا جائے، ایدھی صاحب کے نام سے ایسا ایوارڈ یا اعزاز شروع کیاجائے جس میں سماجی بہبود، انسانیت، امن وبھائی چارہ کا پرچار کرنے والوں کو ایدھی ایوارڈ سے نوازا جائے،ان کی خدمات کو سراہا جائے،
پاکستان کی ساکھ کو امیج کو بہتر بنایا جائے ، ایدھی صاحب نے ایک بنیاد رکھی ہے اس پر اچھائی کی عمارت تعمیر کی جائے، "فیس آف پاکستان" بہت خوبصورت ہے اسے اجاگرکیاجائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *