ایک بھکاری کی رخصتی اور استقبال

مہک ایس شیخ

ee

رخصتی ۔۔۔۔!وہ منظر میری آنکھوں میں منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔
اُس بھکاری کی چارپائی ابھی ایک قدم رینگی ہو گی کہ چیف آف دی آرمی سٹاف نے اُس جاتے ہوئے بھکاری کو تن کر سیلوٹ کیا اور اپنے پاؤں زمین پر مارا۔یہ وہ جنرل ہے،جو دنیا موجود میں ایک چنا ہوا طاقتور ترین انسان ہے۔اُس کی اطاعت میں نیول چیف اور ائیر چیف نے بھی اپنے سپاہیوں کے ساتھ اُس کے جنازے کو سیلوٹ کیا۔بھکاری کی میت کو ملک کے پرچم میں لپیٹا ہوا ہے۔پھر اُس کا جنازہ فوجی توپ گاڑی پر رکھ دیا گیا ۔فوجی دستوں نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں اور عزت واحترام کے ساتھ سبک رفتاری سے جنازہ لے چلے کہ کہیں کوئی گستاخی سر زد نہ ہو جائے۔یہ جنازہ اُس قبر کی طرف لے جایا جا رہا تھا جو اُس نے آج سے پچیس برس پہلے خود اپنے ہاتھوں سے کھودی تھی۔اِس لئے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ اُس نے کسی میت کا منہ نہ دیکھا ہو گا۔موت اُس کے لئے نئی نہیں تھی۔فوجیوں نے ایک خاص مقام پر لے جا کر میت رکھ دی ۔اس کے ساتھ ہی انیس توپیں بار ی باری داغی گئیں۔بانیِ پاکستان محمد علی جناح اور جنرل محمد ضیاء الحق کے بعد یہ سعادت ایک بھکاری کے نصیب میں آئی ۔ اُس کی قبر کو فوج،رینجر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پہلے ہی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔بھکاری کو عزت و احترام کے ساتھ دفنایا گیا ۔ایسی عزت اور ایسا احترام تو بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا۔بادشاہ کے جنازے میں بھی کئی ایک منافقت سے افسردہ منہ بنائے ہوتے ہیں۔مگر اُس کا جنازہ پڑھنے والے دھاڑیں مار مار کر ایسے رو رہے تھے جیسے اُن کا باپ دنیا سے اُٹھ گیا ہو۔یہ بھی دنیا میں ایک انہونی ہو گی کہ اُس بھکاری کا نام ہزاروں بچوں کی ولدیت کے خانے میں درج ہے۔اُس کی قبر کو پھولوں سے لاد دیا گیا۔پھر باری باری عمائدین شہر آتے رہے اور اُس کے قدموں میں پھول پیش کرتے رہے۔
منظر بدلتا ہے۔۔۔۔استقبال ۔۔۔۔
برزخ کے دربان فرشتے قطار اندر قطار کھڑے ہیں۔لگتا ہے دنیا میں سے آج کوئی اہم روح آنے والی ہے۔ہلکی ہلکی چاپ ابھرتی ہے ۔ایک فرشتہ دوسرے کے کان میں سر گوشی کرتا ہے :ہیں یہ کیا۔۔۔۔یہ تو کھدر کے کرتے اور پائجامے میں ملبوس ہے ۔۔اس نے تو کفن بھی نہیں پہنا ہوا۔۔!
دوسرا فرشتہ :ہائیں۔۔۔اس کی تو آنکھیں بھی نہیں ہیں۔۔۔!
تیسرا فرشتہ :مالک کائنات اس کا مقام و مرتبہ بہتر جانتا ہے ۔۔۔یہ توپاؤں سے بھی ننگا ہے۔۔۔!
پہلا فرشتہ :اس کے ہونٹ لرز رہے ہیں۔۔۔یہ کوئی مناجات پڑھ رہا ہے۔۔۔!
کپڑے عام سے ہیں ،مگر اس کے ساتھ یہ انہونی سی خوشبو کیسی ہے؟
یکدم سارے فرشتے سیلوٹ کرتے ہیں۔وہ روح کسی کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتی اور اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھتی جاتی ہے۔
برزخ کا دروازہ کھلتا ہے ۔یہ روح سبک خرامی سے برزخ میں داخل ہوتی ہے۔بہت سی بزرگ روحیں آگے بڑھ کر اُس کا استقبال کرتی ہیں۔آنے والی روح بہت بے چین سی ہے ۔ایک بزرگ روح خوش ہوکر اُس کا بازو پکڑ لیتی ہے:مبارک ہو آئے پاکیزہ روح۔۔۔تم کچھ پریشان ہو !
:مم۔۔۔اپنے بچوں کو اکیلا چھوڑ آیا ہوں۔میرے بعد اُن کا کون پرسان حال ہو گا۔۔۔۔!
:بچے تو سبھی چھوڑ آتے ہیں مگر تم کچھ زیادہ ہی پریشان ہو ۔۔۔۔!
:ہاں ۔۔۔لوگ اپنے بچے چھوڑ آتے ہیں مگر میں اُن بچوں کی بات کر رہا ہوں جن کے ماں باپ نے بھی اُن کو اپنانے سے انکار کر دیا تھا۔انہوں نے اپنے بچوں کو کچرے کے ڈھیروں پر پھینک دیا تھا۔۔۔۔!میں اُن اپاہج بچوں کے لئے بھی پریشان ہوں جن کو میرے مالک نے ایسا بنایا ہے کہ اُن کے ناز نخرے والدین اور بہن بھائی بھی نہیں اُٹھا سکے۔
کسی نے سوال کیا:ائے پاکیزہ روح تم کہاں سے آئی ہو؟
:میں اُس وطن سے آیا ہوں،جہاں بوڑھے ماں باپ کو اولاد گھروں سے نکال دیتی ہے، کہ اْن کی وجہ سے اُن کے اپنے بچوں کی تربیت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔لڑکیوں کو گھر نکالا دے دیتے ہیں۔اُس ملک میں لوگ اپنے جسموں سے بارود باندھ کر بے گناہوں کے چیتھڑے اڑا دیتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ اس طرح وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔وہاں کچھ لوگ مدرسوں میں گھس جاتے ہیں اور بچوں کو گنوں کی باڑھ پر رکھ لیتے ہیں۔خود بھی مرتے ہیں اور معصوموں کو بھی مار دیتے ہیں۔ مرنے والے اور مارنے والے سبھی کے اعضاء ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں۔میرے بعد اب کون اُن کو کفنائے دفنائے گا؟
:بھائی یہ تم کس ملک کی بات کر رہے ہو۔۔؟
:میں اس ملک کی بات کر رہا ہوں ،جہاں انصاف بکتا ہے۔جہاں ہر روز قتل ہوتے ہیں ،قاتل دھندناتے پھرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔لڑکیوں کو زندہ جلایا جاتا ہے۔ مزدوروں کی مزدوری دبا لی جاتی ہے۔ حکم ران غریبوں کی دولت لوٹ کر ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں،ہم غریبوں کی خدمت کر رہے ہیں۔حکومت کا ہر اہلکار رشوت لیتا ہے۔لوگ سرعام جھوٹ بولتے ہیں۔کم تولتے ہیں۔وعدہ خلافی کرتے ہیں۔
:استغفراللہ ۔۔اے بزرگ روح ۔۔۔تم کس ملک کی بات کر رہی ہو۔۔۔؟
آنے والی روح کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں:میں اپنے ملک کا کیا نام بتاؤں۔۔۔ملک کا نام بہت پاک ہے۔۔۔۔
اچانک کوئی اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے جس سے آنے والی روح کا سارا اضطراب ختم ہو جاتا ہے ۔جسم میں محبت ،اپنائیت ،سرور،ابدی سکون کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔روح پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے اور دیکھتی ہی رہ جاتی ہے۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *