نصیب اور کوشش

1 LOGO 1ڈاکٹر اظہر وحید

اِنسانی شعور کا قافلہ تاریخ کی بے نام وادیوں سے نکلتا ہوا جب سے بیانیہ تاریخ کی روشنی میں داخل ہوا‘ اِسے جبر اور قدرکے اشکال paradox سے بدستور واسطہ رہا ۔آدم تا ایں دم‘ کوشش اور نصیب کا معمہ محبوب کی زلف کی طرح اُلجھا ہی رہا ۔ ہرصاحبِ فکر و عمل غورکرتارہا کہ کوشش کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور نصیب کی سرحد کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ جبر اور قدر‘ دریا کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔۔۔ اس لئے باہم ملتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر کوشش کے ساحل پر لنگر انداز ہواجائے تو تقدیر کا کنارا نظرسے اوجھل ہو جاتا ہے ، اگر تقدیر کے کنارے پر کھڑے ہو کرانسانی سعی کا منظر دیکھاجائے تو کوشش سے کنارہ کش ہو نے کو جی چاہتا ہے۔ دلیل کی یہی خوبی ‘ اس کی خامی وتحدید بھی ہے کہ مثبت اور منفی کو ایک دوسرے کی نفی کیلئے استعمال کرتی ہے۔۔۔جبکہ دریائے معنی مثبت اور منفی کے ساحلوں کے درمیان بہہ رہاہے۔ جن کے دامن درِّ معانی سے بھرے پائے گئے‘ انہوں نے دلیل کے غرے میں آکر مثبت پر غرور نہیں کیا اور منفی کی تحقیر نہیں کی ۔۔۔وہ مثبت میں منفی اور منفی میں مثبت کا مشاہدہ کرتے رہے۔ اگر ہمہ جہت panoramic نظرمیسرہو‘ تو مثبت اور منفی محض ایک دوسر ے کی پہچان کے پیرائے ہیں۔
کوشش اور نصیب کا آپس میں تقابل نہیں ۔تقابل کیلئے دونوں حقیقتوں کا ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ جس طرح زمین پر دوڑنے والی گاڑیوں اور آسمان کی وسعتوں کو چیرتے ہوئے جہاز وں کا باہم موازنہ غیر حقیقی ہے ‘ اسی طرح کوشش اور نصیب کو ایک ہی میزان میں تولنا ایک غیر متوازن طرزِ فکر ہے ۔ کوشش زمینی حقیقت ہے اور نصیب ایک آسمانی کلیہ۔ تقدیر ایک نقشۂ تخلیق ہے۔ تقدیر قبل اَز تخلیق حقیقت ہے اور کوشش‘ بعد اَز تخلیق عمل ہے۔تخلیق کے باب میں تقدیرکاانکار کرنا ایسے ہے‘ جیسے خالق کا انکار کرنا۔ ایک عام سی عمارت کی تعمیر مقصود ہو‘تو پہلے نقشہ بنتا ہے‘ تخمینہ بنتا ہے اور آغاز سے انجام تک تمام مراحل کی لکھت پڑھت ہوتی ہے۔ انسان جو مقصودِ تخلیق ہے ‘ اِس کی زندگی کی عظیم الشان عمارت۔۔۔ بغیر کسی نقشے کے۔۔۔؟
آزاد خیال اور آزاد منش انسان نصیب کے تصور سے گھٹن محسوس کرتا ہے۔محدود انسان لامحدود آرزوئیں پال لیتا ہے اور اِن کی تکمیل کیلئے پھرلا محدودوقت بھی مانگتا ہے۔ اِنسان محدود ہے ‘اِس کیلئے میدان عمل اور مہلتِ عمل دونوں محدود ہوں گے۔ کلیۂ تخلیق یہ ہے کہ ہر آغاز اپنے انجام سے دوچار ہوگا۔ جس نے اس دنیا میں پہلا سانس لیا ‘ اسے آخری سانس بھی لینا ہے۔ہر آغاز اپنے انجام میں رہن ہے ۔ تسبیحِ حیات میں آغاز اور انجام کی گرہ پہلے سے موجود ہے۔ دراصل اِنسان نصیب کے تصور سے اِس لئے بھی فرار چاہتا ہے کہ وہ من مانی کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ نصیب کو مان لے تو نصیب بنانے والے کو بھی ماننا پڑتا ہے۔ اگر نصیب بنانے والے کو مان لے ‘ تواُس کی منشا ء و مشیت کے آگے سپر ڈالے بغیر بنتی نہیں!!نصیب کا تصور مذہب دیتا ہے اور مذہب سے دوری انسان کو نصیب کے تصور سے دور کر رہی ہے۔
نصیب کا تصور انسانی شعور کیلئے ایک نعمت ہے ۔ نصیب کے تصور کے جاگزیں ہوتے ہی شعور سبب اور نتیجے کی میکانکی گراریوں کی گڑگڑاہٹ سے نجات پا لیتا ہے۔ زندگی کا میکانکیات سے نکل کر جمالیات میں داخل ہونا ایک عظیم نعمت ہے۔ نعمت کی پہچان نہ ہو اور منعم کا عرفان نہ ہو‘ توانسان جائے شکر کوجائے شکوہ بنا لیتا ہے۔
نصیب کوشش کی نفی نہیں ۔۔۔بلکہ کوشش کی حدود و قیودکاایک تعین ہے۔نصیب کوشش کی حد اور قد پر قدغن لگاتاہے۔۔۔ کوشش کے دائرۂ کار کو متعین کرتاہے۔ نصیب پر یقین کا مطلب بے عملی ہر گز نہیں‘ بلکہ نصیب پر یقین انسان کی کوششوں کو بے سمت ،بے سود اور بے معنی دائروں میں گرنے سے بچاتا ہے۔ نصیب کے دائرے کی پہچان اُس وقت تک ممکن نہیں ‘جب تک خالق کی منشا کی پہچان میسر نہ ہو۔ اگر اِنسان اپنے خالق کی منشا ء کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو نصیب اُس کا معاون ہے، اگروہ خود سری پر اُترتا ہے تونصیب ہر قدم پر اس کا مخالف ہے۔ نصیب پر یقین کرنے والا اپنی سعی میں پُراعتماد نظر آئے گا کیونکہ وہ مقابلے اور موازنے کی فضا سے نجات پا چکا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا مقابلہ کسی سے نہیں ، اُس کے حصے کی نعمت اُسی کے انتظار میں ہے۔ اُس کی کوشش باوقار ہوتی ہے اور عمل بامعنی ! اُس کا عمل اُس کے فکر کی معاونت کرتا ہے اور اُس کا فکر اُس کے عمل کو بامقصدبناتا ہے۔ نصیب پر یقین کسی کو خوش نصیب بنا دینے کیلئے کافی ہے۔
نصیب جامد و ساکت نہیں ‘بلکہ اِنسان کی نیت ، دعا اور عمل کے ساتھ دو طرفہ مربوط interactive ہے ۔جو شخص خدا پر یقین رکھتا ہے‘ وہ دعا پر یقین رکھتا ہے۔۔۔ اور جو دعا پر یقین رکھتا ہے ‘ اس کیلئے نصیب ناقابلِ تبدیل نصاب نہیں ۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:’’دعا نصیب ساز ہوتی ہے‘‘۔گویااپنے نصیب کے کسی حسین باب تک پہنچنے کیلئے دعاکی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ کسی کی دعا اپنے لئے اور اپنی دعا کسی کیلئے۔ تقدیر جس لوحِ محفوظ پر لکھی جاتی ہے ‘ وہ کسی دل کا کوئی وَرق ہی تو ہوتا ہے۔ دعا ہونٹوں سے پہلے دل سے نکلتی ہے اورتقدیر سے پہلے دِل کو بدلتی ہے۔پس جس نے دعا کا سہارا پکڑ لیا اُس نے گویا نصیب ساز ذات کا دامنِ محبت پکڑ لیا۔ نصیب اگر نصیب لکھنے والے کا فیصلہ ہے تو وہ اپنے فیصلے بدلنے پر قادر بھی ہے۔ دعا کرنے کے بعدہمیں انتظار کے آسن بیٹھنا ہوتا ہے۔۔۔ اور انتظار ایک محنت طلب کام ہے۔۔۔ اس میں اَن دیکھی کوشش درکار ہے۔دعا کی تاثیرموصول کرنے کیلئے ہمیں اپنے ظاہراور باطن کوہمرنگِ دعا کرنا ہوتا ہے ۔۔۔وگرنہ ایسا بھی ممکن ہے کہ دعا کی تاثیر ہمارے ماحول کو اجنبی دیکھ کرٹھٹھک جائے اور دستک دیئے بغیر لوٹ جائے۔ظاہر و باطن کی یہ تبدیلی کوشش بلکہ اشد کوشش سے ممکن پذیر ہوتی ہے۔ دعا بھی ایک کوشش ہے اور پُرخلوص کوشش بھی زبانِ حال سے کی جانے والی ایک دعا ہے۔ کوشش دراصل اپنے اِخلاص کو ظاہر کر نے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ کوشش قبول نہیں ہوتی ‘ بلکہ اُس کے پسِ پشت اِخلاص قبول ہوجاتا ہے۔ اِخلاص میں من و تو کی تخصیص ختم ہوجاتی ہے۔۔۔اور’’ تو من شدی ‘ من تو شدم‘‘ کے عالم میں انسان اپنی تقدیر خود رقم کرلیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *