ڈونلڈ ٹرمپ انسانیت کے خاتمہ کی علامت ہیں۔  نوم چومسکی

(معروف دانشور نوم چومسکی سے اخبار'دی گارڈئین' نے تفصیلی گفتگو کی ہے جو من و عن قارئین 'دنیا پاکستان'کے لیے پیش خدمت ہے)

chomsky

اینکر: کیا آپ نے برطانوی ڈاکومنٹری the Divide دیکھی ہے جس کا آپ حصہ تھے؟

چومسکی: جی نہیں ابھی تک تو نہیں

اینکر: یہ تو کافی عرصہ پہلے کی بنی ہوئی ہے پھر نہ دیکھ پانے کی وجہ؟

چومسکی: مجھ سے بہت زیادہ تر انٹرویو لیے جاتے ہیں شائد اسی لیے وقت نہیں مل سکا

اینکر : یہ فلم یو ایس اور کو کے میں عدم مساوات کے اثرات پر تبصرہ کرتی ہے۔ یہ ایک کتاب The Spirit Level پر مبنی ہے  یقینا آپ کو معلوم ہو گا۔

چومسکی: جی مجھے یاد ہے۔

اینکر: ڈاکومنٹری کے مطابق عدم مساوات کا یہ دور مارگیرٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن کے انتخاب سے شروع ہو۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟

چومسکی:جی ہاں یہ تھیچر اور ریگن کے دور میں بڑھنا شروع ہوئی۔ انہوں نے اسے آئیڈیالوجیکل فریم ورک دیا۔لیکن اصلا یہ دس سال پہلے بریٹن وُڈ سسٹم کے خاتمہ کے بعد زور پکڑنا شروع ہوئی جب یو ایس نے ڈالر کو سونےمیں تبدیل کرنے کا عمل روک دیا۔اس فیصلہ نے گلوبل اکانومی کو فائنانشلائزیشن کی طرف موڑ دیا۔

اینکر: فلم میں آپ لوگوں کے عقائد کو مذہب سے تشبیہ دیتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ یہ تو صرف کیپٹل ازم کا ایک تصور ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر دنیا اس سے کہیں زیادہ بری ہے  تو لوگوں کو اس بات کا احساس کیوں نہیں ہو رہا؟

چومسکی : مجھے لگتا ہے لوگوں کو احساس ہے۔ آپ دیکھ لیں یورپ، لاطینی امریکہ اور دوسری جگہوں پر کیا ہو رہا ہے۔ عام طور پر لوگ بہت ناراض اور بپھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصل سیاسی استحکام اختتام کی طرف گامزن ہے اور پاپولسٹ گروپ کو ہر لحاظ سے  بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ یورپ میں جمہوریت ختم ہو رہی ہے۔ آج کل فیصلے برسلز میں کیے جاتے ہیں نہ کہ ہر ملک کے اپنے پارلیمنٹ میں۔

اینکر: اسکا مطلب آپ برطانیہ کا یونین سے نکلنا بہتر سمجھتے ہیں؟

چومسکی: نہیں ایسا نہیں ہے۔ مجھے کسی بات میں بھی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن زیادہ برا فیصلہ برطانیہ کو اخراج ہو گا۔ میرے خیال میں اگر سکاٹ لینڈ علیحدہ ہو جاتا ہے تو برطانیہ  یا انگلینڈ امریکہ پر زیادہ انحصار کرنے لگیں گے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان اچھی چیزوں کو  جاری رہنا چاہیے۔

اینکر: اب آپ زیادہ پر امید ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا میں تبدیلی کی لہر اٹھ رہی ہے؟

چومسکی: جی مجھے لگتا ہے ک تبدیلی کے امکانات موجود ہیں۔ تبدیلی کے ذریعے ہم بہت بڑے مسائل سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایسا نہ بھی ہو۔ ہمیں پورا علم نہیں ہے ۔یہ ایک چائس ہے۔ابھی ہم نے سب سے بڑے مسائل پر گفتگو ہی کہا ں کی ہے۔ سب سے بڑے مسائل تو انسانیت کے وجود کا خطرہ ہیں ۔ان میں ایٹمی جنگ کا خطرہ اور ماحولیاتی تباہی کا خطرہ سر فہرست ہیں۔ یہاں اگرآپ یو ایس کے ذاتی ایجنڈوں پر نظر ڈالیں تو آپ انکے غیر عقلی نظریات سے بہت امپریس  اور حیران ہونگے۔یہاں اس وقت دو بڑے مسائل موجود ہیں۔وہ مسائل ان کے ذاتی ایجنڈوں میں شامل ہی نہیں ہیں۔

اینکر: کیا آپ کوامید ہے کہ دنیا کے سب سے امیر لوگ جیسے بل گیٹس،مارک ذکربرگ اور وارن بوفے انسانیت کی بقا کے لیے اپنی رقم میں سے کچھ خرچ کرنا پسند کریں گے؟

چومسکی :اس کے ساتھ آپ بہت بڑی ٹیکس کٹوتیاں بھی دیکھیں گے۔ دنیا میں ہمیشہ کچھ سخی امرا٫ پائے جاتے ہیں۔اس حقیقت نے مجھے کبھی فیوڈل سسٹم کا ساتھ دینے پر نہیں ابھارا۔

اینکر : ڈونلڈٹرمپ کے انتخاب کی صورت میں آپ کیا تبدیلی دیکھتے ہیں؟

چومسکی: اس بارے میں میں کچھ نہین کہہ سکتا کیوں کہ مجھے نہین معلوم ٹرمپ کیا سوچتے ہیں۔ مجھے نہین معلوم کہ اسے بھی معلوم ہوگاکہ وہ کیا سوچتا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں متضاد باتیں کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے نظریہ کے بارے میں کچھ چیزیں بہت ظاہر ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کلائمیٹ چینج واقع نہیں ہو رہی۔ جیسا کہ اس نے کہا ہے: بھول جاؤ۔ یہ ایک انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔ جو فیصلے ہم آج کرتے ہیں وہ ایک دو دہائیوں میں اپنا اثر دکھائیں گے۔ ایک دو نسلوں میں آپ اس تباہی کو بھانپ سکیں گے۔

اینکر: آپ ٹرمپ اور ہیلری میں سےکس کو منتخب دیکھنا چاہتے ہیں؟

چومسکی: اگر میرے پاس یہی دو آپشنز ہوں تو میں ٹرمپ کی مخالفت کروں گا یعنی ریاضیات کی زبان میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہیلری کو منتخب کرنا پسند کروں گا۔

اینکر :آپ کیپیٹل ازم،عدم مساوات اور سیاست کے بارے میں بہت تبصرہ کرتے ہیں۔ کیا آپ تھکتے نہیں؟ کیا آپ کبھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ آپ سے کسی اور چیز کے بارے میں سوال پوچھا جائے؟  

چومسکی: میرے نقطہ نظر سے انسانی مسائل دو طرح کے ہیں۔ کچھ انسانیت کے لحاظ سے اہم ہیں لیکن عملی طور پر بہت غیر اہم ۔کچھ عقلی طور پر بہت اہم ہیں لیکن انسانیت سے انکا کوئی خاص تعلق نہین ہے  اس لیے میں ان میں سے دوسری قسم کو ترجیح دونگا  لیکن دنیا اس طرف توجہ نہیں دیتی۔

اینکر: کبھی کبھار آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ بس بہت ہو گیا؟

چومسکی: یہ ایسا ہے جیسے آپ ایک بچے کو گلی میں دیکھیں  اور دوسری طرف سے ایک ٹرک بہت سپیڈ سے آ رہا ہو۔کیا آپ سوچیں گے کہ میں دلچسپ مسائل کے بارے میں سوچنے میں مشغول ہوں بچے کو مرنے دو؟یا پھر آُپ بھاگ کر بچے کو ٹرک کے آگے سے ہٹائیں گے؟

اینکر: اگر ہر روز آپ کو ایسا ہی منظر دیکھنے میں ملے تو آپ کیا کریں گے؟

چومسکی: یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مشہور فلاسفر برٹرینڈ رسل کو پوچھا گیا تھا کہ آُپ کیوں ایٹمی جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور مظاہروں کے دوران گرفتاری کا رسک مول لیتے ہیں؟ اس کی بجائے فلسفے اور لوجیکل مسائل پر توجہ مرکوز کیوں نہین کرتے ۔ان کا جواب بہت سادہ اور اچھا تھا۔ انہوں نے کہا: دیکھیں اگر لوگ اور میں خود صرف ان مسائل کے بارے میں بات کرنے تک محدود ہو جائیں تو میرے کام کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

اینکر: ایسے حالات میں آپ کیا کرنا  پسند کریں گے؟

چومسکی: میں چاہتا ہوں کہ سنجیدہ اور اہم اقدامات کر کے فوسل فیول کا استعمال ختم کیا جائے تا کہ ایک تسلسل والا انرجی سسٹم بنایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو موسمیاتی تباہی سے دنیا کو بچایا جا سکے۔ میں بہت جلد فوجی مقابلوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کروں گا  جو کہ بہت نقصان دہ ہیں۔اس کے ساتھ ہی میں دنیا کو ایٹمی ہتھیاروںسے پاک کرنا چاہوں گا۔ میں دنیا کے تمام ممالک کو جمہوری بنانا پسند کروں گا اور انہوں پلوٹو کریسی  (یعنی امرا٫ کے تسلط)سے نجات دلاؤں گا۔

اینکر:  آپ امیروں کے زیر تسلط ریاست کو جمہوری ریاست کیسے بنائیں گے؟

چومسکی: یہ زیادہ مشکل نہیں ہے۔یو ایس میں ایسا کرنے سے مراد اصل مقاصد کی طرف واپس لوٹنا ہے۔جان ڈیوی کے الفاظ میں جو کہ یو ایس کے 20 ویں صدی کے ممتاز سوشل فلاسفر ہیں، صنعتی،کمرشل،میڈیا اور دوسرے اداروں کے ڈیموکریٹک کنٹرول میں آنے تک یا پھر آج کل کی زبان میں سٹیک ہولڈرز کے ہاتھ میں آنے تک سیاست بڑی تجارتی شخصیات کے ذیر اثر رہے گی۔ یہی بنیادی چیز ہے اور ایسا کرنا ممکن بھی ہے۔

نوٹ: The Divideڈاکو منٹری ابھی مخصوص سینماؤں میں دکھائی جا رہی ہے اور جون کے آغاز سےیہ پورے ملک میں ریلیزکر دی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *