انتہائی مضبوط پکڑ والے روبو دستانے تیار ہوگئے

Robot Gloves

مشی گن: جنرل موٹرز اور ناسا کے ماہرین مشترکہ طور پر ایک ایسا ’’روبو دستانہ‘‘ (RoboGlove) تیار کررہے ہیں جو فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے لے کر خلاء نوردوں تک کی گرفت بہت مضبوط بناسکے گا۔ بیٹری سے توانائی حاصل کرنے والے یہ روبو دستانے، اپنے پہننے والے کے ہاتھوں کی گرفت کو 2 سے 3 گنا تک زیادہ مضبوط بناسکیں گے۔ یعنی انہیں استعمال کرنے کی صورت میں مزدور اور خلاء نورد، دونوں ہی کے پٹھوں کو کم دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں تھکن بھی کم ہوگی۔ جنرل موٹرز نے ان روبو دستانوں کی ٹیکنالوجی سویڈن کی ایک فرم ’’بایوسروو ٹیکنالوجیز‘‘ کو لائسنس پر دے دی ہے تاکہ وہ انہیں مزید بہتر بناکر، اور ان میں اپنی ’’سافٹ ایکسٹرا مسل‘‘ (SEM) ٹیکنالوجی شامل کرنے کے بعد، پیداواری مرحلے تک پہنچاسکے۔

ان دستانوں کی پوروں (fingertips) میں نصب حساسیے (سینسرز)، دباؤ محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سینسرز خودکار طور پر یہ معلوم کرتے ہیں کہ دستانے پہننے والا شخص کسی چیز کو صرف پکڑے ہوئے ہے یا اسے حرکت بھی دینا چاہتا ہے؛ اور پھر یہ دستانے میں موجود مشینی پٹھوں کی طاقت کو اسی حساب سے تبدیل کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی  اوزار کو پکڑنے کے لیے 15  سے 20 پاؤنڈ دباؤ کی ضرورت ہے تو دستانے پہننے والے کو اپنے ہاتھوں سے صرف 5 سے 10 پاؤنڈ ہی کا دباؤ ڈالنا ہوگا، باقی یہ دستانے فراہم کریں گے۔ دستانوں کو توانائی فراہم کرنے والی بیٹری، استعمال کنندہ کی کمر پر باندھی جائے گی۔ جنرل موٹرز کے مطابق، ہاتھوں کے پٹھوں کو (کام کرتے دوران) اگر زیادہ دیر تک اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑجائے تو وہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر طویل مدتی مسائل کا باعث بن سکتے ہیں جس سے مزدور کی صحت اور کارکردگی، دونوں پر برا اثر پڑسکتا ہے۔ اسی طرح خلاء کے بے وزن ماحول میں خلاء نوردوں کے پٹھے کمزور پڑجاتے ہیں اور وہ زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ روبو دستانے ان دونوں صورتوں میں اہم مددگار ثابت ہوں گے۔

فی الحال ان دستانوں کے مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی کوئی متوقع تاریخ تو نہیں دی گئی لیکن ناسا اور جنرل موٹرز کو امید ہے کہ روبو دستانے صرف خلائی اسٹیشن اور کارخانوں ہی میں نہیں بلکہ اسپتالوں میں بھی مریضوں کی بحالی میں بھی استعمال کیے جاسکیں گے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *