سابق آرمی چیف پر تنقید

Najam Sethiنجم سیٹھی

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے بی بی سی کو ایک غیر معمولی انٹرویو دیتے ہوئے اُس موضوع پر روشنی ڈالی جس نے تجزیہ کاروں کوپریشان کررکھا تھا کہ جب تمام ملکی و غیر ملکی افراد، دوست یا دشمن ، فوج سے توقع کررہے تھے کہ وہ 2010-11ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کرتے ہوئے اسے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی محفوظ جنت بننے سے بچائے گی تو سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے اس مہم میں قدم رکھنے سے کیوں اجتناب کیا؟یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بقول جنرل اطہر عباس، فوج کے فارمیشن کمانڈروں کی بالعموم رائے یہی تھی کہ اس علاقے میں جلد از جلد آپریشن ہونا چاہئے تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو روکا جاسکے۔بعد میں پیش آنے والے واقعات نے ثابت کیا کہ ایسا ہونا چاہئے تھا کیونکہ دہشت گردوں کے ہاتھوں دفاعی اداروں اور عام شہریوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور اُن دہشت گردوں کا مرکزی ٹھکانہ شمالی وزیرستان ہی تھا۔
جنرل اطہر عباس نے اُن عوامل کی بھی وضاحت کی جن کی وجہ سے جنرل کیانی کو اپنا ہاتھ روکنا پڑا۔ ان میں سے سب سے پہلا یہ کہ سابق آرمی چیف کے ذہن میں یہ خدشہ تھا کہ فوجی آپریشن کی صورت میں کچھ جنگجو گروہ اور قبائلی دھڑے جو کسی نہ کسی حوالے سے دفاعی اداروں کے حامی ہیں، فوج کے خلاف ہو کر انتہا پسندوں سے جاملیں گے۔ اس لئے دشمن کو تقویت دینا دانائی نہیں۔ کیانی صاحب کے ذہن میں یہ الجھن بھی پائی جاتی تھی کہ اس علاقے میں موجود حقانی نیٹ ورک کے غیر ملکی جنگجوئوں کو کیسے نکالا جائے گا اور پھر فوجی آپریشن کی صورت میں آئی ڈی پیز کی ایک بڑی تعداد کی دیکھ بھال کیسے کی جائے گی؟تیسرے، اُنہیں یہ بھی فکر تھی کہ فوجی آپریشن کے ردعمل میں شہروں میں ہونے والی دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کو حکومت کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں روک پائیں گے اور شہریوں کا زیادہ نقصان ہوجائے گا۔ چوتھے، قومی اتفاق ِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے آرمی چیف کو ڈر تھا کہ مذہبی جماعتیں انتہا پسندوں کے حق میں اٹھ کھڑی ہوں گی۔ پانچویں یہ کہ ان کے ذہن میں یہ خدشہ بھی ضرور ہوگا کہ وہ بھی ذاتی طور پر پرویز مشرف کی طرح دہشت گردوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل عباس سچ بول رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کو دو مزید حقائق سہارا دیتے ہیں۔ پہلا، مارچ 2011ء میں شمالی وزیرستان میں تعینات فوج کی ساتویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل غیور محمود نے کچھ مخصوص میڈیا نمائندگان کو بتایا ....’’امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بہت زیادہ دروغ گوئی سے کام لیا جاتا ہے کہ وہ عام شہری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں مارے جانے والے زیادہ تر سخت جان جنگجو اور انتہا پسند ہی ہوتے ہیں‘‘۔ میجر صاحب کا یہ بیان عوامی سطح پر پھیلائے جانے والے اُس تاثر کی نفی کرتا تھا کہ ڈرون حملے دہشت گردی کی اصل وجہ ہیں کیونکہ ان میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ اس پر بالغ نظر تجزیہ کاروں نے کہا کہ میجر جنرل غیور محمود کا بیان اتفاقی نہیں بلکہ بہت سوچ سمجھ کر دیا گیا ہے اور اس کا مقصد امریکیوں سے تعاون کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لئے راہ ہموار کرنا ہے تاہم اس کے بعد پس ِ منظر پر دھند سی چھا گئی اور غیورصاحب کہیں ’’لاپتہ‘‘ ہوگئے۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ کیا گیا فیصلہ آخری لمحے تبدیل ہوگیا ۔ دوسرا بیان واشنگٹن سے آیا جہاں امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن ، جو کیانی صاحب کی دوستی کے دعویدار بھی تھے، نے اس بات کی تصدیق کی کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہونے جارہا ہے تاہم ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر مسٹر مولن نے بہت تلخ باتیں کیں اور جنرل کیانی پر الزام لگایا کہ اُنہوں نے اُن کے ’’اعتماد‘‘ کو ٹھیس پہنچائی اور آپریشن کرنے کا وعدہ کرکے اس پر قائم نہ رہے۔ جنرل اطہر عباس کا بیان دراصل جنرل کیانی کی ’’ٹھوس حکمت ِ عملی‘‘ پر ایک چارج شیٹ ہے۔ آج تین سال بعد دہشت گرد عوام اور سیکورٹی اداروں کو بہت سا جانی نقصان بھی پہنچا چکے ہیں اور اُنہوں نے اپنے قدم بھی مضبوط کر لئے ہیں۔ اس طرح ریاست کو اُس حکمت ِ عملی یا اس کو جو بھی نام دیا جائے، کی بھاری قیمت چکانا پڑی ۔ صورت حال کی اس سے زیادہ وضاحت کوئی جملہ نہیں کرسکتا... ’’جس معاملے پر جنرل کیانی چھ سال تک تذبذب کا شکار رہے، اس پر جنرل راحیل شریف نے چھ ماہ میں ہی فیصلہ کرلیا۔ قوت ِ فیصلہ کا ثبوت یہ ہے کہ آپ اہم اور غیر اہم معاملات میں امتیاز کرنے کے قابل ہوں‘‘۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جبکہ فوجی آپریشن کیا جا رہا تھا، جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ان کا کہنا ہے کہ انٹرویو میں یہ سوال پوچھا گیا تھا اور اُنہوں نے سچ بولنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کی۔
ایسا لگتا ہے کہ 2011ء میں جنرل غیور کی طرح جنرل عباس کو بھی ’’اوپر‘‘ سے سبز جھنڈی دکھائی گئی ہے۔ جنرل راحیل شریف بہت حد تک جنرل کیانی کے قائم کردہ نظام کو ہی چلارہے ہیں۔ بہت سے کور کمانڈر اور خفیہ اداروں کے افسران بھی وہی ہیں جو کیانی صاحب کے دور میں تھے۔ اس لئے شاید ضروری ہوگیا تھاکہ سابق ٹاپ کمان کی کمزوری کو آشکار کرتے ہوئے ان تمام افسران کے درمیان اتفاق پیدا کیا جائے کیونکہ موجودہ مشن میں مکمل یکسوئی درکار ہے۔ اس سے عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دینا مقصود ہوسکتا ہے کہ اب فوج دہرا کھیل نہیں کھیل رہی۔ یہ پیغام دنیا کو بھیجنے کے لئے بی بی سی سے بہتر کون سا ذریعہ ہوسکتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *