آزادیِ پاکستان

محمد جواد خان

jawad khan

تاریخ کے تلخ اوراق جوخون کے آنسوؤں سے لکھے گئے ان کو اگر پلٹ کر دیکھا جائے تو انسا ن انتہائی رنجش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ان ہی اوراق میں لفظِ آزادی موجود ہے جس کوپاکستان میں آج صرف محض ایک لفظ سمجھا جارہا ہے حالانکہ آزدی ۔۔۔ صرف الفاظ تک محدود رہنے والی چیز کانام نہیں اور نہ ہی ایسا لقمہ کہ جو تیار کرکے ہمارے سامنے رکھ دیاجائے بلکہ اس کی بنیادیں قربانیوں سے بنائی جاتی ہیں، کہیں اعضاءِ انسانی سے مصالہ اور کہیں خون و آنسوؤں سے ان بنیادوں کو تر کیا جاتا ہے تو تب جا کر آزادی ملتی ہے ۔آزادی کی قدر جاننی ہے تو جا کر کشمیر میں دیکھو کہ کیسے وہ ہر روز اپنوں کے لاشوں کو اُٹھاتے ہیں۔۔۔ جا کر شام میں بچوں کے بے گور و کفن لاشوں کو دیکھو۔۔۔جا کر فلسطین میں سر کٹی لاشوں کی طرف نظر ڈالو تو آزادی کی قدر و قیمت کا احساس ہو گا۔ سب کسی کو چھوڑو۔۔۔ آئیے۔۔۔!!! میں آپ کو پاکستا ن کی آزادی کی روداد سناتا ہوں جو ہمارے ایک صاحب نے ہم کو سنائی تھی جنہوں نے 10 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے30افراد کے ساتھ بھارت سے پاکستان ہجرت کی مگر پاکستان میں پہنچے صرف 3 بندے)۔۔۔ان کو راستے میں کن کن مصائب کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کی زبانی سنتے ہیں۔ "یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بھارت کے شہر گجرات کے ایک گاؤں میں رہتے تھے چونکہ ہمارے آباؤ اجداد زمین دار تھے اور گاؤں کے سر پنچ(نمبردار) بھی،ہر وقت مہمانوں کا رش جن میں ، مسلم و غیر مسلم اپنے مسائل لے کر آتے تھے اور اکثریت اُن میں مسلمانوں کی ہوتی تھی جن پر ہندوؤں و سکھوں نے ناجائز ظلم کیا ہوتا تھا ۔ ہمارے آباؤ اجداد فیصلہ تو کر دیتے تھے مگر ہر وقت اس رنج و الم میں مبتلا رہتے کہ کب مسلمانوں کو ان مصائب سے نجات ملے گئی۔ خیر اللہ اللہ کرتے پاک و ہند کی تقسیم کے بعد ایک حصہ جس کا نام پاکستان ہے مسلمانوں کے لیے منتخب کر دیا گیا۔۔۔ یہ اعلان و تقسیم کے بعد ہر مسلمان نے سکھ کا سانس لیاکہ اب ہمارا اپنا ایک ملک ہو گا جس میں ہم دینِ اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں سکون سے گزاریں گئے۔ گو کہ ہندوستان میں ہم خوشحال زندگی بسر کر رہے گے، اچھا گھر، اچھی شہرت اور اچھی آمدن مگر ہمارے والدین نے اپنا سب سکھ اورآسائشیں آزادی کے نام پر قربان کر کے سفر ہجرت باندھنا اور پورے خاندان (30افراد، جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں)کو اپنے ہمراہ لیا اور پاک سر زمین (پاکستان) کی پاک زمین پر قدم رکھنے کا عظم کر لیا۔ گھر چھوڑنے کا درد کیا ہوتا ہے یہ کوئی ہم سے پوچھے۔۔۔ کوئی ہم سے پوچھے کہ ہم نے اپنے بچپن کی یادیں کیسے بھول جانے کا عزم کر لیا۔۔۔ ہم سے پو چھو کہ کس طرح قربانیاں دی جاتی ہیں۔۔۔ "
یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اُن کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی نکلتے ہوئے ان کے داڑھی مبارک کو تر کرتی ہوئی ان کے دامن میں جاگری۔۔۔سسکیاں اس قدر تھیں کہ فضاسوگوار ہو گئی۔ ہر کوئی ان کے غم میں برابر کا شریک بن گیا ۔۔۔ہم سمجھے کہ کہانی ختم مگر انھوں نے بعد کے جو واقعات بیان کیے وہ انسان سننا بھی چاہے تو نہیں سن پاتا۔۔۔ لکھنا چاہے تو لکھ نہیں پاتا کیونکہ وہ واقعات اس قدر دل آویز تھے کہ انسان خون کے آنسو روتا ہے۔
" پڑوسیوں اور باقی رہ جانے والے دوستوں نے حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہمارے ساتھ چلنے اور سٹیشن تک ہم کو چھوڑنے تو نہ آسکے بلکہ گاؤں سے ہی ہم کو الوداع کیا، راستے میں ملنے والے دوستوں نے بتایا کہ سٹیشن نہ جاؤ حالات خراب ہیں۔۔۔ مگر ہم سمجھے کہ یہ سب افواہیں ہیں، مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے جب ہم سٹیشن پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ ہر طرف خون کی ہولی تھی، کہیں بازو ں کٹے ہوئے ، کہیں پاؤں ٹانگوں سے جدا پڑے ہوئے اور کہیں بنا سر کے بکھرے ہوئے لاشے، کہیں پر عزت و عظمت کو پامال کیا گیا تو کہیں سر عام انسانیت کو روندا گیا، کہیں خون سے لت لاشے اور کہیں بے گور و کفن جنازے، کہیں یتیم و بے سہارا مخلوق ، اور کہیں شفاف فلک کے سائے میں پلتے بچے، کہیں عورتوں کی عظمتیں اور کہیں بچوں کا بھوک و پیاس سے تڑپنا، کہیں چوروں کی عیاشیاں اور کہیں مظلوموں کی سسکیاں ، کہیں اپنوں کی تلاش میں تڑپتے انسان اور کہیں اپنوں کی زندگی کے تمنائی، کہیں زندگی کی امید اور کہیں زندگی اپنی امیدوں کو توڑتے ہوئے، کہیں جوانوں کا جوش اور کہیں ان کے لاشے، عرضیکہ ہر طرف موت ہی موت تھی ۔۔۔ بچ جانے والوں کے مال و جان دونوں کا خطرہ تھاوہ لمحات آج بھی کبھی کبھار آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں تو ہوش اُڑ جاتے ہیں۔ ۔۔ادھر جا کر ہم انتہائی تشویش میں مبتلا ہو گے کہ یہاں یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟؟؟ رات کا وقت تھا جب ہم سٹیشن پر پہنچے تھے تو ہمارے دادا جان نے رات سٹیشن پر روکنے کا فیصلہ کیا، ہم نے سٹیشن سے سائیڈ پر ایک خیمہ لگا یا اور عورتوں اور بچوں کو اس میں سلا دیا، اور بڑوں نے پہرہ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اچانک شور کی آواز آئی ۔۔۔خیمہ کے اوپر خون کے چھینٹے پڑے ، دو چچوں کے لاشے خیمے کے دروازے کے سامنے آپڑے ۔۔۔والد صاحب نے مقابلہ کیا مگر اُن کو بھی انھوں نے مار دیا، دادا جان جو کہ کافی عمر رسیدہ بھی تھے ان کو تلوار کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا گیا ، باقی افراد باہر ہی کھڑے تھے ان میں سے دو اُونچے لمبے سانڈ قسم کے شخص خیمے کے اندر داخل ہوئے تو ہمارا ساز و سامان لوٹنے لگے عورتوں نے مزاحمت کی کوشش کی تو اُنھوں نے مزید ساتھیوں کو اندر بلا لیا اور ہماری عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ۔۔۔ میں عمر میں چھوٹا تھا مگر تیز تھا، اُٹھا ان کو روکنے کے لیے مگر ایک نے رائفل کا بلٹ مارا تو باقیوں نے جیسے بارش کر دی ہو ۔۔۔ میں وہ دور جا گرِ اجب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سب کچھ جل کر خاک ہو چکا تھا،میرے دو بہن بھائی جو مجھ سے بھی چھوٹے تھے وہ خیمے کے پاس بیٹھے رو رہے تھے۔۔۔ نہ کوئی رشتہ دار رہا نہ کوئی مدد گار" پھر صبح جب ٹرین کے آنے کا ٹائم ہوا تو میں ٹوٹے ہوئے پاؤں کو گھسیٹتے ہوئے اور ایک ہاتھ سے اپنے دو بہن بھائیوں کو لگا کر ٹرین کی ایک بوکی میں سوار ہوئے اور سیٹ کے نیچے چھپ گے۔۔۔ پھر ہر سٹیشن پر حملہ ، ہر مقام پر قتل و غارت کا بازار گرم ، مگر بے یار و مددگار ہم پاکستان پہنچ گئے ۔۔۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *