پا کستان کی خارجہ پالیسی۔۔۔(2)

asghar khan askari
آپ کو یاد ہو گا کہ گز شتہ سال یعنی ستمبر2015 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سا لانہ اجلاس تھا۔ اس اجلاس میں پا کستان کی نما ئندگی وزیر اعظم نو از شریف نے کی تھی۔اس عا لمی فورم کے اجتماع سے چند مہینے پہلے اسلام آبادنے پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا ،کہ پا کستان میں دہشت گر دی کر انے میں ہندوستان ملو ث ہے۔دفتر خا رجہ اور وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سر تاج عزیز نے قوم کو مژدہ سنا یا تھا ،کہ ہندوستان کے خفیہ ادارے’’ را‘‘ کے خلاف تمام ثبوت اقوام متحدہ کو دئے جا ئیں گے۔30 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلا س سے خطا ب کر تے ہو ئے وزیر اعظم نو از شریف نے ہندوستان کو امن کے لئے چا ر نکا تی فارمو لا دیا تھا۔سا تھ ہی انھوں نے اس عا لمی فورم پر ہندوستا ن کو پا کستان میں دہشت گر دی کا زمہ دار بھی ٹھرایا تھا۔اگلے روز اقوام متحدہ میں پا کستان کی مندوب ڈاکٹر ملحہ لو دھی نے ہندوستان کے خلاف تمام ثبو ت اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل بان کی مو ن کے حوالے کئے تھے۔لیکن پا کستان کی یہ تمام کو ششیں نا کا م ثا بت ہو ئی۔ اس لئے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کسی بھی ملک نے ہندوستان سے مطا لبہ نہیں کیا تھا کہ وہ پاکستان میں دہشت گر دی اور دہشت گر دوں کی معا ونت سے با ز رہیں۔کیا وجو ہات تھیں کہ پا کستان مطلو بہ نتا ئج حا صل کر نے میں نا کا م رہا؟پہلا یہ کہ پا کستان محض ہندوستان پر دبا ؤ بڑ ھنا چا ہتا تھا۔ اس لئے اسلام آباد نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے کسی بھی ملک سے سفارتی طور پر رابطہ نہیں کیا تھا، کہ ان کی مو قف کی حما یت کر یں اور ہندوستان سے مطا لبہ کر یں کہ وہ پا کستان میں دہشت گر دی بند کر دیں۔ہو نا تو یہ چا ہئے تھا کہ کسی ملک پر اتنا بڑا الزام لگا نے سے پہلے اپنے موقف کی حمایت میں چند ممالک کو راضی کیا جا تا ۔پا کستان کو اس حوالے سے چین، روس، سعودی عرب اور متحدہ عرب اما رات سے رابطہ کر نا چا ہیے تھاکہ ان میں سے کو ئی ایک ملک اسلام آباد کی مو قف کی حما یت کر تا۔لیکن اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ڈاکٹر ملحہ لو دھی،امریکہ میں پا کستان کے سفیر، دفتر خارجہ کے با بو ،مشیر خا رجہ اور خود وزیر اعظم نو از شریف ایسا کر نے میں ناکام رہے۔ اس لئے جنرل اسمبلی کے عالمی فورم پر ہندوستان پر الزامات لگا نے کے با وجو د پا کستان دلی کے خلاف یہ سفارتی جنگ ہار گیا۔اقوام متحدہ کو دئے گئے ثبو توں میں پا کستان نے ہند وستان پر یہ الزامات عا ئد کئے ہیں کہ بلو چستان میں نا راض بلو چ اور کر اچی میں ایم کیو ایم کے زریعے ’’را‘‘ دہشت گر دی میں ملو ث ہے۔اب یہی نا راض بلو چ اور ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین انگلینڈ میں بیٹھ کر اپنے ہی ملک میں تخریب کا ری کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان ابھی تک لند ن کو قا ئل نہیں کر سکا کہ ان کی سر زمین پا کستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لا نڈرنگ کے الزامات ہے۔ لیکن جس انداز سے تفتیش ہو رہی ہے اس سے اندازہ لگ رہا ہے کہ لند ن پو لیس الطاف حسین کی طبعی مو ت کا انتظار کر رہی ہے۔ رہی بات نا راض بلو چوں کی تو ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہنو ز دلی دور است۔اب معلوم نہیں کہ وزیر اعظم نو از شریف کی کیا مجبوریا ں ہیں کہ وہ لند ن سے الطاف حسین اور ان بلو چوں کے خلاف کارروائی کا مطا لبہ نہیں کر سکتے؟اسی طر ح آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان نے اسی سال یعنی ما رچ 2016 ء کوبلو چستان سے ہندوستان کا ایک جا سوس کل بھو شن یا دیو گر فتار کیاہے۔ پا کستان کے اداروں سے دوران تفتیش انھوں نے اعتراف کیا ہے ، کہ وہ ہندوستان کا حا ضر سروس فوجی افسر ہے۔لیکن سفارتی سطح پر حکو مت پاکستا نے اس معا ملے کو اٹھا نے کی زحمت گوارا نہیں کی؟آخر وزیر اعظم نو از شریف نے اس سنگین جرم کو عالمی سطح پر کیوں نہیں اٹھا یا ؟ کیا صر ف اپنے وزیر اطلا عات کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے سا تھ پر یس کا نفرنس میں بٹھا نے سے وہ اس اہم قومی فریضہ کو انجام دے چکے ہیں؟ایسا ہر گز نہیں ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کو چا ہئے تھا ،کہ وہ ایران کے ساتھ اس معاملے کو اٹھا تے۔ ان سے سفارتی سطح پر تمام معلومات اکٹھا کر تے۔پھر عالمی سطح پر ہندوستان کے خلاف بھر پور آواز اٹھا تے ۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ کسی بھی عالمی فورم پر اس معا ملے کو نہیں اٹھا یا گیا۔تا کہ عالمی برادری ہندوستان پر دبا ؤ بڑ ھا تی اور ان سے پاکستان میں دہشت گردی بند کر نے کے لئے عملی اقدامات کا مطا لبہ کر تی۔ اب یہ تو نواز شریف اور ان کے خارجہ مشیر سرتاج عزیز ہی جا نتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے لئے نر م رویہ کیوں رکھتے ہیں؟ حا لا نکہ اپنے ملک کے ان با شندوں پر تو وہ بمباری کر رہے ہیں جن کی نہ صرف ما لی معا ونت ہندوستان کر رہا ہے، بلکہ ان کی تر بیت کا احتمام بھی وہ کرتے ہیں۔اسی طر ح گز شتہ ڈیڑھ عشرے سے پا کستان امر یکہ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ڈرون حملوں کو بند کیا جائے۔لیکن گلو بل ویلج کا چو ہدری روکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ حقا نی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی پا کستان اور امر یکہ کے درمیان انکھ مچو لی گز شتہ ڈیڑھ عشرے سے ہی جاری ہے۔ لیکن اس کے با وجود امریکہ پاکستان کی مو قف سے مطمئن نہیں ہو رہا ہے۔ شمالی وزیر ستان میں جاری جنگ کے با وجود امریکہ ہل من مزید کا مطا لبہ کر رہاہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے سفارتکار ڈرون حملوں اور حقا نی نیٹ ورک کے بارے میں امریکہ کو مطمئن نہیں کر سکتے؟ ۔اسی سال یعنی مئی2016 ء کو افغان طا لبان کے امیر ملا اختر منصور کو بلو چستان میں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ لیکن وزیر اعظم نو از شریف نے امریکہ سے مطا لبہ نہیں کیا کہ ان کو پا کستان ہی میں کیوں ہلا ک کیا گیا؟ وہ تو کئی روز تک ایران میں رہے۔ وہاں کیوں ان کو نشانہ نہیں بنا یا گیا؟ وزیراعظم نو از شریف نے ایران سے بھی سخت با ز پر س نہیں کی کہ انھوں نے افغان طا لبان کے امیر کو ویزہ کیوں جاری کیا تھا؟ان تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہو ئے اندازہ ہو رہاہے کہ دہشت گر دی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ایک بہت بڑا خلیج مو جو د ہے ۔ اگر اس پر قا بو نہیں پا یا گیا تو یہ ملک ، متعلقہ اداروں اور مو جودہ جمہوری حکومت کے لئے زہر قا تل ہو سکتا ہے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *