اسرائیل میں دجال کی آمد! مسلمان خواتین قیدیوں سے کس سلوک کی اجازت دے دی ؟!

Rabbi Colonel Eyal Karim, Israeli military chief rabbi-designate, is seen in this handout picture received by Reuters from the Israeli Defence Force (IDF) Spokesperson Unit on July 13, 2016. Courtesy of IDF Spokesperson Unit/Handout via REUTERS

صیہونیت کے پیرو ایک یہودی ربی نے ایک انوکھا دجالی حکم دے دیا ہے۔ اسرائیل کی گمراہی اور اسلام دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک کے ممتاز ترین مذہبی سکالر اور حال ہی میں اسرائیلی افواج کے چیف ربی (اسرائیلی افواج کا سینئیر ترین یہودی عالم) تعینات ہونے والے یہودی عالم نے اسرائیلی فوج کو اجازت دے دی ہے کہ وہ مسلمان خواتین کی عصمت دری کرسکتے ہیں۔ شیطان کے پیروکار اس یہودی عالم کا نام ربی کرنل آیال کریم ہے، جو کہ عنقریب ریٹائرڈ ہونے والے چیف ربی بریگیڈیئر جنرل رافی پیریز کی جگہ سنبھالے گا۔پریس نیوز کے مطابق ربی آیال کریم کی تعیناتی کا اعلان پیر کے روز کیا گیا، جسے سنتے ہی دنیا میں انسانیت پر یقین رکھنے والا ہر شخص تشویش میں مبتلا ہوگیا۔ ربی آیال کریم کے اس حکم پر خود یہودیوں نے بھی سخت تنقید کی ہے۔ دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی نے اس ربی کو دجال کا بھائی اور بعض نے دجال قراردے دیا ہے ۔ اس یہودی ربی کے بے حیائی پر مبنی خیالات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ اس سے پہلے جاری کئے گئے بیانات میں بھی خواتین کو جنگ کے دوران جنسی تسکین کے لئے استعمال کرنا جائز قرارد دے چکا ہے۔ آیال کریم کے شیطانی خیالات پہلی دفعہ 2012ء میں دنیا کے سامنے آئے جب ایک اسرائیلی مذہبی ویب سائٹ KIPA نے اس سے سوال کیا کہ ’’کیا اسرائیلی فوجی جنگ کے دوران دشمن کی خواتین کی عصمت دری کرسکتے ہیں؟‘‘ ربی آیال کریم نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’اگرچہ کسی غیر یہودی خاتون کے ساتھ جنسی تعلق بہت گھمبیر معاملہ ہے، لیکن جنگ کے دوران سپاہیوں کی مشکلات کے پیش نظر اس کی اجازت ہےَ‘‘ اس نے اپنے جواب کی شرمناک منطق دیتے ہوئے کہا ’’جنگ میں ہمارا مقصد اجتماعی کامیابی ہے۔ ہمارا مذہبی صحیفہ ہمیں اجتماعی کامیابی کے لئے اجازت دیتا ہے کہ شیطانی خواہش کی تسکین کرلی جائے۔‘‘

اسرائیل میں دجال کی آمد! مسلمان خواتین قیدیوں سے کس سلوک کی اجازت دے دی ؟!” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *