عاشقان ادب زندہ ہیں!

Seemi Kiran

جب ہر طرف اس خبر کی منادی ہو کہ ادب مر رہا ہے اور ادیب کی موت واقع ہو چکی ۔ بقول تنقید نگار تو اردو ادب اور ادیب اک مردہ سمندر ہیں جو آگے بڑھنے ، بہنے اور سفر کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ ناقد شاید اس بات سے بے بہرہ ہے کہ اِس جامد ٹھہرے پانی میں بہت سے تلاطم چھپے ہیں اور بے شمار گوہر نایاب!

خیر یہ تو اِک جملہ معترضہ تھا مگر ج پاکستان کے حالات پہ نظر ڈالئیے تو دل خوف کے سمندر میں اک ڈبکی ضرور لگاتا ہے، ہمارا معاشرہ جس نہج پہ بہہ رہا ہے، جیسی متشدد اور عدم رواداری کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے اِس سوچ کو بلا کسی جھجک کے ادب و فن کا دشمن رویہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم نے سوچا کہ پاکستان اِک کٹڑ طالبان ریاست بنائے کے جانے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں اک واحد سوچ ہی پروان چڑھے گی اور ہر وہ آواز بند کر دی جائے گی ہر سوچ کو پابند سلاسل کر دیا جائے گا بلکہ سوچنے والے سر کی گردن ہی اڑا دی جائے گی! ادب اور فن کو دیس نکالا مل جائے گا!

امجد صابری جیسے فنکاروں کی آوازوں کو سیسہ پلا دیا جائے گا اپنے ہی خون میں نہلا کر کفن اوڑھا دیے جائیں گے ۔۔۔ پھر کیا ہوگا؟؟ ادب اور فن مر جائیں گے کیا؟ اس کے اثرات میری آنے والی نسل پہ کیا ہوں گے یہ قصہ پھر سہی!

ان مایوس اور پر ہول حالات میں ادبی جرائد گھپ اندھیرے میں اک روشنی ہی تو ہیں۔ سناٹے کو چیرتی ہوئی آواز! اس بات کا بین ثبوت کہ عاشقان ادب ابھی زندہ ہیں وہ خسارے کا سودا کرکے عشق مول لینا جانتے ہیں! پھر یہ ادبی جرائد پاکستان سے ہوں یا ہندوستان سے ۔۔۔۔۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب اور فنون لطیفہ لاوارث نہیں ہیں ! ہیں کچھ دیوانے جو اپنے لہو سے چراغ جلانے کا ہنر جانتے ہیں!

حکومت پاکستان کی ہو یا ہندوستان کی ، اردو ادب کے ساتھ سلوک دونوں طرف یکساں ہے! ان حالات میں یہ ادبی جرائد دم غنیمت ہیں، اردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں! آج زیر بحث تینوں جرائد سرحد پار بھارت سے موصول ہوئے ہیں!

بہار اکادمی انڈیا سے' زبان و ادب' محترم مشتاق احمد نوری کی ادارت میں نکلتا ہے، وہ خود بھی ایک قابل صد احترام قلم کار ہیں۔ 'زبان و ادب 'اک ماہانہ مجلہ ہے۔ زیر بحث مجلہ مارچ 2016 کا ہے۔ حرف آغاز سے مشتاق احمد نوری قلم کار اور ساہینہ کار سے مخاطب ہو کر اک واضح پیغام سے رہے ہیں جس میں لکھاری کو اپنے کردار کو پہچاننے کی اہمیت بہت واضح ہے!

مقالات کے عنوان میں اہم جاندار مضمون ہیں۔ طبقاتی رشتوں کا نیا انداز بیانیہ ۔ پروفیسر افصح ظفر، ایوانوں کے خوابیدہ چراغ پہلی نظر میں ۔۔۔۔۔ پروفیسر حسین الحق، بہار میں اردو افسانہ نگاری۔ رئیس انوار، منٹو کی جنسی معنویت، ڈاکٹر ارشد اقبال اور اراقم الحروف کا مضمون مشرف عالم ذوقی صاحب کے ناول آتش رفتہ کا سراغ ' شامل اشاعت ہے! افسانوں میں نور الہدی سید، م ناگ، منزہ احتشام گوندل، کون سی الجھن کو سلجھاتا تھا وہ ۔۔۔۔۔ قابل ذکر ہیں'!

شاعری کا حصہ بھی جاندار ہے ! کتابوں کی دنیا میں مختلف کتب پہ تبصرہ پیش کیا گیا ہے! ہماری سرگرمیوں کے عنوان کے تحت اکادمی کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے! دوسرا جریدہ جو انڈیا جے پور سے موصول ہوا وہ کتابی سلسلہ 'استفسار' ہے جو محترم عادل رضا منصوری کی ادارت میں نکلتا ہے!

'استفسار' کتابی سلسلہ 8-9 دراصل ہم سے بچھڑ جانے والے ادباء عابد سہیل، انتظار حسین، ندا فاضلی اور زبیر رضوی کے نام ہے۔ اداریہ میں محض یہ نام دے کر انا للہ و انا الیہ راجعون کہہ کر بات ختم کر دی گئی ہے۔ مرحوم انتظار حسین کا افسانہ 'نیند' اور سادت سعید کا تنا سخی شعور اور مبرانی فکر کے امتزاجی ورتارے۔ انتظار حسین کے کایا کلپی اظہار ہے قابل ذکر ہے! ندا فاضلی پر اہم مضامین پیش کیے گئے ہیں اور ان کی نظمیں غزلیں پیش کی گئی ہیں۔ ادارہ کی ہی جانب سے زبیر رضوی کی نظمیں ، غزلیں پیش کی گئیں ہیں! فیاض رفعت کا مضمون " عجب آزاد مرد تھا۔۔ اردو افسانے کا پگلیئن عابد سہیل ۔۔۔۔۔ قابل ذکر ہے! عابد سہیل کا افسانہ غلام گردش اک ایسا افسانہ ہے جو بھر پور تبصرے کا متقاضی ہے بلا شبہ اک شاہکار افسانہ ہے! مگر جو ہم افسانوی گوشہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں حصہ شاعری زیادہ جاندار نظر آتا ہے!

سہ ماہی 'درھنبگہ ٹائمز' محترل منصور خوشتر کی ادارت میں نکتا ہے۔ درھنبگہ ٹائمز کا ناول نمبر بلاشبہ اک ایسا شاہکار تھا جس کی گونج انڈو پاک میں دور دور تک سنی گئی اور ادبی حلقوں نے اسے بڑی توجہ و سنجیدگی سے دیکھا جس میں یقیناً منصور خوشتر صاحب کی ادارتی صلاحیتوں اور ادب سے سنجیدگی و خلوص کا بڑا عمل دخل ہے ! درھنبگہ ٹائمز کو وہ بہت جلد انڈیا کے صف اول کے جرائد میں لے آئے ہیں! افسانہ نمبر کے بعد اک کامیاب ناول نمبر پہ وہ یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں !

عصر حاضر کے ناولز اور اس منظر نامے پہ محترم عبدالصمد، مشرف عالم ذوقی ، پیغام آفاقی، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، جمال اویسی، حقانی القاسمی، شہاب ظفر اعظمی اور رحمن عباس کے مضامین جاندار اور قابل ذکر ہیں! الماس فاطمہ اور ڈاکٹر عشرت ناہید نے بھی عمدہ مضامین پیش کیے! پاکستان کے ناول نگاروں میں ڈاکٹر پرویز شہریار کا مضمون عباس خان کی ناول نگاری عباس خان کے ہی ناول' زخم گواہ ہیں' پہ ڈاکٹر نجیر احمد آزاد کا مضمون بھی شامل ہے۔ 'گمشدہ زمینوں کی لکھاوٹ' یاسمین راشدی کا اک جاندار مضمون ہے "بہاؤ"پہ ! مگر مستنصر حسین تارڑ اردو ادب کی ناول نگاری میں وہ نام ہیں جو اس بات کے متقاضی تھے کہ ان کے دیگر ناولز راکھ، خس و خاشاک زمانے، اے غزال شب، قربت مرگ میں محبت پہ بات کی جاتی! یہ ناولز اردو ادب کے بڑے ناولز ہیں! اسی طرح مرزا اطہر بیگ ، حمید شاہد اور رضیہ صفیح احمد کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ معروف پاکستانی ناول نگاروں کے بغیر ناول نمبر کچھ ادھورا محسوس ہو ا!

زیر طبع ناولوں کے ابواب میں محترم حسین الحق، شوکت حیات، صغیر رحمانی، ابرار مضیب اور سلمان عبدالصمد کے زیر طبع ناولز کے ابواب پیش کیے گئے ہیں! مشاہیر تخلیق کاروں سے انٹرویوز می ڈاکٹر منصور خوشتر ناول پہ اک عمدہ بحث و مکالمہ کے فروغ میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ جہاں مختلف ناول نگاروں کا زاویہ نگاہ ہی نہیں ملتا بلکہ مفید بحث کے امکانات بھی نظر آتے ہیں! جن تخلیق کاروں کو انٹرویو میں شامل کیا گیا ان کے نام یہ ہیں، شموئل احمد، عبدالصمد، غضنفر، احمد سہیل، مشتاق احمد نوری، مشرف عالم ذوقی، سرور غزالی ، پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوہ، نعیم بیگ، ڈاکٹر جمال اویسی ، ، عطا عابدی، ڈاکٹر ابو بکر عباد، ڈاکٹر سید احمد قادری، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، نسترن احسن فتیجی، فیاض احمد وجہیہ-

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی خورشید حیات کے قلم سے اک انٹرویو بھی شامل اشاعت ہے۔ خورشید حیات نے یہ انٹرویو اقبال مسعود سے اردو ناول پہ اک مکالمہ کے ضمن میں لیا ہے ! تو کیا یہ خوبصورت ادبی جرائد، یہ فن پارے اس بات کا ثبوت نہیں کہ ادب اور ادب نواز ابھی زندہ ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *