بھائی خواہ مخواہ

azhar khan

یار آج کے نوجوانوں کو دیکھو بہت تیز ڈرائیونگ کرتے ہیں، اوپر سے سپیکرکی ٹوٹیاں" لگا کر روڈ کے اوپر ہی اوٹ پٹانگ ڈانس کرتے رہتے ہیں۔ان کوذرا بھی" حیا" نہیں آتی۔ ہم دوست عید کے تیسر ے دن ملتان شہر سے ذرا باہر ایک معروف ریسٹورنٹ سے ڈنر کر کے واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک صاحب موٹر بائیک پر خراماں خراماں ہمارے ساتھ ساتھ دوڑنے لگے اور ہمیں مخاطب کر کے آج کے نوجوانوں کے بارے میں اپنے خیالات سے آگا ہ کرنے لگے، اب ہم سب نے باری باری ان صاحب کو دیکھا کہ شاید ہم میں سے کسی کے جاننے والے ہوں گے ، لیکن کوئی واقفیت نہ نکلی ، اور میرے ایک دوست نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی تو وہ پرجوش ہو کر ، گئیر لگا کر کہنے لگے دیکھو اب آ پ سب بھی جوان ہو ، لیکن آپ لوگ کتنے سکون سے ڈرائیو کر رہے ہو اور میں بھی آپ کی طرح پر سکون طریقے سے جا رہا ہوں ، ہمارے ملک کے ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہماری نوجوان نسل ہر کام تیز رفتاری سے کرنا چاہتی ہے اور شارٹ کٹ کے چکر میں پڑی رہتی ہے، تھوڑا سا صبر نہیں ہوتا ان سے ، اب دیکھو یہ تیز رفتاری اور ون ویلنگ کیوں کرتے ہیں تا کہ یہ لڑکیوں کو متاثر کرسکیں پھر ان کے ساتھ موبائل پیکج اور میسجز پر سارا سارا دن گپ شپ کرنے میں مصروف رہتے ہیں ،تو ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔ باہر کے ممالک سائنس میں ترقی کرنے میں مصروف ہیں اور ہمارے نوجوان روڈز پر لڑکیوں کو متاثر کرنے میں مصروف ہیں۔ میرے دوست نے مسکراتے ہوئے پھر ان کی ہاں میں ہاں ملائی، یہ ساری گفتگو رات کے دس بجے ایک ایسے روڈ پر دوڑتے ہوئے ہو رہی تھی جہاں ہمارے ارد گرد بہت تیز رفتاری سے گاڑیاں گزر رہیں تھیں ، میں نے اپنے دوست کو کہا کہ وہ سپیڈ تیز کرے اور آگے نکلے، لیکن وہ صاحب بھی ہم سے تیز نکلے اور انہوں نے ہمارے ارادے بھانپتے ہی اپنی سپپیڈ بڑھائی اور ہمیں تھوڑی دور جا کر پکڑ لیا اور پھر کہنے لگے کہ آج کل کے دور میں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کی بات سن سکے لیکن آپ لوگ بہت اچھے ہیں کہ آپ بے شک میری باتیں مانیں یا نہ مانیں لیکن سن تو رہے ہیں ناں، باقی میں بات کرتا ہوں کھری ، سولہ آنے کی ، چاہے کسی کو کڑوی لگے یا میٹھی۔ میرے دوست نے شرارتاًان کی تھوڑی سی مزید تعریف کر دی کہ آپ اچھی باتیں کر رہے ہیں تو انہوں نے اپنی بتیسی نکالی اور پھر ملکی سیاست پر داؤ پیچ لڑانے شروع کر دیے۔ اور سب سیاستدانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے اپنی ماہرانہ رائے سے ملکی مسائل کا حل بتانے لگے، سچ پوچھیں توایک ہی وقت میں غصہ بھی آرہا تھا او ر ہنسی بھی آرہی تھی کہ کس بھائی سے واسطہ پڑ گیا جو بغیر کسی جان پہچان کے اور تعارف کے بے تکلفی سے باتیں کیے جارہا ہے ۔ تقر یبا پندرہ منٹ کی گفتگو شہر کے قریب آ کرختم ہو ئی ، اس دوران نہ انہوں نے ہمارا نام پوچھا اور نہ ہم نے ان کا، شہر کی بھول بھلیوں میں آکر وہ صاحب خود ہی رفو چکر ہو گئے اور ہم نے مشترکہ اور متفقہ طور پر ان کا نام " بھائی خواہ مخواہ " رکھ دیا۔
ہمارے ارد گرد بہت سے بھائی خواہ مخواہ پائے جاتے ہیں ، کسی چائے کے کھوکھے پہ چلے جائیں، کسی لائبریری، پارک یا سینما میں چلے جائیں تو وہاں پہ بھی نظر آئیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک سینما میں فلم دیکھنے گیا تو فلم کے ایک سین میں ہیرو نے ایک انتہائی مزاحیہ ڈائیلاگ بولا تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب نے باریک آواز میں زور دار قہقہہ مارا اور لوٹ پوٹ ہوگئے،ان کے قہقہے پہ مجھے بھی ہنسی آگئی ،پہلے تو و ہ کافی دیر ڈائیلاگ پر ہنستے رہے پھر مجھے تھوڑا سا ہیرو کی بائیو گرافی بتائی اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنا ہاتھ آگے لا کر زور سے میرے ہاتھ پہ مارا اور پھر زور دار آواز میں باریک قہقہہ لگایا، اور پھر پوری فلم میں جب بھی کوئی ایسا سین آتا تو وہ فورا سے مجھے مخاطب کرتے اور زور سے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے اور قہقہہ لگاتے۔ ایک بار میں نے ان کی بات ان سنی کی تو انہو ں نے خود ہی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنا ہاتھ مارا اور پھر انہیں سکون آیا۔
"خواہ مخواہ بھائی"کبھی کبھار اچھے اچھے کام بھی کرتے ہیں اوران کے معمولات میں تین انتہائی اہم فرائض بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیسے اگر آپ بائیک پہ جا رہے ہوں اور غلطی سے آپ کی ہیڈ لائیٹ جل رہی ہو اور آپ کے سامنے سے کوئی آرہا ہو تو تھوڑا سا قریب آتے ہی وہ اپنے ایک ہاتھ کی چاروں انگلیاں انگوٹھے کے ساتھ گول سرکل میں ملا کر تین ، چار بار اشارہ کرے گا، تب آپ سمجھ جائیے کہ وہ آپ کو ہیڈ لائٹ بند کرنے کے بارے میں بتا رہا ہے۔ اور اگر آپ کو پیچھے سے کراس کر کے کوئی صاحب وہی اشارہ کریں تو سمجھ جائیے کہ آپ کا دایاں یا بایاں اشارہ غلط طریقے سے چل رہا ہے۔راہ چلتے اگر کسی لڑکی یا خاتون کا دوپٹہ تھوڑا سا نیچے لٹکا ہوا ہو تو یہ فورا سے قریب پہنچیں گے اور انتہائی شریفانہ لہجے میں فورا کہیں گے کہ باجی دوپٹہ اوپر کر لیں، اور تیسرا انتہائی اہم فرض یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کی بائیک چلاتے ہوئے آپ کے سٹینڈ کا رخ نیچے کی طرف ہے تو فورا سے آپ کو کہیں گے کہ بھائی جان سٹینڈاوپر کر لیں۔
اور آج کل تو سوشل میڈیا پر بھی یہ بھائی بہت ایکٹو رہتے ہیں۔ لڑکیوں کی پوسٹ پر سب سے زیادہ کمنٹ یہی خواہ مخواہ بھائی کر رہے ہوتے ہیں۔اگر کسی لڑکی کا سٹیٹس آجائے کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو یہ بھائی اتنی تابعداری، فرماں برداری سے اس کا حال پوچھتے ہیں اور ایسے ایسے شاندار مشورے دیتے ہیں کہ ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر تک حیران رہ جاتے ہیں، کہ آخر اسے یہ بات کیوں پتہ نہیں تھی ۔ اگر آپ نے فیس بک پرانتہائی سیریس بات لکھی ہے تو خو اہ مخواہ بھائی ہا ہاہاہا لکھ کر کمنٹ کر دیں گے اور آپ ان کی سادہ لوحی پر دھاڑیں ما ر ما کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک ایسے ہی خواہ مخواہ بھائی مجھے جھنگ میں ملے۔ 2012 میں ایک سرکاری ادارے کے ساتھ جھنگ میں تعینات تھا ۔ ان دنوں فلڈ پلان کے حوالے سے کافی مصروف تھا اور اکثر اوقات رات دو بجے کے بعد ہی سونے کی فرصت ملتی، ایک ایسے ہی دن کام کرنے کے بعد رات دو بجے آنکھ لگی توتقریبا آدھنے گھنٹے بعد موبائل فون کی مسلسل بجتی ہوئی گھنٹی کی وجہ سے بیدار ہو گیا ، بادل نخواستہ انجان نمبر دیکھ کر بھی کال اٹینڈ کی کہ خدانخواستہ کوئی غیر متوقع صورتحال نہ ہو جس کی وجہ سے کوئی صاحب اس وقت کال کر رہے ہیں، جیسے ہی کال اٹینڈ کی تو محترم نے اپنا تعارف یوں کروایا ، سر آپ سے دو مہینے پہلے فلاں جگہ ملاقات ہوئی تھی اور میں نے آپ سے فلاں فلاں بات بھی کی تھی، میں نے ہوں ہا ں میں جواب دیا اور پوچھا خیریت تو تھی آپ نے اس وقت کال کی تو جواب ملا اصل میں میں کھیتوں کو پانی دینے آیا ہوا تھا اور ٹریکٹر پر گانا لگا ہوا تھا پردیسی ڈھولا، شالا جیویں ڈھولا، تو اچانک آپ کی یاد آگئی اس لیے آپ کو کال کی آپ سنائیں اس وقت کیا کر رہے تھے اور کبھی ہمیں بھی یاد کر لیا کریں، اب آپ خود ہی سوچیں کہ اس صورتحال میں کیا بہترین جواب دیا جا سکتا ہے۔ بہر حال اس دن کے بعد معمول بنا لیا کہ رات کو سونے سے پہلے موبائل کومکمل طور پر سائیلنٹ حالت میں لگا لیتا ہوں اور بہت چین کی نیند سوتا ہوں۔
خواہ مخواہ بھائیوں کی پہچان یہ ہے کہ یہ آپ سے بغیر تعارف اور جان پہچان کے آپ سے انتہائی بے تکلفی سے بات کریں گے، آپ کو چائے بوتل کی آفر بھی ضرور کریں گے بشرطیکہ بل آپ بھریں اور آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد بغیر تعارف کے وہاں سے غائب ہو جائیں گے۔اگر آپ کا کسی خواہ مخواہ بھائی سے رابطہ ہو توآپ بھی اس کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے خواہ مخواہ بھائی بن جائیں ، خواہ مخواہ قہقہے لگائیں، پھر وہ آپ کو اپنے جیسا سمجھ کر خواہ مخواہ ہی وہاں سے چلے جائیں گے دوسری صورت میں اگر آ پ نے ان کو تھوڑا سا توجہ سے وقت دیا یا ان کو زیادہ سیریس لیا تو وہ خواہ مخواہ آپ کو اپنے سنہری اقوال، قیمتی ارشادات، ناقابل بیان لطیفوں اور لا حاصل تجزیوں سے لطف اندوز کریں گے ۔ اور آپ کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش کریں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *